جتوئی: بستی جھنڈیوالی میں معذور افراد مسیحا کے منتظر‘ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے امداد‘ راشن راہمی کے دعوے فلاپ‘ غریبوں کا احتجاج

  جتوئی: بستی جھنڈیوالی میں معذور افراد مسیحا کے منتظر‘ ضلعی انتظامیہ کی ...

  

جتوئی (نمائندہ پاکستان) متعدد بار آواز اٹھانے کے باوجود مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔بستی جھنڈیوالی کے چالیس سے زائد بستر مرگ پر پڑے (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

معذور افراد کسی مسیحا کے منتظر۔اتفصیلات کے مطابق تحصیل جتوئی کے نواحی علاقہ بستی جھنڈیوالی کے بستر مرگ پر پڑے پراسرار بیماری کا شکار معذور افراد نے پرامن احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ متعدد بار میڈیا کے ذریعے اپنی آواز بلند کرچکے ہیں مگر مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ ان سنی کرتے ہوے ٹس سے مس نہ ہوئی ہے اور ان کو حکومتی امداد ملی نہ راشن اور نہ انکے علاج معالجہ کیلیے کوئی اقدامات اٹھاے گئے ہیں۔پراسرار بیماری کا شکار ان افراد نے بتایا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کی راہ دیکھ رہے ہیں۔انہیں ایک عجیب و غریب پراسرار بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔بیس سال کی عمر کو پہنچتے ہی یہاں کے نوجوانوں کو یہ بیماری اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیتی ہے۔ہاتھ پاوں ٹانگیں کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں۔پٹھے کمزور ہوتے ہوتے مردہ ہو جاتے ہیں۔وجود کو سوکھا پن اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اور بالآخر تیس سال کی عمر کو پہنچتے ہی یہ عجیب و غریب بیماری ان کو پوری طرح جکڑ لیتی ہے اور وہ چلنے پھرنے اٹھنے بیٹھنے سے قاصر ہو کر بستر تک محدود ہو جاتے ہیں۔ وجود کے لاغر پن کی وجہ سے معاشی تنگدستی کا بھی شکار ہیں۔پراسرار بیماری کا شکار ان افراد نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ اور وزیراعلیٰ پنجاب سے علاج،راشن اور مالی معاونت کیلیے فی الفوراقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -