کورونا کے مریضوں سے ناروا سلوک

کورونا کے مریضوں سے ناروا سلوک

  

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے متاثرین کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے یہ طرزِ عمل ناقابل ِ برداشت ہے اور خوف کا موجب بنتا ہے،جو حضرات کورونا کی علامات محسوس کریں وہ فوری اور بلا تاخیر ٹیسٹ کے لئے رجوع کریں۔ وزیراعظم نے عوام میں خوف اور ہچکچاہٹ دور کرنے کے لئے ایک جامع اور بھرپور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور مربوط حکمت ِ عملی جلد مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حساب سے پاکستان میں حالات دُنیا کے اکثر ممالک کے مقابلے میں قابو میں ہیں، حفاظتی تدابیر اختیارکرنے اور عوام میں اعتماد پیدا کرنے سے صورتِ حال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

جب سے وبا پھیلی ہے آئسولیشن سنٹروں اور قرنطینہ مراکز میں مشتبہ لوگوں اور مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ہسپتالوں میں داخل مریض بھی اکثر و پیشتر شاکی ہی نظر آئے،اِس طرزِ عمل کے خلاف آئسولیشن کے مراکز میں رکھے گئے مریضوں نے کئی شہروں میں احتجاج بھی کیا۔ یہ شکایت بھی کی گئی کہ وہ جب سے مرکز میں ہیں انہوں نے کسی ڈاکٹر کونہیں دیکھا، کھانے کو بھی ناقص قرار دیا گیا۔ ایک ہسپتال میں مریض کو بستر سے باندھنے کی شکایت بھی منظر عام پرآئی، جو بالآخر انتقال کر گیا،ہسپتال کی انتظامیہ اور ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ یہ مریض نفسیاتی امراض کا شکار تھا اور وارڈ میں شور و غوغا کر کے باقی مریضوں کے لئے باعث ِ پریشانی بنا ہوا تھا اور بار بار بستر سے اُٹھ کر اِدھر اُدھر جانے لگتا تھا، اِس لئے اس کی شوریدہ سری کا علاج بستر کے ساتھ باندھنے میں تلاش کیا گیا، وارڈ میں داخل مریضوں کا کس طرح علاج کرنا ہے یہ ڈاکٹر کا حق ہے،لیکن اگر کوئی ڈاکٹر دورانِ علاج اپنے مریض کے مرض میں افاقے کا باعث نہیں بنتا اور اس کے لئے زیادہ تکلیف دہ صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے تو مریض کسی نہ کسی انداز میں ردعمل تو دیتا ہی ہے، اور اگر واقعتا کسی کا دماغی توازن درست نہ ہو تو اس سے متشدد رویئے کی توقع بھی کی جا سکتی ہے،لیکن ڈاکٹروں سے بہرحال یہی امید رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے مریضوں سے نرم رویہ ہی اختیار کریں،لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ عام حالات میں بھی ہسپتالوں میں مریضوں، اُن کے لواحقین اور ڈاکٹروں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں،توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی نوبت بھی آ جاتی ہے ایسے واقعات تیزی سے بڑھ بھی رہے ہیں، مریضوں سے لڑائی نہ ہو تو ڈاکٹر اپنے مطالبات منوانے کے لئے بھی بسا اوقات ایسا رویہ اختیار کر لیتے ہیں، جو نرم سے نرم الفاظ میں قابل ِ تائید نہیں ہوتا۔

جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ ہے۔سرکاری اداروں اور اُن کے ملازمین پر بھی ایسی ہی کیفیت طاری ہے،ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے دھرنا دیا ہوا تھا،ایسے اقدامات اُسی وقت کئے جاتے ہیں جب معمول کے طریقوں سے، یا دلائل کی قوت سے، کوئی مطالبہ نہ مانا جائے اور مسئلہ پیچیدہ ہو کر ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں اناؤں کی خلیج حائل ہو جاتی ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ ڈاکٹر ہی مرض کے خلاف فرنٹ فٹ پر لڑنے والی قوت ہیں،اِس لئے اُن کے مسائل پر زیادہ بہتر انداز میں توجہ دی جانی چاہئے تھی،لیکن ایسا نہیں کیا گیا یا جو کچھ کیا گیا ڈاکٹر اس سے مطمئن نہ ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر اور دوسرا طبی عملہ خود بھی وائرس کا شکار ہوتا رہا اور کئی سینئر ڈاکٹر تو موت کے منہ میں بھی چلے گئے۔کراچی میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ بھی ہوا، جس پر آج تک رنج والم کی کیفیت ہے، کسی ڈاکٹر کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت واقعہ ہو جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عام مریضوں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔وزیراعظم نے تو ناروا سلوک کی شکایت کا نوٹس اب لیا ہے،لیکن میڈیا اور اخبارات میں ایسے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں،ہمارا نظام صحت اگر ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوتا تو متعلقہ حکام اسی وقت نوٹس لے سکتے تھے اور شکایات کا ازالہ ہو سکتا تھا،لیکن جو کام ہسپتالوں کی انتظامیہ کی سطح پر ہونا چاہئے تھا یا زیادہ سے زیادہ صوبائی حکومتیں یہ کام کرتیں، حیرت ہے کہ وزیراعظم کو بنفس ِ نفیس اس کا نوٹس لینا پڑا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمارے ادارے اور اُن سے وابستہ افراد اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کر رہے ہوتے تو وزیراعظم کو اس کا نوٹس لینے کی ضرورت نہ پڑتی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی تمام معاملات درست ہو جائیں گے؟

ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ کسی ہسپتال میں کھانسی نزلے کے مریض کا انتقال ہو گیا، تو اُسے کورونا کا مریض سمجھ کر میت لواحقین کے حوالے نہ کی گئی اور پولیس کی نگرانی میں دفن کر دیا گیا، تدفین کے بعد پتہ چلا کہ مریض کا جو ٹیسٹ مرنے سے پہلے لیا گیا تھا، موت کے بعد اس کا نتیجہ منفی آیا، میت کے لواحقین ساری عمر اِس بات پر افسوس کا اظہار کرتے رہیں گے کہ اُن کے مریض کو بلاوجہ کورونا کے کھاتے میں ڈال کر اُس کی تجہیز و تکفین سے بھی دور کر دیا گیا، ایسے بہت سے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مریض ہسپتالوں سے خوش دِلی سے رجوع نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ ناروا سلوک کی شکایت کرتے پائے جاتے ہیں،جس کی تصدیق وزیراعظم نے خود کر دی ہے۔قرنطینہ مراکز میں ناروا سلوک کی شکایت تو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی کی ہے، جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے نام اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ قرنطینہ سنٹروں میں مشتبہ مریضوں کے ساتھ اہلکاروں کی جانب سے بدتمیزی اور بعض جگہوں پر تشدد کی شکایات سامنے آئی ہیں، اب دیکھنا ہو گا کہ سپیکر کی شکایت پر وزیراعلیٰ کیا قدم اٹھاتے ہیں ویسے تو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے علم میں ایسے واقعات پہلے ہی ہوں گے، کیونکہ ایسی شکایات میڈیا میں آتی رہتی ہیں،لیکن اب ایک ذمے دار شخصیت کی جانب سے خط لکھنے کے بعد وزیراعلیٰ کا فرض ہے کہ وہ اس جانب توجہ فرمائیں۔

وزیراعظم نے عوام الناس میں جو اعتماد پیدا کرنے کی بات کی ہے وہ حالات و واقعات کے خوشگوار تسلسل ہی سے پیدا ہو سکتا ہے۔اگر مریضوں اور مشتبہ افراد کے ساتھ اچھوتوں جیسے سلوک کی شکایات سامنے آتی رہیں گی اور ان کا بروقت ازالہ نہ ہو گا تو اعتماد کس طرح پیدا ہو گا،پھر تو یہی ہو گا کہ لوگ ٹیسٹ کرانے سے گریز کرتے رہیں گے۔غریب غُربا معمول کے حالات میں بھی علاج معالجے سے گریزاں ہی رہتے ہیں۔کورونا کا خوف اور اوپر سے ناروا سلوک اُنہیں کس طرح ہسپتالوں سے رضا کارانہ طور پر رجوع کرنے پر راغب کر سکتا ہے؟وزیراعظم کی ہدایات کے بعد اگر بہتری آتی ہے تو شاید عوام میں اعتماد بھی پیدا ہو جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -