کلاس درجہ بندی ؛گھمسان تعلیمی جنگ

کلاس درجہ بندی ؛گھمسان تعلیمی جنگ
کلاس درجہ بندی ؛گھمسان تعلیمی جنگ

  

علم کسی کی میراث نہیں اور تعلیم حاصل کرنا انسان کی ضرورت و مجبوری بھی ہے کیونکہ تعلیم کی بناء پر ہی انسان مستقبل کے تقاضوں اور ضرورتوں کو جان کر آگے بڑھ سکتا ہے اس کیساتھ ساتھ تعلیم نئی جنریشن کو زندگی گزارنے کے طرائق و آگاہی کیساتھ ساتھ تمام افراد کو پہلے سے بہتر اور پُر آسائش آندھی گزارنے کے لوازمات سے آگاہی فرام کرنے میں نہایت اہم کردار بھی ادا کرتی ہے۔

حدیٽ کی روشنی میں ارشاد نبوی ص ہے علم حاصل کرو خواہ اس کے لئے تمہیں چین جانا پڑے۔ مطلب علم کے حصول کے لئے دورافتادہ جانے سے بھی گریز نہ کرو ۔

موجودہ دور میں تعلیم کو چند کاغذ کے صفحوں سے متصل کر دیا گیا ہے جس کو سند و ڈگری جیسے الفاظ سے جانا جاتا ہے ۔ حالانکہ تعلیم ڈگری کی محتاج ہی نہیں ہوتی بلکہ انسان کی علم پر عبور حاصل کرنے کی کاوش اور محنت ہی کامیاب تعلیم کی میراٽ ہے۔ ہمارے ارد گرد ہزاروں امٽال موجود ہیں کہ انسان بغیر کسی سند کے جدیدیت کے تقاضوں کے مطابق اعلٰی مہارتوں سے لیس ہوتا ہے ۔ مگر موجودہ دور میں سند کو ہی حرف اول و آخر جاناں جاتا ہے اور یہ بات درست اور قابل فہم بھی ہے کہ انسان کے علم کی پہچان اس کے چہرے سے عیاں نہیں ہوتی ۔ اور کسی بھی جگہ ، ادارہ وصنعتی مراکز میں کسی بھی انسان کو علم کو باور کروانے کے لئے دیرپا عرصہ درکار ہوتا ہے اور کوئی بھی مالک اور ادارہ کسی کی قابلیت کو فقط زبانی جان کر وقت ضائع کرنے کو راضی نہیں لہذا اس کے لئے سند کا حصول ہی بہترین حل ہے۔

کم ترقی یافتہ ممالک میں ڈگری کا حصول بھی آسان ذرائع سے میسر ہوجاتا ہے جیسا کہ نقل و دیگر ناجائز وسائل کو بروئے کار لا کر سند حاصل ہو جاتی ہے اور ایسے افراد اس ناجائز سند کی بنیاد پر نوکری حاصل کر کے اپنے ارد گرد کام کرنے والوں کے لئے بھی درد سر بن جاتے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں نقل جیسے موضی افعال پر قابو پایا جا رہا ہے اور بہت حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے ۔ مگر موجودہ کرونا وائرس جیسی وباء میں حکومتِ پاکستان کیطرف سے کیا جانے والا فیصلہ جس میں بغیر کسی تحریری و عملی امتحان کے طلباء کو اگلی کلاسوں میں ترقی دینا باعث تشویش ہے ۔

نقل تو بہرحال جزوی سطع پر ایک برائی ہے مگر حکومت کا موجودہ اقدام جس میں تمام طلباء کو بناء امتحان دئیے اگلی کلاسوں میں درجہ بندی دینا نہایت احمقانہ فیصلہ ہے اس سے ایک پوری نسل کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا ۔ کیونکہ شعبہ تعلیم میں تمام مضامین کو انسانی عمر کیمطابق زہنیت کی طاقت کا جائزہ لے کر ایک فارمولہ کے تحت درجہ بندی سے تمام کلاسوں کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ اور اگر موجودہ حالات میں طلباء کو ایک درجہ ترقی دے دی گئی ہے جبکہ اہم مضامین جیسا ریاضی اور سائنس کی کتابوں کو بغیر پڑھائے اور بنا امتحان لئے اور حتٰی کہ پریکٹیکل کروائے اور عملی امتحان کے بغیر ہی نئے کلاسوں کی کتابیں تھما دیں گئیں تو اعزازی درجہ بندی کے فارمولہ سے ایک کلاس کی کتابوں کے فارمولہ جات و اس کے اہم ابواب جن کا اگلے مرحلہ میں شروع ہونے والی کلاسوں کے مضامین و فارمولہ سے منسلک ہوتے ہیں طلباء کو ان تمام (ابواب و فارمولہ) سے لاعلمی کی بناء پر ان کے جاری تعلیمی سفر میں بہت مشکلات اور رکاوٹیں آئیں گی ۔

حکومت وقت کو چاہئے کہ طلباء کی کلاسوں کی درجہ بندی اگر ضروری بھی ہے تو آئندہ کلاسوں میں سابقہ ریاضی و سائنس کے مضامین کیساتھ ساتھ آرٹس کےمضامین کو نئی کلاسوں کا حصہ بنایا جائے اور حکمت عملی مرتب کی جائے کہ طلباء سابقہ کلاسوں میں پڑھائے جانے والے اسباق و فارمولہ سے واقف ہو سکیں۔ وگرنہ یورپ و امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کے طرع طلباء کی دلچسپی کےمطابق ان کو محصوص مضامین کی کتابوں کو شامل نثار کر کے بقیہ کتابوں کو جزوی یا ان کا انحراف کر دیا جائے ۔

سابقہ دور کے تجربات سے یہ واضع ہے کہ پاکستان کے نظام تعلیم میں جتنا بھی اضافہ کیا جائے طلباء اس اضافہ کے ساتھ ساتھ خود کی دماغی ذہانت و قابلیت کو بھی بڑھا و عبور حاصل کر لیتے ہیں مگر درجہ بندی سے منسلک مضامین کے اہم اسباق کو بنا پڑھائے اور تحریری و عملی امتحان لئے بغیر نئی کلاسوں میں ترقی سے مستقبل میں طلباء کیساتھ ساتھ ان کو پڑھانے والے اساتذہ کے لئے بھی درد سر بنے گا ۔ اور بیشمار طلباء پڑھائی سے مایوس ہو کر دوری احتیار کر جائیں گے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -