شیخ الحدیث والتفسیر، ممتاز عالم دین مفتی عبدالحمید ہزاروی سپرد خاک

  شیخ الحدیث والتفسیر، ممتاز عالم دین مفتی عبدالحمید ہزاروی سپرد خاک

  

لاہور (خصوصی رپورٹ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے راہنما،جامعہ محمد یہ گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث والتفسیر، ممتاز عالم دین مفتی عبدالحمید ہزاروی86 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ 66 سال سے جامعہ محمد یہ جی ٹی روڈ گوجر(بقیہ نمبر22صفحہ6پر)

انوالہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ گزشتہ رات انہیں سینے میں تکلیف ہوئی اور مختصر علالت کے بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔انہوں نے سوگواران میں 2بیٹے اور 8 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔مولانا محمد اسماعیل سلفی، صوفی عبداللہ کے ارادت مند تھے۔دینی تعلیم اوڈانوالہ سے حاصل کی۔ انکے اساتذہ میں شیخ الحدیث حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی پیر یعقوب قریشی، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی شامل تھے۔ ہزاروں علماء سینکڑوں خطباء اور بیسیوں مشائخ حضرات ان کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ معروف تلامذہ میں حافظ عبدالمنان نورپوی، ڈاکٹر فضل الہی،مولانا عبدالعزیز حنیف، ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، مولانا شریف چنگوانی، شیخ الحدیث حا فظ محمد شریف، شیخ الحدیث حافظ محمد امین، حافظ عبدالغفار روپڑی، شامل ہیں۔ان کی نماز جنازہ جامعہ محمد یہ گوجرانوالہ میں شیخ الحدیث حافظ مسعود عالم کی امامت میں ادا کی گئی جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علما، سیاسی وسماجی راہنما ؤں کے علاوہ ہزاروں افراد نے شرکت کی انہیں مقامی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر، ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے مرحوم کی وفات پر دلی رنج وغم کااظہارکیا ہے۔ ان کی دینی خدمات کو سراہا ہے۔ علامہ ساجد میر کا کہنا تھاکہ مرحوم اخلاق حسنہ کے مالک تھے۔ انکی وفات سے ملک ایک جید عالم دین سے محروم ہوگیا۔ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ مولانا مرحوم کی تدریسی،دعوتی اور تبلیغی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔وہ علم وعمل کا پیکر تھے۔انکی دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے چیف آرگنائزر حافظ ابتسام الہی ظہیر۔ قائمقام ناظم اعلی مولانا نعیم بٹ، پنجاب کے امیر مولانا عبدالرشید حجازی، ناظم حافظ یونس آزاد نے بھی مرحوم کی وفات پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مفتی عبدالحمید ہزاروی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -