تارکین وطن اور کورونا

تارکین وطن اور کورونا
تارکین وطن اور کورونا

  

پاکستان پر جب بھی کبھی کڑا وقت آتا ہے تو بیرون ملک مقیم پاکستانی تارکین وطن نے ہمیشہ پاکستان کی پکار پر لبیک کہا اور اپناتن من دھن سب کچھ ملک پر لٹانے کا اعلان کیا اور ہمیشہ اس کا عملی ثبوت دیا۔ ماضی میں قرض اتارو ملک سنوارو سکیم ہو یا شمالی علاقہ جات میں آنے والا زلزلہ ہمییشہ تارکین وطن نے اپنی محنت سے کمائی گئی دولت کو ملک کی خاطر لٹانے میں ذر ا عار محسوس نہ کی۔انہوں نے کبھی یہ سوال بھی نہ کیا کہ ہماری محنت سے کمائی گئی دولت کو درست طریقے سے بھی استعمال کر رہے ہو یا نہیں یا صرف اس سے اپنی جیبیں بھر رہے ہو ان کے سامنے جس بھی پاکستانی لیڈر نے دست سوال دراز کیا انہوں نے اسے خالی ہاتھ نہ لوٹایا۔ وزیراعظم عمران خان نے جب شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر کرنا تھی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور انہیں پیسوں میں تولا جس کی بدولت عمران خان شوکت خانم جیسا ہسپتال تعمیر کرنے میں کامیاب ہوئے اور اسی شوکت خانم کو اپنا پائلٹ پراجیکٹ بنا کر پیش کرتے رہے جس کی وجہ سے آج خان صاحب وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہیں۔

کورونا وائرس کے دوران بھی جب ملک کو پیسوں کی ضرورت پڑی تو وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آواز دی اور دیار غیر میں مقیم ہمارے ان بھائیوں نے بلا کسی تردد اپنی دولت خان صاحب کے قدموں میں نچھاور کر دی تا کہ پاکستان میں مقیم ان کے بھائی بہن امن و سکون کی زندگی گزار سکیں۔ لیکن بدلے میں ہماری ریاست ان کے ساتھ کیا کر رہی ہے وہ ہرگز ان کی قربانیوں کے شایان شان نہیں ہے۔ پہلے تو کورونا وائرس کے دوران بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں نے جب وطن واپس آنا چاہا تو ان کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے۔ کیوں کہ پوری دنیا میں فلائٹ آپریشن بند ہو چکا تھا اس لئے ہر ملک کی کوشش تھی کہ وہ اپنی قومی ایئر لائنز کے ذریعے بیرون ملک پھنسے لوگوں کو اپنے وطن واپس لا سکے۔ہزاروں پاکستانی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو بیرون ملک پھنس گئے۔ ان میں وہ ہر طرح کے لوگ شامل تھے ایک جو کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہو چکے تھے، کچھ طلبہ تھے، کچھ بیرون ملک گئے اور کسی ٹرانزت فلائٹ کی وجہ سے تیسرے ملک پھنس گئے، کچھ کاروباری مقاصد کیلئے بیرون ملک مقیم تھے۔کیوں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک دم سے فلائٹ آپریشن بند کر دیا گیا تو یہ تمام لوگ جو ہزاروں کی تعداد میں ہیں پاکستان آنے کیلئے حکومت کی راہ تکنے پر مجبور ہو گئے۔

بیرون ملک مقیم ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پریشانی میں پاکستان کی حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں کیوں کہ ایک تو ان کے پاس نہ تو کھانے کے پیسے ہیں نہ وہ اپنا کرایہ ادا کر سکتے ہیں او رپھر نہ ہی ان کے پاس واپسی کیلئے ٹکٹ کے پیسے ہیں جو وہ ادا کر کے پاکستان آ سکیں۔اس طرح حالات اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ جو کل تک امداد دیتے تھے اب امداد لینے والے بن چکے ہیں۔ پاکستانیوں کیلئے بھی پی آئی اے نے کچھ پروازیں شروع کیں لیکن ایک تو ان کے کرائے بہت زیادہ رکھے گئے جو غیر ممالک میں کام کرنے والا عام مزدور آدمی برداشت ہی نہیں کر سکتا تھا۔ پھر جب وہ پاکستان آئے تو ان کے ساتھ وہی روایتی سلوک کیلئے سرکاری حکام موجود تھے۔ اگر کسی نے لاہور آنا تھا تو اسے کراچی جا کر اتارا گیا اور وہاں قرنطینہ میں اس پر کیا بیتی وہ الگ کہانی ہے۔ جو لوگ بیرون ملک سے وطن واپس آ رہے ہیں انہیں آپشن دی جا رہی ہے کہ یا تو سرکاری قرنطینہ سینٹر میں چلے جائیں اگر نہیں تو نجی ہوٹلز میں مقیم ہو جائیں جس کا کرایہ بیرون ملک سے آنا والا پاکستانی خود ادا کرے گا۔

اس کے علاوہ جتنے دن وہاں رہنا ہے کھانا پینے کا خرچہ بھی وہ خود برداشت کرے گا اورا س کھانے کا ریٹ بھی عام مارکیٹ کی نسبت سو گنا زیادہ ہے، عام چاول کی پلیٹ جو بازار سے با آسانی سو سے دو سو روپے میں دستیاب ہے اس کی قیمت بھی ان ہوٹلوں میں ہزار روپے سے لے کر پندرہ سو روپے تک ہے جو ان کے ساتھ سراسر ظلم۔ اس کے علاوہ وہاں ان سے ناروا سلوک کی کہانیاں بھی عام ہو رہی ہیں۔ بیرون ملک سے وطن واپس آنے والے یہ پاکستانی ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک ان کی توہین کے مترادف ہے۔ جب ان کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم ان کی جانب نگاہیں کر لیتے ہیں کہ یہ دیار غیر میں کام کرنے والے ہمارے بھائی ہماری مالی مدد کریں گے اور ہمیں ہر طرح کے سرد و گرم حالات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے لیکن جب ان پر کڑا وقت آیا تو حکومت پاکستان نے ان ہی کی جیبیں خالی کرانا شروع کر دیں۔ بیرون ملک مقیم یہ پاکستانی اگر اچھے دنوں میں ہماری آنکھوں کا تارا ہیں تو برے دنوں میں بھی حکومت کو ان کے ساتھ اس طرح اوچھا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔ ایک تو جتنے بیرون ملک میں مقیم پاکستانی ہیں جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں ان کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کرنا چاہئیں۔

حکومت کی جانب سے قائم کردہ ایمر جنسی کرائسسز یونٹ کے مطابق اس وقت بیرون ملک میں مقیم رجسٹرڈ 62709 پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان میں اکثریت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی ہے جو وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ جس طرح حکومت پاکستان نے پاکستان میں مقیم لوگوں کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے اور بارہ ہزار فی خاندان امداد جاری کی ہے تو ان پاکستانیوں کے بارے میں کوئی امدادی پیکج کا اعلان کرنا چاہئے۔ کیوں کہ ایک تو اس وقت وہ مصیبت زدہ ہیں کیوں کہ اکثر اپنی نوکریوں سے محروم ہو چکے ہیں اوران کے پاس کھانے پینے رہائش وغیرہ کیلئے بھی بندوبست نہیں ہے اوپر سے ہماری قومی ایئر لائنز نے اپنے کرائے بھی دوگنا کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے یہ غریب پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ امید ہے خان صاحب دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے ان پاکستانیوں کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کریں گے چلیں اگر امدادی پیکج کا اعلان نہیں کرنا تو کم از کم ٹکٹوں کی قیمت سستی کر دی جائے یااس میں انہیں پچاس فیصد تک ریلیف دیا جائے تا کہ یہ ہمارے بہن بھائی بھی وطن کی مٹی کو چھو سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -