خانیوال: ہوٹلوں‘ دکانوں‘ بھٹوں پر جھوٹے بچوں سے مزدوری کرانیکا انکشاف‘ لیبر حکام کی خاموشی سوالیہ نشان‘ وزیراعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    خانیوال: ہوٹلوں‘ دکانوں‘ بھٹوں پر جھوٹے بچوں سے مزدوری کرانیکا انکشاف‘ ...

  

خانیوال (نمائندہ پاکستان) خانیوال شہر میں جگہ جگہ ہوٹلوں، دوکانوں،سیلنگ شاپ، ریڑھیوں اور چائے کے کھوکھوں پر کام کرنے والے بچوں کی عمریں تقریباً سات سے بارہ سال کی ہیں قلم اور کتاب اٹھانے والے(بقیہ نمبر44صفحہ6پر)

ہاتھ جبری مشقت کرنے پر مجبور ہیں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے افراد نے بچوں پر بھٹہ مزدوری پر پابندی لگنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو ہوٹلوں اور دوکانوں پر کام کرنے کیلئے بھیجنا شروع کردیا جس سے شہر میں واقع ہوٹلوں، دوکانوں اور کام کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد کم عمر بچوں کی ہے ہوٹلوں اور دوکانوں پر ننھے بچے سارا سارا دن کام کرتے ہیں اور ان کو ماہانہ 2000سے 4000ہزار تک تنخواہ دی جاتی ہے لیبر ڈیپارٹمنٹ اور چائلڈ لیبر کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ محکمہ کی ملی بھگت سے یہ کام جاری ہے

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -