وزیراعظم نے نوجوانوں کو جو کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا کیا وہ فرقہ واریت کا باعث بن سکتی ہے ؟ اس میں کیا ہے ؟ انتہائی حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

وزیراعظم نے نوجوانوں کو جو کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا کیا وہ فرقہ واریت کا باعث ...
وزیراعظم نے نوجوانوں کو جو کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا کیا وہ فرقہ واریت کا باعث بن سکتی ہے ؟ اس میں کیا ہے ؟ انتہائی حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )کورونا وائرس کے باعث ملک میں تقریبا پونے دو ماہ تک لاک ڈاﺅن کی صورتحال رہی تاہم اب چھوٹے کاروبار کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ، لاک ڈاﺅن کے دوران عوام کے پاس فراغت کا وقت وسیع تھا جس کے باعث وزیراعظم عمران خان نے اس دوران ترک ڈرامہ ارتغرل دیکھنے کا مشورہ دیا جبکہ انہوں نے پی ٹی وی کو اسے اردو میں چلانے کی ہدایت بھی کی ۔

ترک ڈرامہ اس وقت جوش و خروش کے ساتھ اردو زبان میں جاری ہے جس کو یکم رمضان سے نشر کیا جانا شروع کیا گیا ، عوام اس میں بے حد دلچسپی لے رہی ہے جبکہ یہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے ۔

اس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو فارغ وقت میں کتا ب ” لوسٹ اسلامک ہسٹری “ جو کہ 2014 میں شائع ہوئی ، پڑھنے کی تجویز دی ، اس کتاب کو امریکی محقق فراس الخطیب نے تحریر کیاہے ۔عمران خان کی ٹویٹ کے بعد کافی بڑی تعداد میں ان کے فالوورز نے کہا کہ وہ یہ کتاب پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تجویز کیے جانے کے بعد بی بی سی کی جانب سے اس کتاب کا مطالعہ کیا گیا اور اس کے بعد کتاب پر آرٹیکل شائع کیا گیاہے جس میں اس کتاب کے متن کو اجاگر کیا گیاہے ۔بی بی سی کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق اس کتاب میں اسلام کے آغاز، اس کے سنہرے دور، مختلف ریاستوں اور حکمرانوں کے عروج و زوال کا حال بیان ہے اور ساتھ ساتھ معروف اسلامک سکالرز اور محققین جیسے ابن خلدون اور ابن سینا کا بھی ذکر ہے۔اس کتاب کو سلیس زبان میں تحریر کیا گیا ہے اور اس میں جگہ جگہ پر حاشیوں میں چند تاریخی واقعات کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں جو کہ کتاب کے مرکزی بیانیے سے ہٹ کر ہیں۔

لیکن دوسری بات جو اس کتاب کے مطالعے کے بعد بہت واضح طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ہے کہ یہ بہت ہی سادہ، عام فہم اور ایک مخصوص بیانیے پر مشتمل کتاب ہے جو محض سطحی حد تک معلومات فراہم کرتی ہے اور واقعات کی اصل روح، پس منظر اور تفصیلات کے بارے میں ذکر نہیں کرتی۔

اس کتاب کی ایک اور بڑی کمزوری یہ نظر آئی کہ اس میں حوالہ جات کے بارے زیادہ تفصیل نہیں ہے اور دو سے تین صفحات پر مشتمل فہرست ہے جو کہ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ناموزوں اور ناکافی ہے۔یہ کتاب تاریخی ترتیب کے حساب سے لکھی گئی ہے جس کا آغاز جزیرہ نما عرب میں اسلام کی آمد سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد پیغمبر اسلام، ان کے بعد خلفا راشدین کے عہد کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے۔

کتاب کی اکثریت یعنی تقریباً تین چوتھائی حصہ مسلمانوں کی تین بڑی سلطنتوں پر مبنی ہے جن میں امّید سلطنت، عباسی سلطنت اور عثمانیہ سلطنت شامل ہیں۔ان تینوں ادوار کے بارے میں لکھتے ہوئے فراس ال خطیب نے نکتہ پیش کیا کہ ان کی کامیابی کی وجہ شریعت پر سختی سے عمل کرنا اور پیغمبر اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا تھا اور اس سے دوری ہی ان کے زوال کی وجہ بنی ہے۔

خلفا راشدین کے دور کے بعد دورِ معاویہ اور اس کے بعد امیہ سلطنت کے قیام اور دیگر ابواب کے مطالعے سے اگر ایک نکتہ واضح طور پر نظر آتا ہے تو وہ یہ کہ اس کتاب میں سنّی بیانیے کو فوقیت دیتے ہوئے تاریخ بیان کی گئی ہے۔چند ایک مقامات، جیسے باب نو کے آغاز میں، شیعہ مسلمانوں کی ریاستوں اور ان کے فوجی عہد کے بارے میں منفی تاثر کے ساتھ لکھا گیا ہے اور انھیں منگولوں اور صلیبی جنگوں کے ساتھ ملایا گیا ہے کہ گویا ان کی وجہ سے (سنی) مسلمانوں کی سلطنتوں کا زوال ہوا ہے۔

مزید :

قومی -