پنجاب پولیس کے 2ایماندار افسروں سے مہنگی ترین چوری کی گاڑیاں بر آمد، بڑی سرکار نے معاملے کو دبا دیا

پنجاب پولیس کے 2ایماندار افسروں سے مہنگی ترین چوری کی گاڑیاں بر آمد، بڑی ...

  

لاہور(کرائم رپورٹر) لاہور پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کے سامنے ایس پی کی ایمانداری کا پول کھول دیا۔ ڈی آئی جی نے ایس پی سی آئی اے و اینٹی کار لفٹنگ سٹاف عاصم افتخار کمبوہ اور ایس پی عاطف حیات کے زیر استعمال مال مقدمہ کی نئی گرا نڈے کار اور سرف ڈالا واپس منگوا لیا اور معاملے کی تحقیقات کے بعد کارروائی کے بجائے معاملہ دبا دیا۔بتایا گیاہے ڈی ایس پی اینٹی کار لفٹنگ سٹاف کینٹ ریحان جمال نے اپنے ریڈر ضیغم سے گاڑیوں کا ریکارڈ طلب کیا تو علم ہوا کہ دو گاڑیاں غائب تھیں۔ریڈر ضیغم نے بتایا کہ ایک سرف ڈالا سابق ایس پی عاطف حیات جبکہ دوسری گرانڈے کارایس پی اینٹی کار لفٹنگ سٹاف کے زیر استعمال ہے۔ڈی ایس پی نے دونوں گاڑیوں کی فائلیں واپس منگوانے کا حکم دیا۔ تفتیشی سب انسپکٹر نواز اورریڈرضیغم نے جب ایس پی کے ریڈر سے فائل واپس کرنے کا میسج دیا تو ایس پی نے انہیں دفتر پیش ہونے کا کہا مگر ڈی ایس پی نے انہیں ایس پی کے سامنے پیش ہونے سے روک دیا جس پر ایس پی عاصم افتخار کمبوہ نے سب انسپکٹر نواز اور ریڈر ضیغم کو معطل کر کے کلوز ہیڈ کواٹر کر دیا۔ ڈی ایس پی ریحان جمال نے ایس پی کو عملے کی بحالی کا کہا تو عاصم افتخار نے انکار کر دیاکہ یہ میرا اختیار ہے میں جو چاہے کروں۔ جس پرریحان جمال نے ڈی آئی جی ڈاکٹر انعام وحید کو بتایا کہ ہمارا ایماندار ایس پی مقدمے کی گاڑی خوداستعمال کر رہا ہے۔ڈی آئی جی نے ایس پی عاصم افتخار کو دفتر بلا یا اور گاڑی کے بارے دریافت کیا تو ایس پی نے کہا کہ انہوں نے گاڑی پر ڈیڑھ لاکھ کا خرچہ کیا ہے تاہم ڈی آئی جی نے گاڑیاں واپس منگوا کر کارروائی کے بجائے معاملہ دبا دیا ہے کیونکہ یہ بھی ایمانداری کی ایک مثال ہے۔

ایماندار افسر

مزید :

صفحہ آخر -