وہاڑی: محنت کش کا معصوم بچہ دماغی بیماری میں مبتلا‘ علاج کرانے کیلئے پیسے کہاں سے لاؤ‘ وزیراعظم مدد کریں‘ محمد قاسم کی دہائی

  وہاڑی: محنت کش کا معصوم بچہ دماغی بیماری میں مبتلا‘ علاج کرانے کیلئے پیسے ...

  

وہاڑی(بیورورپورٹ،نامہ نگار) گڑھا موڑ کے نواحی گاؤں 98ڈبلیوبی کامحنت کش لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدوری نہ ملنے پرمعصوم بیماربیٹے کاعلاج کرانے سے محروم گھرمیں (بقیہ نمبر43صفحہ6پر)

بھی نوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ایک ماہ کے معصوم بیٹے کوپیدائشی طورپردماغ میں مسئلہ ہے جمع پونجی گڑھاموڑکے طارق نامی ڈسپنسرنے علاج معالجہ کے بہانے اینٹھ لی۔واقعات کے مطابق 98ڈبلیوبی کے رہائشی محمدقاسم نے بتایاکہ تقریباًایک ماہ قبل اس کے ہاں بیٹے کی پیدائش ڈی ایچ کیوہسپتال وہاڑی میں ہوئی لیکن بچہ پیدائش کے وقت ایکٹیونہیں تھاجس کی وجہ سے اس کوآئی سی یووارڈمیں رکھاگیاڈی ایچ کیوہسپتال کے چائلڈسپشلسٹ نے بیٹے کامعائنہ کرنے کے بعدبتایاکہ بچے کے دماغ میں مسئلہ ہے مزیدتشخیص اس کے متعددٹیسٹ کرانے کے بعدہوگی اس نے بتایاکہ میں کراچی میں محنت مزدوری کرتاہے پورے ملک میں لاک ڈا?ن کی وجہ سے مجھے گھرواپس آناپڑامزدوری نہ ہونے کی وجہ سے گھرمیں شدیدپریشانی کاسامناکرناپڑابیٹے کی پیدائش پرجب اس کی بیماری کے بارے میں علم ہواتومشکلات میں مزیداضافہ ہوگیاادھرادھرسے قرض وغیرہ لے کربیٹے کے علاج معالجہ کی کوشش کی اورگڑھاموڑمیں ڈاکٹرطارق کے ہسپتال میں چیک کرایاتوڈاکٹرطارق نے جوکہ مبینہ طورپرڈسپنسرہے جبکہ خودکوڈاکٹرکہلواتاہے اس نے چیک اپ کے بعدمیڈیسن لکھ کردی اورجوکہ میڈیکل سٹورسے خریدکرلے آیاتواس نے میرے بیٹے کوڈرپ لگادی اورفیس کی مدمیں 3ہزارروپے اینٹھ لئے جبکہ ڈرپ لگانے والے نے علیحدہ سے5سوروپے لے لئے جبکہ ڈاکٹرطارق نے کہاکہ اگربچے کاعلاج کراناہے توپیسوں کاانتظام کرواس کااپریشن کرناپڑے گاجس کاخرچہ تقریباًڈیڑھ لاکھ روپے ہوگا۔محمدقاسم نے بتایاکہ میرے گھرمیں اس وقت دووقت کی روٹی پکانے کیلئے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں بیٹے کے علاج کیلئے اتنی رقم کہاں سے لا?ں اس نے مزیدبتایاکہ وہ گزشتہ دنوں مزدوری کیلئے لاہورچلاگیاتھااوراس کو4سوروپے دیہاڑی پرمزدوری مل گئی تھی لیکن اچانک بیٹے کی طبیعت بگڑنے پرواپس آناپڑااس کایہ بھی کہناتھاکہ وزیراعظم کے احساس کفالت پروگرام سے بھی مجھے کچھ نہیں ملاہے اس نے صاحب ثروت مخیرحضرات سے اکلوتے بیٹے کے علاج معالجہ اورگھریلواخراجات کیلئے مددکرنے کی اپیل کی ہے۔

بیماری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -