بلوچستان میں فوجیوں کی تازہ شہادتیں

بلوچستان میں فوجیوں کی تازہ شہادتیں
بلوچستان میں فوجیوں کی تازہ شہادتیں

  

8مئی بروز جمعہ بلوچستان میں ہمارے6فوجی شہید ہو گئے۔ ان میں ایک میجر، ایک نائیک، دو لانس نائیک اور دو سپاہی شامل تھے جن کے نام بالترتیب یہ ہیں …… میجر ندیم…… نائیک جمشید…… لانس نائیک خضر حیات…… لانس نائیک تیمور…… سپاہی ندیم…… اور سپاہی ساجد۔ ان کے علاوہ ایک ساتواں سولجر اور بھی زخمی ہوا۔ یہ سب فرنٹیئر کور (ساؤتھ) میں پوسٹ تھے۔ کسی کا بھی تعلق صوبہ بلوچستان سے نہیں تھا۔ میجر ندیم عباس، حافظ آباد…… نائیک جمشید، میانوالی…… لانس نائیک تیمور، تونسہ شریف…… لانس نائیک خضر حیات، اٹک…… سپاہی ساجد، مردان اور سپاہی ندیم، تونسہ شریف کے رہائشی تھے۔ جس علاقے میں یہ شہید ہوئے آئی ایس پی آر کے مطابق وہ ضلع کیچ کا ایریا تھا جس کو بلیدا کہا جاتا ہے۔ یہ ریکی پارٹی روٹین کی ایریا ریکی پر نکلی ہوئی تھی اور جب کام ختم کرکے واپس اپنے مستقر کی طرف آ رہی تھی تو ایک IED (خانہ ساز بارودی سرنگ) سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے فائرنگ کرکے اڑا دی گئی۔ آئی ایس پی آر نے ایک مخصتر پریس نوٹ میں یہی ”تفصیل“ دی ہے جو میں نے اردو میں سطور بالا میں نقل کر دی ہےّ البتہ ان سب کی رنگین تصاویر بھی الیکٹرانک اور پریس میڈیا میں جاری کردی گئی ہیں۔

کورونا وائرس کے اس وبائی دور میں جب پاکستان کے طول و عرض میں روزانہ درجنوں مرد و زن مارے جا رہے ہوں، ان 6فوجی شہیدوں کی شہادت بادی النظر میں کوئی زیادہ غم ناک تصور سامنے نہیں لاتی۔ دنیا بھر میں زندگی مشکل اور موت ارزاں ہو گئی ہے۔ موت و حیات کی تصویر کشی کرتے ہوئے حضرت اقبال نے کتنا درست فرمایا تھا!

کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت

گلشنِ ہستی میں مانندِ نسیم ارزاں ہے موت

اللہ کریم کی اپنی حکمتیں ہیں …… یہ سارے شہداء روزہ دار تھے اور جمعہ کا دن بھی مبارک ایام میں شمار ہوتا ہے۔ دن دیہاڑے ان کا اس طرح شہید ہو جانا ان کے لواحقین کے لئے کتنا صبرآزما ہے، اس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ہم ان مرحومین کے لئے دست بدعا ہیں اور ان کے لواحقین کے صبر و برداشت کے لئے خدا کے حضور سجدہ ریز ہیں:

سرِ خاکِ شہیدے برگہائے لالہ می پاشم

کہ خونش بانہالِ ملتِ ما ساز گار آمد

ضلع کیچ کا یہ ایریا ایک مشکل ترین جغرافیائی سرزمین (Terrain) ہے۔ قدم قدم پر موڑ آتے ہیں، سیلابی ریلوں کے لئے پل بنے ہوئے ہیں، سڑکیں کچی پکی ہیں اور پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی ہیں۔ان سڑکوں کے بعض حصے ایسے بھی ہیں جن کے دائیں بائیں عمودی بلندیاں ہیں اور ان کے درمیان گزرنے والی سڑک نہ صرف اپنی دو رویہ اطراف سے معرضِ خطر (Vulnerable) میں ہے بلکہ ان عمودی بلندیوں میں اگر کوئی IEDنصب کر دی جائے تو اس کا سراغ لگا کر اس کو بے اثر کرنے میں بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ چونکہ اس حادثے کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اس لئے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ جس جگہ دہشت گردوں نے ریموٹ کنٹرول سے اس ڈیوائس کو ٹرگر کیا اس کا محلِ وقوع کیا تھا۔

راقم السطور کو تقریباً نصف صدی پیشتر (1970ء تا 1973ء) ان علاقوں میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اس زمانے میں یہاں آرمی کی کوئی یونٹ نہیں تھی۔ صرف فرنٹیئر کور کی دو یونٹیں تھیں۔ ایک کا نام قلات سکاؤٹس تھا جس کا ہیڈکوارٹر خضدار میں تھا(میں وہیں پوسٹ تھا) اور اس کا آپریشنل ایریا وسیع و عریض تھا۔ میں نے اسی دور میں خضدار سے جنوب کی طرف کراچی تک اور جنوب مغرب کی طرف خاران، مکران، تربت اور گوادر تک کے اَن گنت سفر کئے…… اور دوسری یونٹ چاغی ملیشیاء تھی جس کا ہیڈکوارٹر نوشکی میں تھا اور وہ احمد وال، دالبندین اور تفتان تک کے ایریا کی دیکھ بھال پر مامور تھی۔ میں نے ان تین برسوں میں ان علاقوں میں اتنے زیادہ پیدل (اور سوار) سفر کئے کہ ان علاقوں کے باسیوں کے ساتھ ایک رومانی تعلق پیدا ہو گیا۔ اس وقت بھی میرے ذہن میں ان ریگستانی اور صحرائی بلندیوں اور پستیوں کو دیکھ دیکھ کر حضرتِ اقبال کا یہ شعر یاد آیا کرتا تھا:

تمدن آفریں، خلّاقِ آئینِ جہاں داری

وہ صحرائے عرب یعنی شتر بانوں کا گہوارہ

ہم ہر ماہ IGFC کی ایک طویل گشت (پٹرولنگ) پر نکلتے جس کا فاصلہ 25کلومیٹر ہوتا اور ایک DIG FC کی مختصر گشت پر نکلتے جس کا فاصلہ 15کلومیٹر ہوتا تھا تو آتے جاتے ان علاقوں کے نشیب و فراز دیکھ کر اکثر کہا کرتے تھے کہ فوج کے پروفیشنل تدریسی اداروں میں گھات لگانے (Ambush) کی جو زمینی خصوصیات پڑھائی جاتی ہیں ان کی مثالیں بلوچستان کے طول و عرض میں جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہم کہا کرتے تھے کہ ان کمین گاہوں میں صرف چار آدمی پوری ایک کمپنی (150سولجرز) کو روک کر گھات کا شکار کر سکتے ہیں …… لیکن اب تو ان علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھایا جا چکا ہے (اور جا رہا ہے) اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے تعمیراتی کام ہو رہے ہیں لیکن تربت ڈویژن ایک ایسا علاقہ ہے جس میں پانی کی شدید قلت ہے اور اسی لئے یہاں تعمیر و ترقی کے کاموں کی رفتار سست ہے۔ ہمارا دشمن انہی علاقوں کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

جس علاقے میں یہ حادثہ پیش آیا وہ پاک ایران بارڈر سے صرف 9میل (14کلومیٹر) کی دوری پر ہے۔ اگر شمال سے شروع کریں تو پاک۔ ایران بارڈر کی کل طوالت 960کلومیٹر ہے فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس پر باڑ لگائی جائے گی لیکن فی الحال پاک۔ افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب مکمل نہیں ہوئی۔ وہ جب مکمل ہو گئی تو اگلا مرحلہ پاک ایران سرحد کی جنگلہ بندی ہوگا۔ چونکہ یہ سارا بارڈر انتہائی پورس ہے(یعنی آر پار آنے جانے کے متعدد راستے موجود ہیں) اس لئے دہشت گردوں کی جنت اب یہی علاقے رہ گئے ہیں۔ تربت سے نیچے جنوب کی طرف آئیں تو گوگ ڈان کا مشہور قصبہ ہے۔ اسی طرح شمال میں بالی چاہ اور مغرب کی طرف تمپ اور مند کے دیہی علاقے ہیں۔ کلبھوشن کا آپریشنل ایریا بھی یہی علاقے تھے اور اب جوں جوں جنگلہ بندی کی شروعات کے دن قریب آ رہے ہیں۔ دشمن کی طرف سے ان علاقوں میں خوابیدہ سیلوں (Cells) کو بیدار کرنے کا کام تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

یہ علاقے ایران اور پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کے لانچنگ پیڈز کی صورت میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ جب سے پاکستان سعودی عرب کا ہم نوا بنا ہے(جنرل ضیاء الحق کے دور میں اس کا آغاز ہوا تھا) تب سے ایران کے ساتھ ہمارے مراسم گومگو کی کیفیت سے گزرتے رہے ہیں (اور آج بھی گزر رہے ہیں)…… آئی ایس پی آر نے اپنے ان 6شہیدوں کی کوئی زیادہ تفصیل نہیں دی اور نہ ہی یہ موضوع کسی الیکٹرانک میڈیا پر زیادہ ڈسکس ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان کو اور بہت سے اندرونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ فی الحال پاک ایران تعلقات کا باب بند رہے تو اچھا ہے۔ ایک بار جب پاک افغان تعلقات کا کوئی حل نکل آیا تو اس کے بعد پاک ایران تعلقات کا بھی کوئی حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔ اس وقت ہم ایران اور افغانستان کے ساتھ علاقائی تعاون کے ایک ایسے عبوری دور سے گزر رہے ہیں جس کی آخری منزل کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔حالات جس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں وہ پاکستان اور ہمارے ان دونوں مغربی ہمسایوں کے لئے حوصلہ افزا ہیں۔

میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر امریکہ پاکستان کو ویسی Anti-mineگاڑیاں دے دیتا کہ جیسی اس کے پاس افغانستان میں ہیں تو ہم کم از کم ان IEDs سے تو بچ جاتے۔ لیکن امریکہ نے یہ ساز و سامان (Equipment) ہمیں فروخت نہ کرکے بڑی سنگدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بہر کیف اس سنگدلی کا کوئی کاؤنٹر بھی تو ہے اور ہم اسے استعمال کرنے میں آزاد ہیں …… اس کی تفصیل نہ بتانا، بتانے سے بہتر ہے……دریں اثناء ہمیں شہید ہونے ولے اپنے بھائیوں اور بیٹوں کے لواحقین سے ایک بار پھر اظہارِ تعزیت کرنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -