سندھ حکومت نے آرڈیننس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے گورنر کو بھیجا: حلیم عادل شیخ

  سندھ حکومت نے آرڈیننس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے گورنر کو بھیجا: حلیم عادل ...

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہاہے کہ سندھ حکومت نے کورونا ریلیف آرڈیننس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے گورنر کو بھیجا، بجلی گیس سندھ حکومت کا اختیار ہی نہیں،مراد علی شاہ بے اختیار وزیراعلی ہیں،ان کی ڈوریں کہیں اور سے ہل رہی یے، مراد علی شاہ کٹھ پتلی وزیراعلی ہیں، سندھ حکومت اور وزرا کنفیوزن کا شکار ہیں، انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ انہوں نے کرنا کیا ہے،انہوں نے کہاکہ سندھ کے 40 ٹراما سینٹرز میں 26 اب تک گذشتہ کئی برس سے نامکمل ہیں،صوبائی وزیرصحت کے علاقے نوابشاہ کی ایک اسپتال میں مالی ڈسپینسربن کرکام کرتا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی دعا بھٹو، ڈاکٹر سعید آفریدی، کریم بخش گبول پی ٹی آئی رہنما حنید لاکھانی، جام فاروق، سمیر میر شیخ،سیف اللہ ابڑو، رزاق باجوہ و دیگر بھی موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں صحت کی سہولیات ناپید ہوچکی ہیں کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلی سندھ عوام میں خوف پھیلا رہے ہیں عملی اقدامات نظر نہیں آتے ہیں۔ کراچی کی سول اسپتال، جناح اسپتال میں سہولیات نہیں ہیں عوام چھت سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں سندھ میں پینے کا پانی نہیں ملتا گندا پانی پینے کو عوام مجبور ہے کراچی سے تھر تک عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے تھر میں ساڑے سات ارب کے آر او پلانٹ میں سے 80 فیصد آر ار پلانٹ بند پڑے ہیں۔مراد علی شاہ نے ٹائیگر فورس پر الزام لگایا، ٹائیگر فورس کوئی سیاسی فورس نہیں۔ سماجی لوگ شامل ہیں۔ مراد علی شاہ خد سیلف کورنٹائن میں ہیں، سندھ حکومت پولیس اور عوام کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کر رہی ہے لاک ڈاؤن میں سندھ کے اندر دس ہزار سے زائد شہریوں پر ایف آئی آر کاٹ کر ان کا کرمنل ریکارڈ بنایا گیا ہے کرونا کا صرف رونا ہے اصل حقیقت کچھ اور ہے دنیا میں جنوری کے مہینے میں کرونا کی وبا آگئی تھی جنوری میں کیبینٹ پاس کرتی ہے کیپٹو پاور پروجیکٹ کو اڈھائی ارب روپے سب سیڈی دی جائے چار ارب روپے شگر ملز کو سبسیڈی بھی دی جائے یہ سب سب اومنی گروپ کے پروجیکٹ ہیں سندھ میں ٹریکٹر اسکیم کو بھی کھول دیا گیا اس کرونا کے پیش نظر ایریگیشن کے چھ ارب کے ٹھیکے چھپ کر جاری کر دیئے گئے ان کو دیئے گئے جو لوگ جی آئی ٹی میں شامل ہیں ٹوڑی بند کے نام پر بھی بند ٹینڈر جاری کیا گیا ہے اتنے سال ہونے کے بعد بھی توڑی بند مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر سندھ کو سلام پیش کرتا ہوں،گورنر سندھ اس مشکل میں سندھ کی عوام کے ساتھ کھڑے رہے،الزامات لگانا بینظیر کی تعلیمات کا حصہ نہیں، راشد ربانی کی صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں، اللہ پاک اس وبا سے سب کو محفوظ رکھے،26 لاکھ کا ڈیٹا ایک کلک پر موجود ہے سندھ حکومت راشن دینے والی بنے، راشن کی بجا بھاشن دیں ہم ڈیٹا دے رہے ہیں، احساس پروگرام سے لوگوں کو پیسے مل رہے ہیں، سندھ حکومت کا آرڈیننس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے گورنر کو بھیجا، بجلی گیس سندھ حکومت کا اختیار ہی نہیں، پورے سندھ میں پانی موجود نہیں یے، ہم سندھ حکومت جے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں، آپ لوگ اپنی نیت ٹھیک کریں، سعید غنی نے ایک چینل کے خلاف گندی زبان استعمال کی، سوال پوچھنے پر چینل کے خلاف مہم شروع کری، پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے سندھ کے لوگوں کو ایڈز لگادی، کتوں نے سندھ کے بچوں کو بھنبوڑ دیا، سندھ میں کتوں کی ویکسین نہین دیں گے لیکن کورونا سے لڑیں گے، باری صاحب چند اربوں کے لیے سندھ حکومت کے ترجمان نہ بنیں، آپ انڈس ہاسپٹل چلائیں سیاست نہ کریں، ایک بار پہر اسپتال کے نام پر ہمارے فنڈ ہڑپ کرجائیں گے، سندھ کے 40 ٹراما سینٹر میں 26 نامکمل ہیں، دوڑ کی اسپتال میں مالی ڈسپینسر بنا ہوا تھا، یہ حلقہ صوبائی وزیر صحت کا ہے۔ ہم چاہتے ہیں لاک ڈان میں کاروبار ایس او پیز کے تحت کھولا جائے، کراچی کے تجارتی مراکز کو ایس او پی کے تحت کھولا جائے پارکس بند کردیے گئے ہیں لوگ ورزش بھی نہیں کرسکتے ہیں، لوگ گھر میں ڈپریشن کا شکار ہورہے ہیں،کراچی کے پارک ایس او پی کے تحت ورزش کے لیے کھول دیے جائیں۔ پریس کانفرنس سے رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سعید آفریدی نے کہا سندھ حکومت صرف سندھ کارڈ استعمال کررہی یے، یہ لوگ تو زکو کے پیسے نہیں چھوڑ رہے ہیں، لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، سعید غنی کے حلقے میں صرف منشیات کے اڈے فعال ہیں، سندھ حکومت اپنی کارکردگی پر توجہ دے، پی ٹی آئی رہنما حنید لاکھانی نے کہا سندھ کے مختلف اضلاع میں ہم نے راشن تقسیم کیا، تھرپارکر میں آر او پلانٹس خراب ہیں، لوگوں کے پاس پینے کا پانی موجود نہیں، لوگوں کے پاس کھانے کے لیے راشن نہیں ہے، لاک ڈان کی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل رہے ہیں، جہاں راشن بانٹا وہاں حکومت نظر نہیں آئی

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -