نسل در نسل دشمنیوں کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

نسل در نسل دشمنیوں کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟
نسل در نسل دشمنیوں کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

  

شیخوپورہ میں ایک ماہ قبل بچوں سے شروع ہونے والا جھگڑا 8 افراد کی جان لے گیا ہفتہ کے روز شیخوپورہ کے نواحی علاقہ کھاریانوالہ فیصل آباد روڑ پر گندم کے کھیتوں میں کٹائی کے دوران ایک گروہ کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 8 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ مقتولین کے حامیوں نے مخالفین کے گھروں پر دھاوا بول دیا، پیٹرول اور مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی، وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات پر پولیس بروقت اپنا کردار ادا نہیں کرتی ایسے واقعات پر جب مقدمات کا اندراج کیا جاتا ہے تو پولیس فریقین میں منصفی کا کردار ادا کرنے یا ملزمان کو سخت سزائیں دلوانے کی بجائے لینے دینے کے چکر میں معاملات کو مزید خراب کر دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کے فریقین میں رنجش بڑھ جاتی ہے اور خاندان کے خاندان اس دشمنی کی آڑمیں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،جب خاندان ہی اجڑ جائیں تو پھر ارباب اختیار کے نوٹس کا اب کیا فاہدہ؟صوبہ پنجاب کا ضلع شیخوپورہ ذاتی، خاندانی دشمنیوں میں قتل و گری کے حوالے سے بڑا ہی بھیانک ٹریک ریکارڈ رکھتا ہے اور ضلع کا ہر علاقہ چاہے وہ نارنگ منڈی ہو، مرید کے ہو،فاروق آباد ہو یا کھاریانوالہ فیصل آباد روڈ،جن کی ذاتی، علاقائی اور خاندانی نسل در نسل خونی دشمنیاں چل رہی ہیں خاندانوں کے خاندان اجڑ گئے زر، زمین تباہ و برباد ہو گئے لیکن یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، لیکن اب یہ دشمنیاں چودھراہٹ کے تنازعے سے باہر نکل کر جرائم پیشہ افراد میں منتقل ہو گئی ہیں۔ قبضہ گروپ، منشیات فروشی، رسہ گیری، کرائے کے قاتل، جیسے ناسوروں سے عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

ضلع شیخوپورہ میں ہرعلاقے کو تھانہ کچہری کی سیاست کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کئی خاندانوں میں کہ اگرچہ ان کی ذاتی دشمنی کئی دیہاتوں کے افراردسے تھی۔ لیکن وہ اپنے مخالفین کی خواتین بچوں کو راہ چلتے سر پر پیار دیتے تھے اور وہاں علاقہ میں جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔لیکن اب صورتحال اس سے بالکل مختلف ہے نت نئے طریقوں کے بجائے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ پولیس کو چاہیے کہ مقدمات کے بوجھ میں کمی کے لیے دشمنی کی معاملات میں مصالحت کو فروغ دے۔ہم اس ضمن میں محکمہ پولیس پنجاب سے گذارش کرتے ہیں کہ جس طرح پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جرگہ سسٹم ہے وہ کافی فعال ہے پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے زائد ہے لہذا اس کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ پولیس میں مصالحتی ڈیسک اگرچہ قائم ہے اور اس ضمن میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے وہ ایسے خاندانوں جو کسی اخلاقی، سماجی جرائم میں ملوث نہیں صرف ان کے درمیان وقت،بچوں، زمینوں، پانی کے معاملات پر معمولی سا جھگڑا اتنی شدت اختیار کر جاتا ہے کہ آس پاس کے رہنے والے بھی اس کے نرغے میں آجاتے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے تمام DPOSآفسزمیں ایک سپیشل ڈیسک بنا یا جائے جو خاندانی تنازعات کے معاملات کو دیکھے اور ان کے درمیان مفاہمت کرا کے محفوظ پنجاب کے سلوگن کو ابھارے کیونکہ بہت ہو چکا ما?ں کی گودیں اجڑ گئیں۔

بہنوں کے بھائی بیوا?ں سے ان کے شوہر بچوں سے ان کے باپ، دوستوں کے دست بازو اب یہ سلسلہ روکنا ہو گا وگرنہ ہماری داستان نہ ہو گی داستانوں نہیں۔ آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیرکواپنے تمام افسران بالاسی سی پی او، ریجنل و ڈسٹرکٹ پولیس افسران سمیت نچلی سطح کے افسران کو سختی سے یہ حکم دینا چاہیے کہ کسی بھی سنگین یا عام نوعیت کے مقدمے میں کسی کو شک کی بنیاد پر گرفتار نہ کیا جائے اس سے پوچھ گچھ کی جائے لیکن بغیر کسی عذر یا ملزموں کے ساتھ رشتہ داری یا تعلق داری کی بنیاد پر گرفتار نہ کیا جائے ہاں جب شواہد اور تحقیقات میں ثابت ہو جائے کہ فلاں شخص کسی واقعہ میں ملوث ہے تو اس کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ دشمنیوں کا پھیلا اس وجہ سے بھی پھیلتا ہے کہ اگر مدعی پارٹی کسی بھی مقدمے میں ملزمان کو گرفتار کروانے کیلئے ان کے عزیزوں، دوستوں و احباب کو پکڑنے کے لئے سیاسی دبا? یا اور کوئی ذرائع استعمال کروا کر گرفتار کرواتی ہے تو دوسر ی جانب ملزم پارٹی کے ہمدرداس پر بات کرتے ہیں۔ ایک عام شکایت یہ بھی ہے کہ پولیس کے بارے میں جس میں پولیس پارٹی صاف طور پر کہتی ہے کہ ہم نے تو مدعی پارٹی کے کہنے پر انہیں پکڑا ہے اصل ملزمان دے دیں پھر ان کو ہم چھوڑ دیں گے اس طرز عمل سے جوافراد بے گناہ پکڑے جاتے ہیں جس سے ان کی تھانوں میں تذلیل ہوتی ہے اہلخانہ الگ پریشان ہوتے ہیں وہ الگ سے وہاں روش قائم ہو جاتی ہے جن پارٹیوں کے درمیان مقدمہ بازی چلتی ہے وہ تو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہی ہیں، بغیر مقدمات میں خونی رشتہ داروں کی پکڑ دھکڑ جلتی پر تیل ڈالنے کا سبب بنتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -