آم کے برآمدی سیزن کی مقررہ تاریخ میں توسیع کی جائے، برآمد کنندگان

  آم کے برآمدی سیزن کی مقررہ تاریخ میں توسیع کی جائے، برآمد کنندگان

  

اسلام آباد (اے پی پی) برآمد کنندگان نے وزارت تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ آم کے برآمدی سیزن کے آغاز پر مقررہ تاریخ میں مزید 12 روز کی توسیع کرتے ہوئے سیزن کا آغاز یکم جون 2020ء سے کرنے کا اعلان کیا جائے، ناموزوں موسمی حالات اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بعض مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ّپی ایف وی اے) کے حکام نے کہا ہے کہ آم کے برآمدی سیزن کا آغاز قبل ازیں مقررہ تاریخ 20 مئی کی بجائے یکم جون سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موسمی حالات کے باعث پنجاب اور سندھ میں آم کی برداشت میں دو ہفتوں کی تاخیر ہوئی ہے۔ مزید برآں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث افرادی قوت کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی بھی ایک مسئلہ ہے۔ پی ایف وی اے کے پیٹرن انچیف وحید احمد نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پھلوں کے ساتھ ساتھ دیگر فصلیں بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آم کی برآمدات کے لئے دیگر ضروری عوامل بشمول افرادی قوت کے سفر سمیت پیکنگ کے مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آم بھی پوری طرح تیار نہیں ہوا اور اگر 20 مئی سے برآمدات شروع کر دی گئیں تو اس سے پاکستانی پھل کے بارے میں عالمی منڈی میں مثبت تشخص کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھی ناموزوں آم کی برآمد سے بھارتی نقصان ہوا تھا۔ ایسوسی ایشن نے وزارت تجات کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ آم کے برآمدی سیزن کے آغاز میں توسیع کی جائے۔

تاکہ پورے تیار آم کو بیرون ملک بھیج کر قیمتی زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساتھ نقصان سے بھی بچا جائے۔

مزید :

کامرس -