کرونا کی سونامی

کرونا کی سونامی
کرونا کی سونامی

  

پاکستان میں نہ صرف کرونا کیسوں کی تعداد میں اب تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کرونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ پچھلے ہفتہ دس دن سے تقریباً ہر روز بیس پچیس یا اس سے بھی زائد لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں، گویا ہر گذرنے والے ایک گھنٹہ میں کم از کم ایک شخص پاکستان میں کرونا کے ہاتھوں ہلاک ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی تعداد اب 30 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور اتوار کی صبح تک 639 لوگ اس مرض کے ہاتھوں اپنی جان کی بازی ہار چکے تھے(یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں، اصل اللہ جانے)۔ ایسے حالات میں جب کرونا پہلے سے زیادہ شدت سے اپنے وار کر رہا ہے اور جس میں پہلے سے زیادہ احتیاطی تدابیر کی ضرورت تھی، ہماری حکومت نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ غالباً دنیا کے ان ملکوں کی نقل میں کیا گیا ہے جہاں بتدریج لاک ڈاؤن نرم یا ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ ان ممالک میں (کم یا زیادہ) تباہی کے بعد بہت حد تک کرونا کی وبا پر قابو پالیا گیا ہے۔

ان ممالک کے کرونا کے گراف دیکھے جائیں تو وہ یا نیچے کی طرف آ رہے ہیں یا ان کا گراف سیدھا ہو چکا ہے اور وہ مزید اوپر نہیں جا رہا۔ ان ممالک میں ٹیسٹنگ کی شرح بھی بہت زیادہ رہی ہے اور انہوں نے سائنسی اور طبی بنیادوں پر ماہرین سے رائے لینے کے بعد ایک مربوط حکمت عملی کے تحت لاک ڈاؤن نرم یا ختم کیے ہیں کیونکہ وبا پر قابو پانے کے بعد اگلا مرحلہ گرتی ہوئی معیشتوں کو سنبھالنا اور لوگوں کے ختم ہوتے ہوئے روزگار بچانا ہے۔ پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ تو کرونا کا گراف نیچے آیا ہے بلکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر گذرتے دن کے ساتھ نئے کیسوں اور اموات دونوں کے گراف اوپر جا رہے ہیں۔ دوسروں کا منہ سرخ دیکھ کر اپنا منہ تھپڑ مار کے لال نہیں کرنا چاہئے۔ کرونا میں اضافہ ہوا ہے لیکن دوسرے ملکوں کی نقل میں ہماری حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے نہتے عوام کو کرونا وائرس کے آگے جھونک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ بتانا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے کہ پاکستان میں ابھی کتنے اور لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بنیں گے لیکن یہ حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ

اپنے فیصلوں میں عوام کی زندگی بچانے کو پہلی ترجیح پر رکھے۔

وزیر اعظم عمران خان اکثر یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہیں غریبوں کے روزگار کا بہت خیال ہے۔ وہ اپنی سوچ میں حق بجانب ہوتے اگر پی ٹی آئی حکومت کرونا کی وبا آنے سے پہلے عوام کی بہبود، روزگار اور خوش حالی کے بارے میں سوچ رہی ہوتی۔ کرونا کی وبا سے پہلے بھی عمران خان حکومت کا ریکارڈ عوام اور غریبوں کے لئے انتہائی مایوس کن تھا۔ اس حکومت کے پہلے 18 مہینوں کے دوران 25 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کرونا کے آنے سے پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے تھے۔ غربت اور فاقہ کشی کے ہاتھوں مجبور ہو کر ملک میں خود کشیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔اگر حکومت اتنی ہی غریب پرور ہوتی تو اپنے پہلے 18 ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں 18 بار اضافہ نہ کرتی۔ کسے یاد نہیں کہ سوئی گیس کے بلوں نے عوام کی چیخیں ان کی زندگیوں میں پہلی بار اسی حکومت نے نکلوائی ہیں اور یہ سب اس وقت کی بات ہے جب کرونا وائرس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اسی طرح تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں جوں جوں کم ہوتی گئیں، اس کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی بجائے حکومت نے ہر مہینہ اس میں عائد ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا اور چند ماہ پہلے حکومت پٹرولیم مصنوعات پر جتنے فیصد ٹیکس لے رہی تھی، اس میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کئے گئے فیصلوں میں غریب عوام کا نام لے۔بے چارے غریبوں کی فیصلہ سازوں کے سامنے پہلے کوئی حیثیت تھی اور نہ اب ہے، بس صرف ان کا نام لے کر من مانے فیصلے کئے جاتے ہیں۔

پاکستان میں لاک ڈاؤن کو شروع ہوئے ایک مہینہ سے زیادہ ہو گیا ہے۔ لیکن جس طرح کا کچا پکا لاک ڈاؤن پاکستان میں کیا گیا، اس کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہی ہے۔ صرف تعلیمی ادارے ہی مکمل طور پر بند ہیں (جو ہونے بھی چاہئیں) اور یہ بندش اب 15 جولائی تک بڑھا دی گئی ہے۔باقی سب کچھ کھلا ہے۔ اس کا مطلب ہے تعلیمی ادارے اب موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ہی کھل سکیں گے (اگر اس وقت حالات کھولنے کے لئے مناسب ہوئے)۔ دنیا کے کئی ممالک میں کورونا نے بہت تباہی پھیلائی۔ ان میں امریکہ اور کئی یورپی ممالک جیسے برطانیہ، اٹلی، فرانس اور سپین وغیرہ زیادہ نمایاں ہیں جہاں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ رہی۔ پاکستان، بھارت اور کئی ممالک میں اعداد وشمار کے مطابق کرونا سے اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ ہو سکتا ہے ان ممالک میں لوگوں کا مدافعتی نظام قدرتی طور پرامریکہ اور یورپ والوں سے بہتر ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں کے موسمی حالات کورونا وائرس کے لئے اتنے موافق نہ ہوں جتنا امریکہ اور یورپ میں ہیں۔ لیکن ایک اور اہم وجہ پاکستان اور بھارت جیسے غریب ملکوں میں ٹیسٹنگ کی سہولتوں کی دستیابی بہت کم ہے۔ جب لوگوں کی بڑی تعداد کے ٹیسٹ ہی نہیں ہوں گے تو مثبت کیسوں کی تعداد بھی کم رہے گی۔ پاکستان میں ٹیسٹنگ کی اوسط اب 1200 ٹیسٹ فی ملین آبادی ہے۔ اس طرح پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیسٹوں کی شرح اتنی کم ہے۔ حکومت جن ملکوں کی مثالیں دیتی ہے، اگر ان ملکوں میں ٹیسٹوں کی شرح دیکھی جائے تو امریکہ میں فی ملین آبادی 27 ہزار لوگوں کے ٹیسٹ کئے ہیں۔ سپین میں یہ شرح اس سے بھی دوگنی یعنی 54 ہزار ہے۔ اسی طرح بلجیم میں 49 ہزار، اٹلی میں 41 ہزار، روس میں 37 ہزار،سوئٹزر لینڈ میں 35 ہزار، جرمنی میں 32 ہزار،کینیڈا میں 28 ہزار، برطانیہ میں 25 ہزار اور فرانس میں 21 ہزار فی ملین آبادی ٹیسٹوں کی شرح ہے۔

ہم اپنے 1200 ٹیسٹ فی ملین آبادی کے ساتھ ان ممالک سے اپنا موازنہ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی طرح بھارت میں بھی یہ شرح 1200 ہے اور لگتا ہے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں پاکستان اور بھارت کا انداز ایک جیسا ہے کہ کم سے کم ٹیسٹ کرکے لوگوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ ہمارے یہاں کرونا پر قابو پانے کی حکمت عملی بہت کامیاب جا رہی ہے۔ اگر حکومت ”واہ واہ“ کروانے کی بجائے حقیقی معنوں میں لوگوں کی جان بچانے کا سوچ رہی ہوتی تو کبھی under reporting اور under testing نہ کرتی۔ اسی طرح جب کہ پاکستان میں کرونا کا گراف اوپر کی طرف جا رہا ہے تو لوگوں کی جان بچانے کے لئے ضروری تھا کہ لاک ڈاؤن نرم کرنے کی بجائے اسے زیادہ موثر بنایا جاتا۔ پچھلے ایک ماہ کے لاک ڈاؤن میں تقریباً ہر بڑے چھوٹے شہر میں لاک ڈاؤن کے بارے میں سنجیدگی کم دیکھنے میں آئی جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کی بنیادی ذمہ داری حکومتی اداروں کی تھی لیکن انہوں نے اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی اور ہر جگہ سماجی فاصلہ کے حوالہ سے ایک بے ہنگم ہجوم دیکھنے میں آتا رہا۔ عمران خان حکومت نے اب لاک ڈاؤن نرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ماہرین کی اکثریت متفق نہیں ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان فیصلے کرنے میں اتنے خود مختار نہ ہوں کیونکہ وہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ انہوں نے نہیں بلکہ حکمران اشرافیہ نے کیا تھا۔ اسی لئے عین ممکن ہے کہ لاک ڈاؤن نرم کرنے کا فیصلہ بھی ان سے بالا بالا حکمران اشرافیہ نے ہی کیا ہو۔ بہر حال یہ فیصلہ عمران خان کا اپنا ہو یا ان سے بالا کسی حکمران اشرافیہ کا، اگر اس فیصلہ کے نتیجہ میں تباہی پھیلتی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف اور صرف وزیر اعظم عمران خان پر ہی آئے گی کیونکہ ملک کے۔ اس نرمی کے بعد اگر ملک میں کرونا کی سونامی آتی ہے تو اس کے آگے بند کون باندھے گا۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو لیکن ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ کرونا پھیلنے کی صورت میں ہمارے ملک میں صحت کا نظام اور وسائل ہرگز متحمل نہیں ہیں کہ وہ اس سونامی کو روک سکیں۔ اللہ تعالی پاکستان کو کرونا کی سونامی سے محفوظ رکھے اور ملکی قیادت کو درست وقت پر درست فیصلے کرنے کی توفیق دے کیونکہ غلط فیصلوں کا سارا ملبہ بے چارے عوام پر ہی گرتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -