لاک ڈاؤن نرم، کورونا کے حملے سخت، ملک بھر میں آج سے دکانیں کھل جائیں گی ایس او پیز پر عمل ضروری، مزید 21کورونا مریض جان کی بازی ہار گئے، 979نئے کیسز رپورٹ

لاک ڈاؤن نرم، کورونا کے حملے سخت، ملک بھر میں آج سے دکانیں کھل جائیں گی ایس او ...

  

لاہور، پشاور، کوئٹہ کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) سندھ حکومت نے (آج) پیر سے تاجروں کو دن میں 11 گھنٹے دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی، دکانوں کے اندر اور گاہکوں میں تین فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا،دکاندار 4 بجے سے دکان بند کرنا شروع کردیں گے۔ دوسری طرف سندھ حکومت نے کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند کیے گئے 9 سرکاری محکموں کے دفاتر کل سے کھولنے کا اعلان کر دیا۔چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے اس ضمن میں نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان محکموں کے سیکریٹریز اور ضروری عملہ کورونا صورتحال میں محکمہ صحت اورحکومت سندھ کی جانب سے دی گئی ہدایت کے تحت سرکاری امورکی انجام دہی کے لیے ہمہ وقت تیارہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق جن دفاتر کو کھلنے کی اجازت دی گئی ہے ان میں محکمہ اوقاف، انسانی حقوق، صنعت و تجارت، انفارمیشن، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، محکمہ سرمایہ کاری، محکمہ مائنارٹیز، محکمہ سوشل ویلفئیر، یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اور ورکس اینڈ سروس کے دفاتر شامل ہیں تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تاجر تنظیموں کے نمائندوں سندھ حکومت سے مذاکرات سندکھ اسمبلی میں ہوئے۔ بعد ازاں بتایا گیا کہ سندھ حکومت اور کاروباری برادری میں کاروبار کھولنے سے متعلق اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) پر اتفاق ہوگیا، جس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا ہے کہ آج (11 مئی) سے صبح 6 سے شام 5 بجے تک دکانیں کھلیں گی۔کراچی میں شہر کے مختلف تاجر نمائندوں سراج قاسم تیلی، عتیق میر اور دیگر تاجروں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی، اس موقع پر وزیر صحت سندھ، سیکریٹری داخلہ، میئر کراچی اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن کے فیز 2 کی طرف جارہے ہیں جس میں کچھ پابندیاں ہٹائی جائیں گی اور کچھ کاروبار کھولنے کی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ تاہم ایس او پیزبڑھیں گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جہاں تک دکانوں کا معاملہ ہے اس حوالے سے تاجروں کے خدشات بالکل درست تھے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وبا کے بارے میں بہت زیادہ تشویش ہے، جو لوگ اس وائرس سے متاثر ہیں یا جو اموات ہوئی ہیں وہ ایسی چیز نہیں جسے ہم معمولی سمجھیں۔انہوں ں ے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی صحت ہے لیکن یہ بھی معلوم ہے کہ اس سے لوگوں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں اور اب ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اس وبا کے ساتھ رہنے کا طریقہ ڈھونڈنا ہے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری اس معاملے پر وفاقی حکومت سے وقتاً فوقتاً بات ہوئی ہے اور انہوں نے جو ایک منصوبہ پیش کیا تھا اس پر ہم نے 2 چیزوں پر اعتراض کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پبلک ٹرانسپورٹ، ریل اور بسز کھولنا چاہتی تھی جبکہ وہ چاہتی تھی کہ رات کو بھی کاروبار کھلے جس پر ہم نے اعتراض کیا اور انہوں نے ہماری بات کو تسلیم کیا۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہمارے اوپر پہلے ہی الزام ہے کہ صوبہ سندھ نے کوئی عجیب ماحول پیدا کیا ہوا ہے جو غلط ہے، ہمارے پاس ساری چیزیں وہی تھیں جو دیگر صوبوں میں تھیں، تاہم اس کے باوجود ایک مہم چلائی گئی اور سیاست کی گئی۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں کاروبار سے متعلق چاروں صوبوں اور وفاق کا متفق فیصلہ تھا، ان مشکل فیصلوں کو کرتے ہوئے ہماری بھی دل دکھا اور اب واپس کاروبار کھولنے کا فیصلہ بھی انتہائی مشکل ہے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسز بڑھ رہے ہیں، ہم نے اس کو دیکھنا ہے اور لوگوں کو سہولت دینی ہے، ہم کاروباری برادری کو گائڈ کرنا چاہتے تھے کہ یہ مشکلات ہیں تاہم ہمارے خلاف ایک سیاسی کاروبار شروع ہوگیا۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہمارے فیصلے غلط نہیں تھے، ہم نے تو سندھ میں پہلے کیس سے ہی لاک ڈاؤن والا عمل شروع کردیا تھا جبکہ امریکا جیسے ممالک نے 4 ہزار کیسز کے بعد لاک ڈاؤن شروع کیا اور اب وہاں حالت دیکھیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لاک ڈاؤن کے اقدامات سے وبا کے حوالے سے فائدہ ہوا، تاہم اس سے لوگ مشکل میں بھی آئے اور کاروباری لوگ شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔علاوہ ازیں ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ مراد علی شاہ نے کہا کہ کہ آج (11 نئی سے) صبح 6 بجے سے شام 5 بجے تک دکانیں کھلیں گی جبکہ دکاندار 4 بجے سے دکانیں بند کرنا شروع کریں گے ہفتے میں پانچ دن دکانیں کھلی رہپیں گی۔ترجمان کے مطابق ملاقات میں سیکریٹری داخلہ نے تاجروں کو بتایا کہ کون سے کاروبار کھلیں گے اور اس کے ایس او پیز کیا ہوں گی۔دوسری جانب تاجر رہنما سراج قاسم تیلی نے کہا کہ ہمیں ہر شخص تک ایس او پیز پہنچانی ہیں، جان ہے تو مال ہے، لہٰذا اس وائرس سے متعلق بنائے گئے ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔ پنجاب میں جزوی لاک ڈاؤن میں اکتیس مئی تک توسیع کی گئی ہے جبکہ ، ہفتے میں چار روز کاروبار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے خیبر پختونخوا میں بھی 4 روز دکانیں کھلیں گی. سندھ میں ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا،شاپنگ مالز، شادی ہالز،ریسٹورنٹ،بند رہیں گے،بلوچستان میں کل سے دکانیں فجر کے بعد سے شام پانچ بجے تک کھلیں گی۔ پنجاب میں دکانیں اور آٹو ورکشاپس صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی۔ کنسٹرکشن، پی وی سی پائپ، الیکٹرک، اسٹیل، ایلومینیم کے کاروبار کی اجازت ہو گی۔صوبے میں جمنیزیم، باربر شاپس، بیوٹی پارلرز، پوسٹل اور کورئیر سروسز بھی کھول دی گئیں۔ ریسٹورنٹس سے ٹیک اوے، ہوم ڈلیوری، ٹائر شاپس، پٹرول پمپس پر 24 گھنٹے کام جاری رہے گا۔پنجاب میں شاپنگ پلازے، شادی ہالز، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں کی بندش برقرار رہے گی۔ادھر خیبرپختونخوا میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا، باقی دنوں میں کاروبار چلے گا۔ دکانیں صبح تین بجے سے شام 4 بجے تک کھولی جائیں گی۔ بلوچستان میں سحری سے شام 5 بجے تک دکانیں کھلی رہیں گی، میڈیکل اسٹور اور دودھ دہی کی دکانیں چوبیس گھنٹے کھلیں گی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی نرمی کے ساتھ کورونا لاک ڈاؤن میں 31 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں تعمیراتی سیکٹر، اسٹیل، پلاسٹک پائپ، الیکٹرانک آلات، پینٹس کی انڈسٹری کھول دی گئی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چھوٹی مارکیٹیں طے شدہ ضابطوں کے ساتھ کھولی جا سکیں گی جنہیں ہفتے میں 5 دن صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھولا جا سکے گا۔اس کے علاوہ لاک ڈاؤن میں جنرل اسٹور، بیکری، آٹا چکی، ڈیری شاپس، گوشت، فروٹ شاپس اور تندور پورا ہفتہ کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔لاک ڈاؤن کے دوران پوسٹل کورئیر، پک اینڈ ڈراپ سروسز کو بھی صبح 9 سے شام 5 بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، ساتھ ہی ٹائرپنکچر شاپس، ڈرائیور، ہوٹل، پیٹرول پمپ اور ریسٹورنٹس 24 گھنٹے کھولے جا سکتے ہیں۔نوٹیفکیشن میں سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ تمام افراد کے لیے طے شدہ حکومتی ضابطوں پر عمل درآمد کرنا لازمی ہوگا۔حکومتی اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے، شاپنگ مالز، شادی ہالز، شہر کے تمام بڑے تجارتی مراکز، بڑے ریسٹورنٹس اور ہوٹلز 31 مئی تک بدستور بند رہیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ ہائیر سیلون اور حجام کی دکانیں بھی بند رکھی جائیں گی۔پارکس، پولو کلب، ٹینس کورٹ ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے کھولنے کی اجازت ہوگی لیکن پارکس میں بھی پلے ایریاز بند ہوں گے۔

لاک ڈاؤن نرمی

اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ، لاہور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک بھر میں اتوار کے روز کورونا سے مزید 21 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد، ہلاکتیں 659 اور متاثرہ مریضوں کی تعداد 30346 ہوگئی خیبرپختونخوا میں 11، سندھ میں 9 اور اسلام آباد میں ایک شخص جاں بحق ہوا، گزشتہ روز کورونا کے مزید 979 کیسز کی تصدیق ہوئی اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 245 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ پنجاب میں 192 اور سندھ میں 189 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 24، اسلام ا?باد 5 اور گلگت بلتستان میں 4 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔اتوار کے روز ملک بھر سے کورونا کے مزید 979 کیسز اور 21 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس میں سے خیبرپختونخوا میں 11 ہلاکتیں اور 160 کیسز، سندھ میں 9 ہلاکتیں اور 709 کیسز جبکہ اسلام آباد میں ایک ہلاکت اور 32 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔بلوچستان میں 59، گلگت بلتستان میں 12 اور آزاد کشمیر میں 7 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ میں آج کورونا وائرس کے مزید 709 کیسز اور 9 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جن کی تصدیق صوبائی حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کی جانب سے کی گئی ہے۔مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سوشل میڈیا جاری بیان میں بتایا گیا کہ سندھ میں 709 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد 11480 ہو گئی ہے جب کہ مزید 9 اموات کے بعد ہلاکتیں 189 تک پہنچ گئی ہیں۔بلوچستان میں کورونا کے مزید 59 کیسز سامنے آ چکے ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے، نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 1935 ہوگئی ہے۔صوبے میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 24 ہے جب کہ 222 افراد اب تک صحت یاب ہو چکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 32 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 641 ہو گئی ہے جب کہ دارالحکومت میں وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔گلگت بلتستان میں اتوار کو مزید 12 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 442 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق مہلک وائرس سے اب تک 4 ہلاکتیں ہوئی ہیں جب کہ کورونا سے متاثرہ 304 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے آج کورونا کے 7 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔پورٹل کے مطابق علاقے میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 86 ہوگئی ہے اور 60 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔خیبر پختونخوا میں اتوار کو مزید 11 افراد کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 245 تک جاپہنچی ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق پشاور میں 8، مردان، سوات اور بٹگرام میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا

پاکستان ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -