دنیا کا وہ ملک جہاں سب سے زیادہ خواتین کو انہیں دیکھ کر سیٹی بجانے والے مرد اچھے لگتے ہیں

دنیا کا وہ ملک جہاں سب سے زیادہ خواتین کو انہیں دیکھ کر سیٹی بجانے والے مرد ...
دنیا کا وہ ملک جہاں سب سے زیادہ خواتین کو انہیں دیکھ کر سیٹی بجانے والے مرد اچھے لگتے ہیں

  

کوپن ہیگن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں خاتون کو دیکھ کر سیٹی بجانا اپنی شامت لانے کے مترادف ہے لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں کی خواتین کو عورتوں کو دیکھ کر سیٹی بجانے والے مرد اچھے لگتے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ملک ڈنمارک ہے۔ ایک حالیہ سروے میں معلوم ہوا ہے کہ ڈنمارک میں دنیا میں سب سے کم حقوق نسواں کی علمبردار خواتین (feminists)پائی جاتی ہیں اور اس ملک میں ’می ٹو‘ (Me Too) جیسی مہم کی بھی انتہائی کم حمایت پائی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ سروے YouGov-Cambridge Globalism Projectکی طرف سے کیا گیا ہے، جس میں دنیا بھر کے ممالک میں تحریک نسواں (Feminism)سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرکے تجزیہ کیا گیا اور نتائج مرتب کیے گئے، جن میں بتایا گیا کہ ڈنمارک میں ہر تین میں سے ایک خاتون کو عورتوں کو دیکھ کر سیٹی بجانے والے مرد اچھے لگتے ہیں اور ہر10میں سے صرف ایک عورت حقوق نسواں کے نظرئیے پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر پانچ میں سے ایک ڈینش شہری نے اس سروے میں ’می ٹو‘ کی حمایت کی۔ یہ شرح پوری دنیا میں سب سے کم ہے۔ڈنمارک کی 37سالہ خاتون ہیلین فروسٹ ہینسن نے سروے میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”مجھے حقوق نسواں کے نظرئیے کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ مرد اور عورت ہر پہلو سے کیسے برابر ہو سکتے ہیں؟جو فرق فطرت نے مرد اور عورت کے درمیان رکھا ہے اسے حقوق نسواں کی تحریک چلانے والے کیسے دور کر سکتے ہیں؟“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -