ڈینگی اور پولیو جیسی کورونا ٹیسٹ مہم کی ضرورت

ڈینگی اور پولیو جیسی کورونا ٹیسٹ مہم کی ضرورت

  

پاکستان سمیت دُنیا بھر کے ممالک نے لاک ڈاؤن میں نرمی شروع کر دی ہے،دوسری طرف اب تک یہ طے نہیں ہو پا رہا کہ کورونا کیا اور اس کی کتنی اقسام ہیں،کیونکہ دُنیا کے مختلف خطوں میں کورونا کی نوعیت بھی ایک دوسرے سے مختلف پائی گئی ہے،حتیٰ کہ صحت یاب ہونے والوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات بھی الگ الگ ہیں، اب عالمی ادارہئ صحت کی طرف سے ایک نئی وضاحت سامنے آئی ہے، اس کے مطابق اگر کورونا سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہونے والے فرد کا ٹیسٹ پھر سے مثبت آئے تو اُس کے کورونا کا مریض ہونا کوئی ضروری نہیں،بلکہ یہ تحقیق ہوا ہے کہ ایسا فرد پھیپھڑوں سے مردہ مواد باہر نکال رہا ہوتا ہے۔عالمی ادارہئ صحت نے اس حوالے سے مزید کہا، البتہ یہ تحقیق طلب ہے کہ ایسا مریض کسی دوسرے کو وائرس منتقل کر سکتا ہے کہ نہیں؟ اِس کے علاوہ جو بات تحقیق کے لئے قدرے تسلی بخش ہے وہ یہ کہ اب تک کی رپورٹ کے مطابق صحت یاب ہونے والوں کی بھاری ترین اکثریت اُن افراد اور مریضوں پر مشتمل ہے جو ابتدائی علامات ہی کے دوران علاج کے لئے آئے۔ایسی تحقیق اور خبروں سے یہ امر اور حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اب تک پاکستان میں جو متاثرین صحت یاب ہوئے ان کی بھاری اکثریت بھی ان افراد پر ہی مشتمل ہے جو ابتدائی علامات کے بعد فوراً علاج کے لئے لائے گئے اور ان کا علاج شروع ہو گیا، اور یہ لوگ روایتی اور دستیاب ادویات ہی سے صحت یاب ہوئے۔اِس سلسلے میں پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد ریکارڈ پر ہیں کہ میو ہسپتال سے صحت یاب ہونے والے مریض روایتی ادویات ہی سے تندرست ہوئے۔ اِن حالات میں یہ امر واضح ہو گیا کہ کورونا ٹیسٹ بہت اہمیت رکھتا ہے اور اس کے لئے بھی مہم چلانا ہو گی اور حکومت کو پولیو مہم کی طرح یہ بھی منظم کرنا ہو گی کہ طبی عملہ یونین کونسلوں کی سطح تک جا کر عوام کے ٹیسٹ کرے اور متاثرین کے علاج اور قرنطینہ کا انتظام کیا جائے۔یہ امر بھی ثابت ہے کہ اس وبا سے نجات میں وقت لگے گا اور اسی بنیاد پر لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے کہ عام اور معاشی سرگرمیاں شروع ہونے سے طاری جمود ٹوٹے اور خوف سے بھی نجات ملے،لیکن اس ہی سے یہ بھی خطرہ ہے کہ عام لوگوں کی لاپرواہی سے یہ زیادہ پھیل کر بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں یوں بھی لاپرواہی کا عنصر بہت زیادہ ہے، لوگ لاک ڈاؤن میں حفاظت کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ چہ جائیکہ اب نرمیاں دی گئیں۔ انہی خدشات کی وجہ سے سمجھدار لوگ مزید لاک ڈاؤن کے حق میں ہیں تاہم یہ حکومت کی اپنی سوچ ہے کہ بتدریج حالات کو معمول پر لایا جائے۔حکومت کے ان اقدامات کے باعث ان حضرات کو بہت تقویت ملی جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عبادت کے لئے کھلی اجازت کے قائل اور حفاظتی تدابیر کی پرواہ نہیں کرتے۔ یہ حالات خطرناک ہیں اور ان پر غور کی ضرورت ہے،اِسی لئے یہ تجویز بہتر اور برمحل ہے کہ ڈینگی اور پولیو کی طرح ٹیمیں بنا کر یونین کونسل کی سطح پر عام ٹیسٹ کئے جائیں تاکہ متاثرین کو الگ کر کے علاج ہو سکے۔ یہ مشکل ضرور ہے،لیکن ناممکن نہیں۔وفاقی حکومت اور قومی سلامتی کونسل کو اس پر غور کرنا چاہئے اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ایک مربوط اور مرحلہ وار طریقے سے اس پروگرام اور تجویز پر عمل کرنا ضروری ہے کہ اسی طرح وبا پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔دوسری صورت میں پھیلاؤ بڑھے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -