عید سے قبل پنجاب کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان

      عید سے قبل پنجاب کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان

  

لاہور(لیاقت کھرل) عیدالفطر سے قبل پنجاب کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑڑ کا فیصلہ کیا گیا۔ ناقص کارکردگی اور نا اہلی پر متعدد صوبائی محکموں کے سیکرٹریز،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز تبدیل کر نے کے لیے سمری تیار کی جا رہی ہے جو وزیر اعلی پنجاب کو جلد پیش کئے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے ذرائع سے روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق عیدالفطر سے قبل پنجاب میں بڑے پیمانے پر بیوروکریسی میں تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باقاعدہ سمری کی تیاری شروع کر دی ہے۔ نئے چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا فیصلہکیاہے اور اس میں سابق چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کے منظور نظر اور ان کے دور میں تعینات ہونے والے صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اور کمشنرز سمیت ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کے حکم پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فہرست تیارکرنے کے لئے ہوم ورک شروع کر دیا ہے جس میں ناقص کارکردگی اورنا اہلی کا مظاہرہ کرنے والے صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اور مختلف ریجنوں کے کمشنر اور متعدد اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز تبدیل کئے جانے کے لئے فہرست تیار کیا جا رہی ہے جو کہ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو جلد پیش کی جا رہی ہے۔ جس کا چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک جائزہ لینے کے بعد فہرست کو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے منظوری کے لیے بھجوائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے ناقص کارکردگی کے حامل بیوروکریٹس کو تبدیل اور اپنی مرضی کے افسران کی تعیناتی کے لیے وزیر اعلی پنجاب سے پہلے ہی مشاورت مکمل کر رکھی ہے اور اس کے بعد نئے چیف سیکرٹری پنجاب نے اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کو فہرست تیار کرنے کے لئے باقاعدہ احکامات جاری کئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عہدوں سے فارغ کئے جانے والے بیوروکریٹس میں لاک ڈاؤن میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں ناکامی اور ذخیرہ اندوزی سمیت پرائس کنٹرول میں نا اہلی کا مظاہرہ کرنے والے سرفہرست بتائے گئے ہیں۔ جن میں معتدد اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزاور مختلف ریجنوں کے کمشنرز بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں لاہور کا پورا انتظامی سیٹ اَپ تبدیل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مشاورت کی گئی ہے۔ جس میں الگ سے سفارشات تیار کر کے بھجوائی جا رہی ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے چار اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز تبدیل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح فیصل آباد۔ ساہیوال اور گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز سمیت کمشنرز تبدیل کرنے کے لیے وزیر اعلی پنجاب کو سفارشات تیار کر کے بھجوائی جا رہی ہیں۔۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کے حوالے سے اگلے دو چار روز اہم بتائے گئے ہیں۔ تاہم اس میں دوسرے اور تیسرے مرحلہ میں مختلف اضلاع اور تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی تبدیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ٹاؤ ون افسران اور ریونیو افسران کے بھی تبادلے کرنے کے لئے الگ سے پیپر ورک تیار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ متعدد بیورو کریٹس نے اپنی مرضی کی تعیناتی حاصل کرنے کے لئے پنجاب کے سینئر صوبائی وزیر کے چکر لگانے شروع کردئیے ہیں جس میں پنجاب حکومت میں ایک نئی لابی کے بیورو کریٹس کی تعیناتی کا امکان ظاہرہ کیا جا رہا ہے

بیورو کریسی تبادلے

مزید :

صفحہ اول -