اگر حکومت کوئی بات نہیں سنتی تو پھر بھی عدالت میں آپ نہیں آسکتے،اسلام آبادہائیکورٹ کے وکلا کی خصوصی فنڈز فراہمی کی درخواست پرریمارکس

اگر حکومت کوئی بات نہیں سنتی تو پھر بھی عدالت میں آپ نہیں آسکتے،اسلام ...
اگر حکومت کوئی بات نہیں سنتی تو پھر بھی عدالت میں آپ نہیں آسکتے،اسلام آبادہائیکورٹ کے وکلا کی خصوصی فنڈز فراہمی کی درخواست پرریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاک ڈاوَن کے دوران وکلا برادری کےلئے خصوصی فنڈز فراہمی کی درخواست پر اسلام آبادہائیکورٹ نے درخواست گزار وکیل کو بار ایسوسی ایشن کے پاس جانے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بار کا اپنا وقار ہے جس کے معاملات میں عدالت مداخلت نہیں کرے گی،اگر حکومت کوئی بات نہیں سنتی تو پھر بھی عدالت میں آپ نہیں آسکتے۔

تفصیلات کے مطابق لاک ڈاوَن کے دوران وکلا برادری کےلئے خصوصی فنڈز فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیاگیا ہے کہ عدالت حکومت کو وکلا کے حوالے سے سپیشل اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ یہ اجتماعی معاملہ ہے اس کو بار ہی دیکھنے کا حق رکھتی ہے،آپ نہیں بلکہ بار پہلے قرارداد منظور کرائے گی پھر حکومت کے پاس جا سکتی ہے،یہ عدالت انفرادی طور پر آپ کی اس درخواست کو نہیں سن سکتی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بار کا اپنا وقار ہے جس کے معاملات میں عدالت مداخلت نہیں کرے گی،اگر حکومت کوئی بات نہیں سنتی تو پھر بھی عدالت میں آپ نہیں آسکتے،وکیل درخواست گزار نے کہاکہ مالی معاونت کے حوالے سے یہ ایک حساس معاملہ ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ کوئی حساسیت نہیں عدالت یقین رکھتی ہے کہ بار کے وقار کو برقرار رہنا چاہیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی درخواست گزار وکیل کو بار ایسوسی ایشن کے پاس جانے کی ہدایت کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -