28 مئی کے بعد

28 مئی کے بعد
28 مئی کے بعد

  

اس کورونا نے تو پورا کاروبار حیات ہی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ مارکیٹیں بند، کاروبار ٹھپ ہے، بیروزگاری ہے، سکول کالج یونیورسٹیاں بند ہونے سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ رمضان کا بھی وہ روایتی مزہ نہیں۔۔۔۔ نہ کہیں سحری کی رونقیں ہیں اور نہ ہی کوئی افطار پارٹی،،، بہت ہی بے مزہ سی زندگی جارہی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ہر چیز جمود کا شکار ہوگئی ہے ہر طرف خاموشی ہے، کرنے کو کچھ نہیں رہا لیکن ذرا شیخ رشید کو تو سنئے، وہ کہتے ہیں آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں بہت کچھ ہونے جارہا ہے۔ یہ بہت کچھ کیا ہے جو ہوگا۔ سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے بہت سی باتیں کہی جارہی ہیں۔ یہ کس حد تک درست ہوتی ہیں، کس حد تک قیاس آرائی رہتی ہیں اس کا پتہ تو وقت آنے پر ہی چلے گا۔ لیکن باتیں کیا ہورہی ہیں اس پر گپ شپ میں کوئی ہرج نہیں۔

اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں میں ان دنوں اس نوٹیفیکیشن کا بہت چرچا ہے جو 28 مئی یا اس کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ میں پیش کرنا۔ یہ نوٹیفکیشن ہے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 28 نومبر کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے اپنے فیصلے میں حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ توسیع کے حوالے سے پائے جانے والے قانونی سقم کو دور کرنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت قانون سازی کرے۔ اس قانون سازی کے لئے حکومت کو 28 مئی تک چھ ماہ کی مہلت دی گئی جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کو عدالتی تحفظ دیا گیا اور حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اس عرصے میں قانون سازی کرکے اس قانون کے مطابق توسیع کا نیا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کرے۔ اس سلسلہ میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کرلی اور تب سے بال حکومت کی کورٹ میں ہے۔ حکومت نے آیا یہ نوٹیفیکیشن کرلیا ہے یا نہیں۔ توسیع کتنی مدت کے لئے ہے، اس حوالے سے قیاس آرائیوں کا بازار کئی ماہ چلتا رہا لیکن یہ تمام تفصیلات منظرعام پر آنے کے دن آگئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں دوران سماعت حکومت کی طرف سے جس انداز سے بدحواسیوں مظاہرے کئے گئے ان کے پیش نظر اس بار حکومت میں بھی انتہائی سوچ بچار اور احتیاط سے کام لیا جارہا ہے۔ اگرچہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ایک طے شدہ معاملہ ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی فیصلہ کن پوزیشن کی وجہ سے مرکز نگاہ ہیں۔ اور اسلام آباد میں ان دنوں ہونے والی اعلیٰ سطحی میٹنگز کا ایجنڈا یہی معاملات ہوتے ہیں۔ 28 مئی کا دن پاکستان کے لئے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے تو دن پہلے ہی تاریخی اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سال یہ دن دوہری اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ 28 مئی کے بعد پاکستان میں سیاست نئے رخ اختیار کرے گی۔ سیاسی کھلاڑی دوسال کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کریں گے۔ ہوسکتا ہے ماضی کے دوست دشمن کی صف میں چلے جائیں اور دشمن، دوست بن جائیں۔

انہی باتوں کو لے کر مسلم لیگ قاف کے چوہدری برادران کی طرف سے نیب کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر ہونے والی پٹیشن کو بھی بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ بلکہ بعض حلقوں کا تو یہ دعویٰ ہے کہ وزیراعظم عمران خان مئی میں بڑے فیصلے کے بعد سیاسی لحاظ سے مزید طاقت حاصل کریں گے۔ جس کے بعد وہ چوہدری برادران کو مائنس کرکے پنجاب میں خالصتاً تحریک انصاف کی حکومت تشکیل دینے کے خواہش مند ہیں۔ اور قاف لیگ کے گیارہ ووٹوں کی کمی کو مسلم لیگ نون کے فارورڈ بلاک سے پوری کریں گے۔ اسی لئے نیب کے ذریعے چوہدری برادران کو زچ کیا جارہا ہے تاکہ وہ خود ہی حکومت کو خیرباد کہہ دیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ چوہدری برادران سے ناراض ہے اور نیب کی اینٹی چوہدری سرگرمیاں وزیراعظم ہاوس سے نہیں بلکہ کہیں اور سے کنٹرول کی جارہی ہیں۔

قاف لیگ کے لیڈرز اس تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کوئی اور نہیں خود وزیراعظم عمران خان ان کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ اور وہ نیب کے ذریعے انھیں دباؤ میں لاکر اپنی شرائط پر حکومتی اتحاد چلانا چاہتے ہیں۔ قاف لیگی قیادت کو اپنے طور پر اپنے دیرینہ دوستوں پر مکمل بھروسہ ہے اور وہ پراعتماد ہیں کہ انہیں ہائیکورٹ سے ریلیف ملے گا۔ اور اس کے نتیجے میں رمضان کے بعد پنجاب کی سیاست میں ہلچل ہوگی۔ گذشتہ سال سابق سپیکر سردار ایاز صادق کی رہائش گاہ پر چوہدری پرویزالہی، پیپلزپارٹی کے سید خورشید شاہ، ایازصادق اور دیگر لیگی رہنماوں کی ملاقات ہونے والی ملاقات بھی رنگ دکھانے لگی ہے۔ جس کے بعد نون لیگ کے ساتھ چوہدری برادران کے نہ رکنے اور نہ تھمنے والے رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ بریک تھرو اس وقت پابند سلاسل خورشید شاہ نے کروایا۔ اور پھر چوہدری پرویزالہی نے پنجاب اسمبلی کو بطور سپیکر انتہائی خودمختار انداز سے چلایا اور وزیراعظم کی خواہش اور منشا کے خلاف فیصلے کرتے ہوئے نیب کے زیر حراست حمزہ شہباز اور سلمان رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے اور انہیں جیل کی سلاخوں سے نکلنے میں مدد دیتے رہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف اور قاف لیگ کی قیادت میں جاری اس آنکھ مچولی کا کھیل بھی مئی کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔

اگر ہم پنجاب کی بات کریں تو صوبائی سیاست میں اس وقت تحریک انصاف کی اپوزیشن کا کردار عملاً اس کی اپنی اتحادی مسلم لیگ قاف کے پاس آگیا ہے۔ دونوں میں فاصلے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اب یا تو چوہدری برادران کو اپنی سیاسی پیش رفت سے دستبردار ہوکر طے شدہ کردار کے اندر ہی محدود ہونا پڑے گا یا پھر خود کو مسلم لیگ نون میں ضم کرنے کا بڑا فیصلہ کرنا ہوگا جس کی بعض معتبر ذرائع کے مطابق انہیں ایک بڑے پیکج کے ساتھ پیشکش کردی گئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -