لاک ڈاؤن نرم، کورونا کے حملے سخت، ملک بھر میں آج سے دکانیں کھل جائیں گی ایس او پیز پر عمل ضروری، مزید 28کورونا مریض جان کی بازی ہار گئے، 1536نئے کیسز رپورٹ

    لاک ڈاؤن نرم، کورونا کے حملے سخت، ملک بھر میں آج سے دکانیں کھل جائیں گی ...

  

لاہور، پشاور، کوئٹہ کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) سندھ حکومت نے آج پیر سے تاجروں کو دن میں 11 گھنٹے دکانیں کھولنے کی اجازت دیدی، دکانوں کے اندر اور گاہکوں میں تین فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا،دکاندار 4 بجے سے دکان بند کرنا شروع کردیں گے۔ دوسری طرف سندھ حکومت نے کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند کیے گئے 9 سرکاری محکموں کے دفاتر کل سے کھولنے کا اعلان کر دیا۔چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان محکموں کے سیکریٹریز اور ضروری عملہ کورونا صورتحال میں محکمہ صحت اورحکومت سندھ کی جانب سے دی گئی ہدایت کے تحت سرکاری امورکی انجام دہی کے لیے ہمہ وقت تیارہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق جن دفاتر کو کھلنے کی اجازت دی گئی ہے ان میں محکمہ اوقاف، انسانی حقوق، صنعت و تجارت، انفارمیشن، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، محکمہ سرمایہ کاری، محکمہ مائنارٹیز، محکمہ سوشل ویلفئیر، یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اور ورکس اینڈ سروس کے دفاتر شامل ہیں حکومت سندھ نے صوبے میں سخت حفاظتی اقدامات کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے ہفتے کے 3دن 100 فیصد لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔سندھ حکومت اور کاروباری برادری میں کاروبار کھولنے سے اتفاق کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے آج (11 مئی) سے صبح 6 سے شام 5 بجے تک دکانیں کھولنے کا اعلان کیا تھا اور اب اس سلسلے میں حکومت سندھ کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ 7مئی کو قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کورونا وائرس سے مرض کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔اس سلسلے میں بتایا گیا کہ مذکورہ اجلاس میں تمام صوبوں اور فیڈریشنز نے وفاق کے ساتھ مشاورت کے بعد کچھ مخصوص کاروباروں کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی شرط کے ساتھ کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اسی تناظر میں سندھ حکومت نے بھی چند کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت نے واضح کیا کہ تعمیراتی صنعت اور اس سے منسلک مینوفیکچرنگ کی صنعت کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی شرط کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس سلسلے میں جن کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔پائپ ملز(پی وی سی اور اسٹیل)الیکٹرک کیبل اور سوئچ گیئر مینوفیکچرنگ،اسٹیل/ ایلمونیم مینوفیکچرنگ بشمول ری رولنگ ملز،سیرامک مینوفیکچرنگ،رنگ کی فیکٹریاں،بڑھئی/ فرنیچر کی دکانیں،ریئل اسٹیٹ، تعمیرات کی مینوفیکچرنگ سے منسلک دکانیں شامل ہیں اس کے علاوہ رہائشی علاقوں میں قائم دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے البتہ شاپنگ مالز اور پلازہ میں موجود کسی بھی دکان کو کھولنے کی اجازت نہیں ہو گی۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ان دکانوں کو پیر سے جمعرات کو صبح 8بجے سے شام 4بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی البتہ چند کاروبار بدستور بند رہیں گے۔جن کاروباروں کو بند رکھنے کا کہا گیا ہے ان میں نائی کی دکان، بیوٹی پارلر، گیم سینٹرز، ڈبو کیرم، اسنوکر کی دکانیں، جم، کیفے، ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانے جبکہ پارکس اور سوشل کلب بھی شامل ہیں۔حکومت سندھ نے واضح کیا کہ ہفتے کے تین دن جمعہ، ہفتہ اور اتوار 100 فیصد لاک ڈاؤن ہو گا اور ان تین دنوں کو 'محفوظ دن' تصور کیا جائے گا۔ان تین دنوں کے دوران صرف میڈیکل اسٹورز، فلاحی تنظیموں، کوریئر سروس،، دودھ دہی کی دکانوں، اخبار فروشوں، طبی عملے کو کام کی اجازت ہو گی۔مذکورہ تین دنوں کے دوران صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک گراسری اسٹورز، جنرل اسٹورز، بیکری، گوشت، پھل اور سبزی کی دکانوں سمیت چند اہم اشیا کی دکانوں کو استثنیٰ حاصل ہو گا۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ جن علاقوں کو محکمہ صحت، کمشنر یا متعلقہ حکام کی جانب سے خطرناک قرار دیا گیا ہے وہاں سخت لاک ڈاؤن اور پابندیوں کا سلسلہ برقرار رہے گا اور غیرضروری اشیا کی حامل دکانوں کو کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس سلسلے میں عوام سے درخواست کی گئی کہ وہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور سماجی فاصلوں سمیت دیگر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔اس حوالے سے واضح کیا گیا کہ حکومت سندھ بیماری کے پھیلاؤ کا جائزہ لیتی رہے گی اور اگر کورونا وائرس ہسپتالوں میں درکار سہولیات سے زیادہ تیزی سے پھیلا تو تو لاک ڈاؤن میں نرمی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔۔ پنجاب میں جزوی لاک ڈاؤن میں اکتیس مئی تک توسیع کی گئی ہے جبکہ ، ہفتے میں چار روز کاروبار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے خیبر پختونخوا میں بھی 4 روز دکانیں کھلیں گی. سندھ میں ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا،شاپنگ مالز، شادی ہالز،ریسٹورنٹ،بند رہیں گے،بلوچستان میں کل سے دکانیں فجر کے بعد سے شام پانچ بجے تک کھلیں گی۔ پنجاب میں دکانیں اور آٹو ورکشاپس صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔ کنسٹرکشن، پی وی سی پائپ، الیکٹرک، اسٹیل، ایلومینیم کے کاروبار کی اجازت ہو گی۔صوبے میں جمنیزیم، باربر شاپس، بیوٹی پارلرز، پوسٹل اور کورئیر سروسز بھی کھول دی گئیں۔ ریسٹورنٹس سے ٹیک اوے، ہوم ڈلیوری، ٹائر شاپس، پٹرول پمپس پر 24 گھنٹے کام جاری رہے گا۔پنجاب میں شاپنگ پلازے، شادی ہالز، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں کی بندش برقرار رہے گی۔ادھر خیبرپختونخوا میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا، باقی دنوں میں کاروبار چلے گا۔ دکانیں صبح تین بجے سے شام 4 بجے تک کھولی جائیں گی۔ بلوچستان میں سحری سے شام 5 بجے تک دکانیں کھلی رہیں گی، میڈیکل اسٹور اور دودھ دہی کی دکانیں چوبیس گھنٹے کھلیں گی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی نرمی کے ساتھ کورونا لاک ڈاؤن میں 31 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں تعمیراتی سیکٹر، اسٹیل، پلاسٹک پائپ، الیکٹرانک آلات، پینٹس کی انڈسٹری کھول دی گئی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چھوٹی مارکیٹیں طے شدہ ضابطوں کے ساتھ کھولی جا سکیں گی جنہیں ہفتے میں 5 دن صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھولا جا سکے گا۔اس کے علاوہ لاک ڈاؤن میں جنرل اسٹور، بیکری، آٹا چکی، ڈیری شاپس، گوشت، فروٹ شاپس اور تندور پورا ہفتہ کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔لاک ڈاؤن کے دوران پوسٹل کورئیر، پک اینڈ ڈراپ سروسز کو بھی صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، ساتھ ہی ٹائرپنکچر شاپس، ڈرائیور، ہوٹل، پیٹرول پمپ اور ریسٹورنٹس 24 گھنٹے کھولے جا سکتے ہیں۔نوٹیفکیشن میں سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ تمام افراد کے لیے طے شدہ حکومتی ضابطوں پر عمل درآمد کرنا لازمی ہوگا۔حکومتی اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے، شاپنگ مالز، شادی ہالز، شہر کے تمام بڑے تجارتی مراکز، بڑے ریسٹورنٹس اور ہوٹلز 31 مئی تک بدستور بند رہیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ ہائیر سیلون اور حجام کی دکانیں بھی بند رکھی جائیں گی۔پارکس، پولو کلب، ٹینس کورٹ ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے کھولنے کی اجازت ہوگی لیکن پارکس میں بھی پلے ایریاز بند ہوں گے۔

لاک ڈاؤن نرمی

اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ، لاہور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں اتوار کوکورونا سے مزید 28 افراد جاں بحق ہو گئے جس سے، ہلاکتیں 666 اور متاثرہ مریضوں کی تعداد 30903 ہوگئی خیبرپختونخوا میں 11، سندھ میں 9، پنجاب میں 5، بلوچستان میں 2 اور اسلام آباد میں ایک شخص جاں بحق ہوا، گزشتہ روزکورونا کے مزید 1536 کیسز کی تصدیق ہوئیاب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 245 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ پنجاب میں 197 اور سندھ میں 189 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 26، اسلام آباد 5 اور گلگت بلتستان میں 4 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔اتوار کو ملک میں کورونا کے مزید 1536 کیسز اور 28 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس میں سے خیبرپختونخوا میں 11 ہلاکتیں اور 160 کیسز، سندھ میں 9 ہلاکتیں اور 709 کیسز جبکہ پنجاب میں 5 افراد جاں بحق اور 475 کیسز رپورٹ ہوئے۔ بلوچستان میں 2 افراد جاں بحق اور 141 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ اسلام آباد میں ایک ہلاکت اور 32 کیسز، گلگت بلتستان میں 12 اور آزاد کشمیر میں 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ میں اتوار کوکورونا وائرس کے مزید 709 کیسز اور 9 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جن کی تصدیق صوبائی حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کی جانب سے کی گئی ہے۔مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سوشل میڈیا جاری بیان میں بتایا گیا کہ سندھ میں 709 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد 11480 ہو گئی ہے جب کہ مزید 9 اموات کے بعد ہلاکتیں 189 تک پہنچ گئی ہیں۔پنجاب میں اتوار کو کورونا سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد انتقال کرجانے والوں کی مجموعی تعداد 197 ہوگئی۔ پرونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 475 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 11568 تک جاپہنچی ہے۔پنجاب میں کورونا سے اب تک 4323 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں اتوار کو مزید 2 افراد مہلک وائرس کے باعث انتقال کرگئے جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 26 ہوگئی۔ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق کورونا کے مزید 141 کیسز سامنے آچکے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 2017 ہوگئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 242 افراد اب تک صحت یاب ہو چکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں اتوار کو کورونا وائرس کے مزید 32 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے ا?ئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام ا?باد میں کیسز کی مجموعی تعداد 641 ہو گئی ہے جب کہ دارالحکومت میں وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔گلگت بلتستان میں اتوار کو مزید 12 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 442 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق مہلک وائرس سے اب تک 4 ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ کورونا سے متاثرہ 304 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے اتوار کو کورونا کے 7 نئے کیسز سامنے ا?ئے ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل نے کی ہے۔پورٹل کے مطابق علاقے میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 86 ہوگئی ہے اور 60 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔خیبر پختونخوا میں اتوار کو مزید 11 افراد کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 245 تک جاپہنچی ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق پشاور میں 8، مردان، سوات اور بٹگرام میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔

پاکستان ہلاکتیں

واشنگٹن، بیجنگ،لندن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)) دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 80 ہزار 435 ہو گئی، وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 41 لاکھ سے تجاوز کر گئی، برازیل میں مزید 664، برطانیہ میں 346، اٹلی 194، اسپین میں 179 ہلاکتیں ہوئیں۔ہانگ کانگ میں تین انٹی وائرس ادویات کے کورونا مریضوں پر مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، ڈاکٹرز نے پانچ روز میں وائرس ختم ہونے کی تصدیق کی ہے۔کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، برازیل میں مزید 664 افراد لقمہ اجل بنے، تعداد10 ہزار 656 ہو گئی۔ برطانیہ میں مزید346 افراد جان سے گئے جس کے بعد تعداد31 ہزار 587 ہو گئی۔اٹلی میں مزید 194 ہلاکتیں ہوئیں، تعداد 30 ہزار 395 ہو گئی۔ اسپین میں مزید 179 لقمہ اجل بنے، تعداد 26 ہزار 478 ہو گئی۔ میکسیکو میں مزید 199، کینیڈا میں 124، بھارت میں 116، ترکی میں 50، ایران میں 48 اموات ہوئیں۔ فرانس میں 80 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جو ایک مہینے میں ہونے والی یومیہ اموات کی سب سے کم تعداد ہے۔سعودی عرب کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ مملکت میں کرونا کا شکار ہونے والے 10 ہزار مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی وزارت صحت نے جاری ایک بیان میں کہاکہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 1704 کیسز سامنے آئے ہیں۔کرونا کے نئے کیسز میں 18 فی صد خواتین اور 82 فی صد مرد ہیں۔ اس کے علاوہ90 فی صد بچے اور 4 فی صد 65 سال سے زاید عمر کے افراد شامل ہیں۔ تازہ متاثرین میں 30 فی صد سعودی باشندے اور 70 فی صد غیرملکی شہری شامل ہیں۔ کورونا وائرس سے امریکا میں مزید ایک ہزار 422 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد تعداد 80 ہزار 37 ہو گئی، سابق صدر براک اوباما نے کورونا وائرس کے بحران پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل پر کڑی تنقید کی ہے۔مہلک وائرس نے امریکا کو جکڑ رکھا ہے، مزید ایک ہزار 422 افراد ہلاک ہو گئے۔ سب سے زیادہ 186 افراد ریاست نیویارک میں جان سے گئے، ریاست میساچیوسٹس میں 138 افراد لقمہ اجل بنے، متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ 48 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے تجزیے کے مطابق امریکہ میں ایک تہائی اموات کیئر ہومز اور نرسنگ کے مراکز میں ہوئیں، بیماریوں سے بچاؤ کے ادارے نے نرسنگ کے مراکز کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے۔سابق امریکی صدر براک اوباما نے کورونا وائرس پر امریکی ردعمل کوتباہ کن قرار دے دیا، امریکی میڈیا کے مطابق یہ بات انہوں نے ایک نجی کال میں کہی۔ فرانس اورسپین میں کورونا وائرس کی وبا کے انسداد کے لیے نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے۔ اتوار کے روز سے اس سلسلے میں کئی طرح کی نرمی نافذالعمل ہوگئی۔ گزشتہ روز فرانس میں اس وائرس کے نتیجے میں اسی ہلاکتیں ہوئی، جو اپریل کے آغاز سے اب تک کی کم ترین ہیں۔ دوسری جانب ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کورونا وائرس وبا کی دوسری لہر کا سبب بن سکتی ہے۔ اسپین میں حکام نے کووِڈ انیس سے شدید متاثرہ میڈرڈ اور بارسلونا میں فی الحال لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم دیگر علاقوں اور قصبوں کو اب رفتہ رفتہ کھولا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ عالمگیر وبا کے سب سے خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے، کروناوائرس کے خلاف سب کو مل کر لڑنا ہوگا۔غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ کروناوائرس کے تناظر میں ہمیں سب سے زیادہ خطرات ہیں، برطانیہ میں جو صورت حال آج ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ ہر مرحلے میں مل کر محنت کرنے کی ضرورت ہے، موجودہ حالات میں برطانیہ میں لاک ڈاؤن ختم نہیں کیا جاسکتا، کرونا کے باعث ملک میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔برطانیہ میں مہلک وائرس سے اموات کی تعداد 31 ہزار 500 ہوگئی ہے جبکہ دو لاکھ سے زائد افراد متاثر ہیں اٹلی میں 2 ماہ بعد لاک ڈاون میں نرمی کے بعد منچلے ساحل سمندر پر کائٹ سرفنگ کرنے پہنچ گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں حکومت نے 2 ماہ بعد کورونا سے مرنے اور متاثر ہونے والوں کی تعداد میں کمی کے بعد لاک ڈاو?ن میں نرمی کا اعلان کردیا۔لاک ڈاون میں نرمی کے اس اعلان پر اٹلی کے ٹاون میں ساحل سمندر کھلنے کی اجازت مل گئی جس کے بعد منچلوں کی بڑی تعداد کائٹ سرفنگ کرنے پہنچ گئی۔خطروں کے کھلاڑیوں نے 2 ماہ بعد اس اجازت پر ناصرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ سمندر کی لہروں پر کائٹ سرفنگ کرتے ہوئے خوب کرتب بازی کی اور سماجی فاصلے کا بھی خیال رکھا۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -