چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے مخلصانہ کوششیں

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے ...

  

انسداد بدعنوانی کا اعلٰی ادارہ ہونا نیب کیلئے قابل فخر ہے۔ نیب نہ صرف پاکستان بلکہ سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، نیب کو متفقہ طور پر سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین منتخب کیا گیا جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ بھارت سمیت سارک ممالک نے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے، معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، عالمی اقتصادی فورم، پلڈاٹ اور مشعال پاکستان نے نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59فیصد عوام نیب کی کارکردگی پر اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جس نے چین کے ساتھ انسداد بدعنوانی کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے چین اور پاکستان مل کر کام کر رہے ہیں۔ نیب ملک کا واحد ادارہ ہے جو بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے لئے سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 328ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ اس ریکوری سے متاثرین اور بعض سرکاری اداروں کو رقوم کی ادائیگی کی گئی ہے اور نیب ملازمین نے ان میں سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا اور اسے قومی فرض سمجھ کر تمام رقوم قومی خزانے میں جمع کرائی ہے۔ اس سے نیب کی شاندار کارکردگی کی عکاسی ہوتی ہے۔ نیب چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے اور ہر پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نیب نے انسداد بدعنوانی کی جامع حکمت عملی وضع کی ہے جس کا انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی کے طور پر اعتراف کیا گیا ہے۔

نیب نیتحقیقات کے معیار میں بہتری کیلئے ایک سینئر، ایک جونیئر انویسٹی گیشن افسران ایڈیشنل ڈائریکٹر، لیگل قونصل، فنانس ایکسپرٹ اور فرانزک ماہر پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا ہے جو کہ متعلقہ ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر کی سربراہی میں کام کرے گی۔ نیب نے اپنی جدید ٹریننگ اینڈ ریسرچ اکیڈمی قائم کی ہے جس میں انویسٹی گیشن افسران کو منی لانڈرنگ اور وائٹ کالرز کرائم کی تحقیقات کیلئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تربیت دی جا تی ہے۔ نیب نے نیب راولپنڈی میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں دستاویزات اور فنگر پرنٹ کی جانچ پڑتال اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے۔ فرانزک سائنس لیبارٹری سے نہ صرف تفتیشی افسران کے کام کے معیار میں بہتری آئی ہے بلکہ سکریسی یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔ نیب نے نیب ہیڈکوارٹرز میں منی لانڈرنگ سیل قائم کیا ہے اسی طرح تمام علاقائی بیوروز میں گواہوں کی ہینڈلنگ کیلئے سیل قائم کیا گیا ہے تا کہ تحقیقات میں قانون کے مطابق بہتری لائی جا سکے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال تسلسل سے جدید مانیٹرنگ اینڈ ایوالیوایشن نظام کے ذریعے نیب کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں جبکہ چیئرمین نیب انسپکشن ٹیم کے ذریعے نیب کی مجموعی کارکردگی کا فزیکل طریقہ سے بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ چیئرمین نیب نے شہریوں کی شکایات کیلئے نیب کے دروازے کھول دئیے ہیں جبکہ تمام علاقائی بیوروز میں شہریوں کی شکایات سننے کیلئے شکایت سیل قائم کیے گئے ہیں

اسی طرح تاجروں کی شکایات سننے کیلئے نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز میں خصوصی سیل قائم کیے گئے ہیں کیونکہ نیب بزنس کمیونٹی کا بڑا احترام کتا ہے جو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیب کے 25احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے تقریباً 1200ریفرنسز زیرسماعت ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کرپشن اور وائٹ کالر کرائم کے مقدمات کی تحقیقات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح ڈائریکٹر جنرل نیب آپریشن اور دیگر ڈائریکٹر جنرلز تجربہ کار ہیں،نیب نے قانونی ٹیم میں تجربہ کار لیگل قونصل پراسیکیوٹرز اور ڈپٹی پراسیکیوٹرز شامل کیے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ نیب کے انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن ڈویڑن ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر اور پراسیکیوٹر جنرل اکا?نٹیبلٹی کی زیرنگرانی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے سخت محنت کر رہا ہے۔ چیئرمین نیب نے نیب کے تمام افسران کے آفیسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت مفروروں اور اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے اپنی کوششیں دوگا کریں تا کہ ایکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق نمٹایا جا سکے۔ نیب کو یقین ہے کہ تمام متعلقہ فریقوں کی اجتماعی کوششوں سے پاکستان میں بدعنوانی کی روک تھام یقینی بنائی جا سکتی ہے کیونکہ بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز ہے،نیب چیئرمین نیب کی قیادت میں بھرپور اور مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے کوئی کر اٹھا نہیں رکھتا، چیئرمین نیب کو یقین ہے کہ عمل الفاظ سے زیادہ بلند ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -