ام المومنین حضرت عائشہؓ کی فضیلت

ام المومنین حضرت عائشہؓ کی فضیلت

  

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ کی فضیلت کے بارے میں بیان اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ سیدہ نے 17 رمضان المبارک 58ھ بمطابق 13 جولائی 678ء وفات پائی۔(بحوالہ: عائشہ بنت ابی بکرؓ (مضمون)، از پروفیسر ڈاکٹر امین اللہ وثیر، اُردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، جلد 12، مطبوعہ دانش گاہِ پنجاب، لاہور، 1973ء ایڈیشن، صفحہ 712)۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ”حضرت عائشہؓ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے کہ ثرید (ایک کھانا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے حد پسند تھا) کی فضیلت باقی کھانوں پر۔“ (البخاری، کتاب المناقب)۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ بہت زیادہ عبادت گزار، روزے دار اور تہجد گزار تھیں۔ ام المومنین کا نام عائشہؓ، آپ کے القاب صدیقہ و حمیرا اور حبیبۃ حبیب اللہ (یعنی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبوب ترین شریک حیات)۔نجم الاعلام النساء میں لکھا ہے کہ آپؓ کی ولادت نبوت کے پانچویں سال یعنی شوال سنہ 9 قبل ہجرت / جولائی 614ء کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی تھیں۔

سیرت خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مقالہ نگار صفحہ 597 پر رقمطراز ہے: ”مدینہ منورہ میں رخصتی کے بعد حضرت عائشہؓ نے مسجد نبوی کے اردگرد بنے ہوئے حجروں میں سے اسی حجرے میں قیام فرمایا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وصال فرما کر مدفون ہیں۔ یہی حجرے ازواج مطہراتؓ کے مستقل گھر تھے۔ حضرت عائشہؓ زندگی بھر مسجد کے اسی حجرے میں مقیم رہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کا گھرانہ سب سے پہلے نورِ اسلام سے فیض یاب ہوا۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے مسلمان ماں باپ کی گود میں آنکھیں کھولیں۔ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبوب ترین رفیقہئ حیات تھیں۔ وہ صاحب جمال تھیں، سرخ و سپید رنگ تھا (اسی لیے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کا لقب ”حمیرا“ رکھا)۔

حضرت عائشہؓ حسنِ نیت اور پاک باطنی کا پیکر تھیں۔ حضرت عائشہؓ کی فضیلت اور مناقب کے بارے میں سیرت خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فاضل مقالہ نگار صفحہ 601 پر لکھتا ہے: ”حضرت عائشہؓ کی زندگی ایک خانہ دار مسلمان خاتون کے لیے نمونہ ہے جو اپنے گھر کی مکمل نگہداشت کرتی ہے اور اپنے ماحول کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے احکام کے مطابق ایک مثالی صورت دینے کی تگ و دو میں مصروف رہتی ہے۔“

ام المومنین حضرت عائشہؓ کے لیے سب سے بڑا امتیاز تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے محبوب ہستی کی محبوب ترین رفیقہئ حیات تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہی کی گود میں سر مبارک رکھے ہوئے وصال فرمایا تھا۔

اب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے علمی کمالات کی تفاصیل ملاحظہ ہوں۔ حضرت عائشہؓ سے مروی احادیث کی کل تعداد 2210 ہے۔ ان میں سے 1297 احادیث صحیحین میں شامل ہیں۔ ان میں سے 174 متفق علیہ اور بخاری میں 54 اور مسلم میں 99 ہیں۔ حضرت عائشہؓ کے علم و فضل کا یہ عالم تھا کہ حضرت ابوموسیٰ الاشعریؓ فرماتے ہیں: ”ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جب بھی کوئی علمی مشکل آئی ہم نے حضرت عائشہ کے پاس اس بارے میں علم پایا ہے۔“ نامور تابعی حضرت مسروقؒ کہتے ہیں کہ میں نے بزرگ صحابہ کرامؓ کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہؓ سے علم الفرائض اور وراثت کے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ قرآن، حدیث، فقہ، شعر، عرب کی تاریخ، انساب پر سند اعلیٰ سمجھی جاتی تھیں۔ نامور تابعی حضرت عروہؒ فرماتے ہیں: ”میں نے قرآن، علم الفرائض، حلال و حرام، شعر، عرب کی تاریخ اور ان کے انساب پر حضرت عائشہؓ سے زیادہ کسی کو عالم نہیں پایا۔“ ابن عبدالبرؒ کے بقول حضرت عائشہؓ تین علوم میں اپنے عہد میں طاق تھیں: یعنی علم الفقہ، علم الطب اور علم الشعر۔“ ام المومنین کو سینکڑوں اشعار اور قصائد بھی یاد تھے۔ (بحوالہ: سیرت خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، صفحہ 604)۔

امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہؓ کے علم کو تمام ازواج مطہراتؓ بلکہ تمام عورتوں کے علم کے ساتھ جمع کیا جائے تو حضرت عائشہؓ کا علم بڑھ جائے گا۔ ابن حزمؒ نے حضرت عائشہؓ کا شمار ان سات صحابہؓ میں کیا ہے جن کے فتاویٰ عہد صحابہؓ میں سب سے زیادہ چلتے تھے۔ امام الذہبیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ فقہ میں امت کی تمام عورتوں سے زیادہ عالم تھیں۔ امام الزرکشیؒ نے اپنی کتاب المعتبر میں صراحت کی ہے کہ مسائل فقہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ حضرت عائشہؓ سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ کی ذات مسلمانوں کے لیے ایک ایسی دانش گاہ تھی جس سے مسلمان خواتین سمیت تمام صحابہ کرامؓ نے فیض حاصل کیا۔ ازواج مطہراتؓ کا یہ علمی اور فکری فیضان خواتین اسلام کی فکری بیداری کی صورت میں اب تک موجود ہے۔

حضرت عائشہؓ اپنے خطوط میں بسم اللہ کے بعد یہ لکھتی تھیں: ]من المبراۃ عائشۃ بنت ابی بکر حبیبۃ حبیب اللہ[ (عائشہؓ بنت ابی بکر، اللہ کے محبوب کی محبوب ترین رفیقہ حیات کے قلم سے)۔ تاہم اکثر سوانح نگاروں نے حضرت عائشہؓ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ پڑھ سکتی تھیں، لیکن لکھنا نہیں جانتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ بڑی فصیح و بلیغ زبان بولتی تھیں اور خطابت میں منفرد مقام کی حامل تھیں۔ الاحنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور ان کے بعد تمام خلفاء کے خطبات سنے ہیں لیکن میں نے حضرت عائشہؓ سے زیادہ کسی کو فصیح نہیں پایا۔ (بحوالہ: ترمذی)۔

ان کے پاس قرآن مجید کا ایک قلمی نسخہ موجود تھا جسے انہوں نے اپنے غلام ابویونس سے لکھوایا تھا۔ قرأت کے بعض طریقے بھی ان سے مروی ہیں۔ تابعین میں اکابر علماء کی اکثریت ان کے شاگردوں کی صف میں شامل ہے۔ انہیں شعر و سخن سے بھی دلچسپی تھی اور حسب موقع شعر پڑھ دینے کا ملکہ تھا۔ ان کی فصاحت بھی مشہور تھی۔ تاریخ عرب اور دیگر مضامین سے وہ خوب واقف تھیں۔ (بحوالہ: سیرت خیرالانام صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم، صفحہ 605)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفات سے پیشتر تیرہ دن علیل رہے، جن میں سے آخری آٹھ دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت عائشہؓ کے حجرے میں گزارے۔ حضرت عائشہؓ نے بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جس طرح خدمت اور تیمارداری کی، وہ ان کے لیے بہت بڑا شرف اور امت کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔ فتح خیبر کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی ازواج کے سالانہ مصارف کے لیے وظیفے مقرر کردیئے تھے۔ فتح مکہ کے بعد پورا جزیرۃ العرب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدموں میں تھا۔ مال و دولت سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اختیار میں تھی لیکن اس زمانے میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ازواج مطہراتؓ نے تنگ دستی کی زندگی بسر کی۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہد خلافت میں امہات المومنینؓ کے لیے عام صحابہ کرامؓ سے زیادہ وظیفے مقرر کیے۔ تمام ازواج کے دس دس ہزار اور حضرت عائشہؓ کے لیے بارہ ہزار سالانہ وظیفہ مقرر کیا۔ اس لیے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سب سے بڑھ کر محبوب تھیں۔ بقول سید سلیمان ندوی (سیرت عائشہؓ، صفحہ 197)

پروفیسر محمد رضا خان نے حضرت عائشہؓ کے حالاتِ زندگی اور خدماتِ اسلام کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”کاشانہ نبوت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فیض سے آپؓ کی خداداد قابلیتوں کو وہ جِلا ملی کہ عورتوں کے بارے میں دین کے اکثر مسائل امت نے صرف آپؓ سے سیکھے۔ ایک عالم کا قول ہے کہ میں نے آدھا دین حضرت عائشہؓ کی برکت سے سیکھا۔“ (بحوالہ: پروفیسر محمد رضا خان، تاریخ مسلمانانِ عالم، صفحہ 92)۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ نے اپنی زندگی کا باقی حصہ مدینہ منورہ میں نہایت وقار اور خاموشی سے گزارا اور دین کی اشاعت و تبلیغ میں مصروف رہیں۔ آپؓ کی تربیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت میں ہوئی۔ آپؓ نیکی، زہد، قناعت پسندی، اللہ کی عبادت گزاری، انسانی ہمدردی، اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ عالیہ کی وجہ سے صحابہ کرامؓ کی عقیدت مندی کا مرکز بنی رہیں۔ آپؓ کی مبارک سیرت دورِ جدید کی خواتین کے لیے بہترین نمونہ تقلید ہے۔ آپؓ 17 رمضان المبارک 58ھ کو فوت ہوئیں اور اپنی وصیت کے مطابق مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کی گئیں۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ صدیقہ کی مبارک سیرت میں دورِ جدید کی خواتین کے لیے حسب ذیل پیغام ہے:

(1) دورِ جدید کی خواتین ام المومنینؓ کی طرح اپنا گھر ایک مثالی اسلامی گھر بنائیں۔

(2) ہماری خواتین اپنے آپ کو ام المومنینؓ کے نمونے کے مطابق دینی علوم سے آراستہ کریں اور یہ پیغام امت تک پہنچائیں۔

(3) ام المومنین حضرت عائشہؓ کے فضائل پر پاکستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں میں سیمینار ہوں۔

(4) ہماری خواتین حضرت عائشہؓ کے نمونے کے مطابق اپنے شوہروں کی خدمت گزاری میں وقت گزاریں۔

(5) ہماری خواتین زہد و تقویٰ، قناعت پسندی، انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کو ام المومنینؓ کی سیرت مبارکہ کی روشنی میں اپنا شعار بنائیں۔

(6) دورِ جدید میں مسلمان مردوں کا بھی فرض ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں اپنی بیویوں کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان سے احترام اور محبت سے پیش آئیں۔ ٭

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -