نشتر میں ڈاکٹرز‘ نرسز‘طبی عملے کا فوٹو سیشن‘ احتیاطی تدابیر کا نعرہ ”دفن“

  نشتر میں ڈاکٹرز‘ نرسز‘طبی عملے کا فوٹو سیشن‘ احتیاطی تدابیر کا نعرہ ...

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)نشتر میڈیکل یونیورسٹی وہسپتال انتظامیہ نے 40 سے زائد افراد پر مشتمل طبی عملے کو کورونا میں مبتلا کروا کے بھی سبق نہ سیکھا، حکومت اور طبی ماہرین کی طرف سے ایک جانب سوشل ڈسٹینسنگ(میل جول میں احتیاط مناسب فاصلے) کا نعرہ لگایا مگر نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال میں دھجیاں اڑا دی گئیں،نشتر انتظامیہ کی جانب سے کورونا سے صحت یاب ہونے والے ڈاکٹروں نرسز اور پیرا میڈیکس کو فوٹو سیشن کے لئے ایک جگہ اکٹھا کر لیا،پی(بقیہ نمبر29صفحہ6پر)

ایم اے کے صدر سمیت دیگر انتظامی افسران نے شرکت کی ہاتھوں میں سفید جھنڈے اٹھائے کندھے سے کندھا ملائے نعرے لگاتے رہے، تفصیل کے مطابق نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال انتظامیہ نے اپنے ہی طبی عملے کے 28 ڈاکٹرز 07 نرسز اور پیرا میڈیکس سمیت انکے اہل خانہ کے کورونا میں مبتلا ہونے کے باوجود سبق نہیں سیکھا،اس حوالے سے پہلے بھی نشتر انتظامیہ نے سب ڈاکٹروں کو اکٹھا کر کے آگاہی واک منعقد کی تھی جس پر سیکرٹری ہیلتھ کی جانب سے سخت سرزنش کی گئی تھی تاہم گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر سوشل ڈسٹینسنگ (سماجی فاصلے)کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے حال ہی میں کورونا سے صحت یاب ہوئے ڈاکٹرز نرسز پیرا میڈیکس کو ایک کمرے میں اکٹھا کیا گیا اور سوشل میڈیا پر سب اچھا کی رپورٹ دینے کے لئے فوٹو سیشن کیا جاتا رہا اس دوران پی ایم اے کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج،پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود،اور 40 سے زائد دیگر طبی عملہ موجود تھا جنہوں نے ہاتھوں میں سفید پرچم تھام کر کندھے سے کندھا جوڑ کر خوب نعرے بازی کی جبکہ یہی تمام ڈاکٹر عوام سے سماجی فاصلہ رکھنے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں، ایک جانب حکومت اور محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر سوشل ڈیسٹینسنگ(میل جول میں احتیاط اور ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ)رکھنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں جبکہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال انتظامیہ جو اب تک اپنے عملے جن میں ڈاکٹر نرسز پیرا میڈیکس صف اول ہیں ان کو حفاظتی سامان مہیا نہیں کر سکے البتہ سوشل میڈیا پر ہیرو بننے کا جنون سوار اس سے قبل گزشتہ سے پیوستہ روز نشتر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے آرتھوپیڈیک پروفیسر کی ریٹائرمنٹ پر الوداعی تقریب میں بھی فوٹو سیشن کے لئے سوشل ڈسٹینسنگ کی دھجیاں اڑائی جاتی رہیں جبکہ ان تمام تقریبات میں وہ تمام ڈاکٹر حصہ لے رہے ہیں جو حکومت کو لاک ڈاون موثر کرنے اور عوام کو ہسپتالوں سے دور رہنے کا درس دیتے نظر آتے ہیں،اسی طرح گزشتہ سے پیوستہ ماہ مارچ میں وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی نے تمام وارڈز کے پروفیسرز اور تمام تنظیموں کو اکٹھا کر کے کورونا سے متعلق آگاہی واک ترتیب دے تھی۔

دفن

مزید :

ملتان صفحہ آخر -