لاک ڈاؤن میں نرمی زندگی انگٹرائی لے کربیدار ہو رہی ہیں

لاک ڈاؤن میں نرمی زندگی انگٹرائی لے کربیدار ہو رہی ہیں

  

کورونا کیا ہے؟ کہاں سے آیا ہے اور کب ختم ہوگا؟ یہ طے کرنے میں بہت وقت لگے گا اور سپینش فلو کی طرح اس کی تباہ کاریوں کو سمیٹنے کیلئے کئی مدتیں درکار ہوں گی۔ ننھے منے کورونا نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، امیر دیکھا نہ غریب، ترقی یافتہ یا پسماندہ ممالک کی تفریق نہ رہی۔ جو بھی اس کی زد میں آیا، کورونا نے خوب تڑپایا۔ ٹرمپ جیسے بڑبولے حکمران استہزائیہ انداز میں کورونا کو للکارتے رہے اور پھر دنیا بھر نے دیکھا کہ نیویارک عملی طور پر قبرستان میں بدل گیا۔ دنیا بھر میں کورونا کا علاج ڈھونڈنے کیلئے 150 سے زائد ادویات پر تحقیقات کی جا رہی ہے۔ ان میں سے بیشتر ادویات پہلے سے ہی مختلف امراض کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی کوششوں کو مربوط بنانے کیلئے یکجہتی ٹرائل کا آغاز کر دیا۔ برطانیہ میں پانچ ہزار سے زائد مریضوں پر مختلف ادویات کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ مختلف اینٹی وائرل، مدافعتی نظام میں بہتری کیلئے ادویات اور وائرس پر حملے کرنے والی اینٹی باڈیز کے ٹرائل کئے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے چند ماہرین نے ریمڈی سیور نامی اینٹی وائرل دوا کو موثر قرار دیا تھا۔ یہ دوا دراصل ایبولا مرس، سارس کے علاج کیلئے بنائی گئی تھی۔ اسی طرح ایڈز کی ادویات جیسے لوٹناویر اور ریٹونا ویر پر بھی تجربات کئے گئے لیکن یہ تحقیق برآور ثابت نہ ہو سکی۔کلوروکوئین اور ہائیڈروکسی کلورو کوئین میں اینٹی وائر اجزا مدافعی نظام کو پرسکون بنا سکتے ہیں لیکن یہ ابھی انڈر ٹرائل ہے۔ انسانی جسم پر جب وائرس کا حملہ ہوتا ہے تو انٹرفیرون نامی کیمیکل خارج کرتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین انٹرکیرون ویٹا اور ڈیکسا میتھاسون نامی سوجن کم کرنے والے سٹی رائٹ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔اسی طرح کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کے خون میں وائرس پر حملہ کرنے والی اینٹی باڈی یعنی پلازما لے کر بیمار شخص کے جسم میں داخل کردی جاتی ہے۔

کورونا کی ویکسین کیسے کام کرے گی؟ اس کی سٹڈی بے حد دلچسپ ہے۔ سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی سطح پر موجود پروٹین سے جینیاتی مواد حاصل کرکے اسے بے ضرور وائرس میں ویکسین بنانے کیلئے داخل کیا اور پھر اس ویکسین کو مریض کے جسم میں داخل کر دیا گیا۔ اس صورتحال میں جسم کے مدافعتی نظام میں تیزی سے اینٹی باڈیز پیدا کرنا شروع کردیں اور وائرس سے متاثرہ خلیوں کو تباہ کر دیا۔ یہ ویکسین خلیوں میں داخل ہوتی ہے تو کورونا وائرس کی نوکیلی پروٹین کی پیداوار شروع کر دیتے ہیں اور اگر مریضو ں کو دوبارہ کورونا وائرس لگ جائے تو اینٹی باڈیز اور ٹی خلیے اس کا مقابلہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

دنیا بھر کی طرح پنجاب میں بھی اپنی سطح پر مختلف ادویات کے استعمال پر ریسرچ جاری ہے۔ عالمی سطح پر کورونا کے علاج اور اس سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری کی واضح وجہ تو انسانی جان بچانا ہے لیکن کورونا کے اثرات کو کم کرکے معیشت اور معاشی سرگرمیوں کا تحفظ بھی اس ریسرچ کا مقصد سمجھا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے محکمہ صحت اور میڈیکل یونیورسٹیوں کے ماہرین پر مشتمل ایکسپرٹ فورم قائم کیا ہے جس کی سفارشات کی روشنی میں اقدامات کئے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ بات واضح ہے کہ اگر ادویات موثر ہوں گی تو اس سے لاک ڈاؤن کو کم سے کم کی سطح پر لانا ممکن ہوگا اور وینٹی لیٹر کی سطح پر جانے والے مریضوں میں کمی آنے سے ہسپتالوں اور شعبہ صحت پر بوجھ کم ہوگا۔ پنجاب یونیورسٹی کے مائیکرو بیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ماہرین کو بھی ٹاسک سونپا گیا ہے۔

ملک بھر میں کورونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد 27 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور 10 ہزار سے زائد مریضوں کے ساتھ پنجاب اگرچہ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے لیکن یہ تعداد ہزاروں کی بجائے لاکھوں میں ہوسکتی تھی اگر عثمان بزدار جنوری کے پہلے ہی ہفتے میں کورونا کے بارے میں محکمہ صحت کو متحرک نہ کرتے۔ لاہور میں متاثرین کی تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے لیکن اطمینان بخش امر یہ ہے کہ ملک بھر میں ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب مرحلہ وار لاک ڈاؤن میں کمی کی طرف پیش رفت کر رہی ہے۔ پنجاب میں چھوٹے کاروبار، دکانیں، تعمیرات سے وابستہ صنعتیں کھولی جا رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر ہفتے کے چار دن نو گھنٹے کیلئے دکانیں کھولی جائیں گی اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل طور ہر لاک ڈاؤن رہے گا تاہم تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھے جائیں گے۔

پنجاب میں کورونا سے بچاؤ کیلئے کئے گئے اقدامات تسلی بخش ہیں۔ان میں سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکرٹری ہیلتھ کیپٹن (ر) عثمان یونس کی کاوشوں کو بھی دخل ہے۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکرٹری ہیلتھ کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں کورونا مریضوں کیلئے 7750 بیڈز مختص کئے گئے۔ ان میں 4239 بیڈز پر کورونا کے مریض زیر علاج ہیں جبکہ 3514 بیڈز خالی ہیں۔ پنجاب میں مجموعی طور پر 2073 وینٹی لیٹر میسر ہیں۔ان میں سے صرف 47 وینٹی لیٹرز پر کورونا کی شدت کا شکار ہونے والے مریض زیر علاج ہیں جبکہ 329 وینٹی لیٹرز پر کورونا کے علاوہ دیگر مریض رکھے گئے ہیں۔صوبہ بھر میں 1697 وینٹی لیٹر میسر ہیں۔ پنجاب میں چار ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔

لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، سرگودھا میڈیکل کالج اور کیمپ جیل سمیت آٹھ فیلڈ ہسپتالوں میں 1798 مریض زیر علاج ہیں جبکہ پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر فیلڈ ہسپتالوں میں دس ہزار کورونا مریضوں کو رکھنے کی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔ سب سے بڑا فیلڈ ہسپتال لاہور کے ایکسپو سینٹر میں قائم کیا گیاہے جہاں ایک ہزار بیڈز کی گنجائش ہے۔ کورونا کے مریضوں کے علاج کیلئے مجموعی طور پر ساڑھے چار سو ڈاکٹر تعینات ہیں۔ ان میں 257 ویمن میڈیکل آفیسرز، 179 میڈیکل آفیسر اور 14 کنسلٹنٹ شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کورونا کے خاتمے کیلئے کاوشوں کو عملی شکل دینے کیلئے مالی وسائل مہیا کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ حکومت پنجاب کورونا سے بچاؤ کیلئے پہلے مرحلے میں 2 ارب روپے کے فنڈز جاری کر چکی ہے ان میں سے ایک اب 30 کروڑ روپے کے فنڈز استعمال میں لائے جا چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں 3 ارب 87 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے گئے جبکہ تیسرے مرحلے میں 62 کروڑ 91 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کئے گئے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو کورونا کے خاتمے کیلئے تمام تر اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ممکنہ وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

پنجاب کی17 سرکاری لیبارٹریز میں 4300 کورونا ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں جبکہ 7 پی ایس ایل تھری لیبارٹریز میں ساڑھے اٹھارہ سو ٹیسٹ کئے گئے۔ مجموعی طور پر پنجاب میں 6250 مریضوں کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی صوبے سے زیادہ ہوگی۔ اب پنجاب میں سیمپل ٹیسٹنگ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ رینڈمنگ سیمپلنگ یعنی بے ترتیب نمونہ سازی کے ذریعے کورونا ٹیسٹ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ فیز۔ون میں ابتدائی طو رپر صوبے کے 6اضلاع لاہور، راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ،گجرات اور فیصل آباد میں سمارٹ سیمپلنگ کا آغاز کیا جا رہاہے-سمارٹ سیمپلنگ کے تحت میڈیا ہاؤسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، انتظامی ا فسران کے دفاتر، ہیلتھ ورکرز، ٹی بی اور ایڈ ز کے مریضوں، ہسپتالوں میں زیر علاج حاملہ خواتین اورجیلوں میں بند قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ کئے جائیں گے اور بڑے پیمانے پر سیمپلنگ کر کے کمیونٹی میں کورونا کے پھیلاؤ کا جائزہ لیں گے - فیز-ٹو میں رینڈم سیمپلنگ کے تحت Census Block میں سیمپلنگ کی جائے گی۔ جدید سمارٹ سیمپلنگ کے تحت اب تک 14 ہزار سے زائد ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں اور رینڈم سیمپلنگ کے بعد متعلقہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب 10 ہزار کورونا ٹیسٹ کی صلاحیت رکھنے والے واحد صوبہ ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی ہدایت پر کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر ہنگامی طور پر میڈیکل آفیسر، نرسوں، کنسلٹنٹ اور دیگر طبی عملے کو فوری طور پر بھرتی کیا گیا۔ ساڑھے تین ماہ قبل پراونشل ڈیزیسز اینڈ رسپانس یونٹ قائم کیا گیا جو 14 گھنٹے کام کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ کی کابینہ کمیٹی برائے کورونا کنٹرول ماہرین کی سفارشات پر مرتب کردہ ایس او پیز کی منظور دے چکی ہے۔ کمیٹی کے 17 اجلاس ہو چکے ہیں۔ اقدامات کو موثر بنانے کیلئے پنجاب امتناع وبائی امراض آرڈیننس 2020 بھی نافذ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متعلقہ ڈاکٹروں، جینیٹوریل سٹاف اور طبی عملے کو پی پی ایز یعنی ذاتی حفاظت کا سامان وافر مقدار میں نہ صرف فراہم کیا گیا ہے بلکہ سٹاک میں بھی اس کی وافر مقدار میں دستیابی یقینی بنائی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سیالکوٹ، ملتان، ڈیرہ غازی خان، تونسہ، وہوا، راجن پور، روجھان، شیخوپورہ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد، ساہیوال، راولپنڈی، چکوال سمیت 20 چھوٹے بڑے شہروں کے دورے کر چکے ہیں۔ کورونا کے خدشے کے باوجود وزیراعلیٰ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کئے گئے بغیر آسولیشن مراکز، قرنطینہ، احساس کفالت مرکز، انسداد ڈینگی، گندم خریداری مراکز، ٹائیگر فورس، ٹڈی دل کیخلاف جاری مہم اور دیگر امور کا جائزہ لیا اور سرکاری مشینری کو یہ واضح پیغام دیا کہ اگر جذبہ صادق ہو تو خطرات کے خدشات دم توڑ جاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے سیالکوٹ سمیت دیگر شہروں میں صنعتکاروں اور تاجروں سے ملاقاتیں کیں۔ لاک ڈاؤن کی صورتحال کے حوالے سے تاجروں کی ان کی تجاویز اور سفارشات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پنجاب حکومت نے کورونا وباء کے تناظر میں نئی ترقیاتی،بزنس و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کاپلان تیار کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے رائز پنجاب کے نام سے ابتدائی فریم و رک کی منظوری دے دی ہے۔ پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے کورونا وباء کے پیش نظر بدلتی صورتحال کے تناظر میں رائز پنجاب کا پلان مرتب کیا ہے۔ کورونا وباء کے باعث نئی ترجیحات کاتعین کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں،بزنس کے فروغ اورسرمایہ کاری بڑھانے کیلئے نئی سوچ کے ساتھ نئے اقدامات کیے جائیں گے۔رائز پنجاب کے تحت صحت، تعلیم اورسماجی تحفظ کیلئے بھی منفردلائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے۔ان دنوں میں بعض عاقبت نااندیش عناصر صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے انتظامیہ کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ذخیرہ اندوزوں اورگراں فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔اینٹی ہورڈنگ آرڈیننس2020کے تحت ذخیرہ اندوزی کی سزائیں بڑھائی گئی ہیں۔ فیلڈ افسران مارکیٹوں اوربازاروں کے دورے کرکے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں۔ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کیلئے ضروری انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ڈھائی ارب روپے کے جرمانے بھی وصول کئے جا چکے ہیں۔

غیر معمولی حالات کے پیش نظر وزیراعلیٰ نے سیاسی و انتظامی ٹیم کو پوری طرح متحرک کیا۔ اضلاع میں صوبائی وزراء اور سیکرٹریز کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں جو صورتحال کو ہر سطح پر مانیٹر کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے نام خطوط لکھ کر انہیں اپنی تمام تر کوششیں کورونا سے نمٹنے کیلئے بروئے کار لانے کی ترغیب دی اور انہیں انتظامیہ اور عوام سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت بھی کی۔

پنجاب میں وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق مالی دشواریوں کا شکار طبقے کیلئے مالی امداد کا سب سے بڑا پروگرام شروع کیا گیا۔ اس کا پہلا اور دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے جبکہ انصاف امداد پروگرام شروع ہورہا ہے۔ احساس کفالت پروگرام کے تحت ابھی تک 28لاکھ خاندانوں میں 34ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں اور امداد کا سلسلہ ابھی جاری ہے-اگلے ہفتے سے انصاف امداد پیکیج کے تحت 25 لاکھ خاندانوں میں 12ہزار فی کس امداد کی فراہمی شروع ہوجائے گی - اس کے علاوہ مزید 10لاکھ خاندانوں کو رمضان پیکیج کے تحت 3ہزار روپے فی کس دئیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کورونا متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے میں مصروف ڈاکٹروں،نرسوں اور دیگر سٹاف کو سراہتے ہوئے اعتراف کے طور پر انہیں اپریل سے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کا اعلان کیا اور یہ اضافی تنخواہ وباء کے خاتمے تک جاری رہے گی اور اسی طرح ان کیلئے خدانخواستہ وفات کی صورت میں شہداء پیکج کا بھی اعلان کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈ آفس کے کنٹرول روم کے مانیٹرنگ سسٹم کا جائزہ لیا اور ڈیش بورڈ پر مختلف شہروں میں صورتحال کا لائیو مشاہدہ کیا۔ وزیراعلیٰ کو پی ڈی ایم اے سینٹرل کنٹرول روم میں ٹڈی دل، کورونا صورتحال، انصاف ا مداد پروگرام اور فلڈ پر بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صوبہ کے ہر شہر میں کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اضلاع اور تمام محکموں کو سوا آٹھ لاکھ حفاظتی گاؤن، سوا سات لاکھ این 95 ماسک اور دیگر طبی سامان فراہم کیا جا چکا ہے۔ سپرے مشینیں، تھرمل گنز، فیس شیلڈ، گاگل اور دیگر حفاظتی سامان بھی فراہم کیا جاچکا ہے۔ماہرین پر مشتمل پی ڈی ایم اے کی سب کمیٹی نے پرسنل پروٹیکشن ایکوئپمنٹ کا سٹینڈرڈ ڈیزائن تیار کر لیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اضلاع میں ریونیو فیلڈ سٹاف کے ذریعے بیرون ملک سے آنے والے شہریوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ بیرون ملک سے آنے والے شہریوں اور ان کے اہل خانہ کے ٹیسٹ وغیرہ بھی کئے جاتے ہیں۔

پنجاب میں اس وقت 62کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی 8 بی ایس ایل تھری لیب فنکشنل ہو چکی ہیں اور اب روزانہ 6ہزار کورونا ٹیسٹ کرسکیں گے،گزشتہ روز پنجاب حکومت نے 3700 ٹیسٹ کئے ہیں -پنجاب میں اس وقت کورونا ٹیسٹنگ کٹس،پی پی ایز کٹس او ربیڈز کی کوئی کمی نہیں -

بیرون ممالک سے متعدد فلائٹس کے ذریعے سینکڑوں پاکستانی روزانہ وطن واپس آرہے ہیں، ہوٹلوں اور دیگر قرنطینہ مراکز میں ایس او پی کے مطابق ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے - بیرون ملک سے آنے والے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کومتعلقہ صوبائی حکومتوں سے رابطہ کر کے ائیرپورٹ سے ہی ان کے صوبوں میں بھیج دیا جائے گا- صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے اضلاع میں روانہ کیا جائے گا اورانہیں 48گھنٹوں میں ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹیو آنے کی صورت میں گھر بھیج دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بعض شکایات کے پیش نظر ایکسپو سینٹرفیلڈ ہسپتال سمیت دیگر قرنطینہ مراکز میں کنٹین بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ داخل مریض اپنی مرضی کے مطابق معیاری کھانے کاانتخاب کر سکیں گے۔ قرنطینہ کنٹین کے عملے کیلئے طبی گاؤن،ماسک اور حفاظتی سامان کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہوٹلوں اور قرنطینہ مراکز میں اوورسیز مسافروں کو ٹیک اوے کھانا منگوانے کی اجازت دے دی ہے تاکہ مسافر دوران قیام آرڈر پر کھانا منگوا سکیں گے۔ہوٹلوں اور قرنطینہ مراکز میں غیر معیاری اور مہنگے داموں کھانے کی شکایت پر بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کو ہوٹلوں اور قرنطینہ مراکز میں مقیم مسافروں تک رسائی دی جائے گی اور اس ضمن میں ضروری امور جلد طے کئے جائیں گے۔

پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن کے باعث مالی مشکلات کا شکار فنکاروں کی مالی معاونت کیلئے مالی امداد کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔وزیر اعلی عثمان بزدار کی ہدایت پر صوبائی محکمہ اطلاعات و ثقافت نے مستحق فنکاروں کیلئے مالی امداد کا پیکیج تیار کر لیا ہے۔ مستحق فنکاروں کو 15 سے 20 ہزار روپے تک مالی امداد دی جائے گی -پنجاب حکومت 3ہزار فنکاروں کی مالی معاونت کرے گی اور اسی طرح ثقافتی اور ادبی تنظیموں و اداروں کیلئے خصوصی گرانٹ کا اعلان کیاہے-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ثقافتی اور ادبی تنظیموں و اداروں کیلئے فنڈز کے اجراء کی منظوری دے دی ہے اورمحکمہ اطلاعات و ثقافت کو منظورشدہ فنڈز ثقافتی اور ادبی تنظیموں و اداروں کوجلد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے-

وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں اجلاس میں ہوم قرنطینہ کا طریقہ کار اورایس او پیز طے کرنے پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایاگیاکہ ہوم قرنطینہ میں جانے والے افراد کے اہل خانہ کا تحفظ پہلی ترجیح ہے۔ ہوم قرنطینہ سے متعلق عالمی معیار کے مطابق گائیڈ لائنز فراہم کی جائیں گی۔ قرنطینہ کے معیار سے متعلق ضروری نکات سے تحریری طورپر آگاہ کیا جائے گا۔حکومت کی مقرر کردہ ٹیم گھروں میں جا کر قرنطینہ کے معیار کو چیک کرسکیں گی۔ ہوم قرنطینہ اپنانے پر خصوصی بیان حلفی بھی دینا ہوگا۔بیرون ملک سے آنے والے شہریوں کو 14دن تک زیر نگرانی رکھنا ضروری ہوگا۔حکومت کے قائم کردہ قرنطینہ مراکز اور ہوٹل میں جانے کی آپشن دی جائے گی۔ 24گھنٹے میں سیمپل لیکر رپورٹ آجائے گی اورپازیٹو ہونے کی صورت میں قرنطینہ جانا ہوگا۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ اضلاع میں بھیجے جانیوالے کورونا مریضوں کی آمدورفت کیلئے فول پروف طریقہ کار اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے اثرات سامنے آرہے ہیں۔ شہروں، دیہات اور گلیوں بازاروں میں زندگی انگڑائی لے کر بیدار ہو رہی ہے۔ زندگی بہت قیمتی ہے اس کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ حفاظت کیلئے احتیاط اور بچاؤ بنیادی چیز ہے اور یہ اقدامات تب ہی موثر ہو سکتے ہیں جب عوام بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ حکومت سے زیادہ کورونا کے خاتمے میں عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہے کیونکہ اچھے عوام ہی اچھی ریاست بناتے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -