پاک فوج کی تنخواہ میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ کو سفارش کر دی گئی

پاک فوج کی تنخواہ میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ کو سفارش کر دی گئی
پاک فوج کی تنخواہ میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ کو سفارش کر دی گئی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزارت دفاع نے آئندہ بجٹ 2020-21 میں پاک فوج کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے وزارت خزانہ سے درخواست کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے کی جانے والی درخواست میں کہا گیاہے کہ جوائنٹ سٹاف ہیڈکواٹرز اس وقت سروسز ہیڈ کواٹرز کے ساتھ مشاورت کر رہاہے ، نے بتایا ہے کہ پاک فوج کے اہلکاروں سمیت سرکاری ملازمین روپے کی گرتی ہوئی قدر اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثرہو رہے ہیں .

جاری مالی سال میں بریگیڈیئر کے رینک (بی پی ایس 17-20)تک کے افسروں کی تنخواہوں میں پانچ فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا ، جونیئر کمشنڈ آفیسرز یا سپاہیوں کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا اگرچہ (بی پی ایس 21-22)جنرل آفیسرز کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا  ۔افسران کی تنخواہ میں دیئے گئے ایڈہاک ریلیف کو انکم ٹیکس سلیب بڑھا کر پسماندہ کر دیا گیا جس کے باعث آفیسر ز کو موجودہ تنخواہ میں سے زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑا ، نتیجے میں دراصل افسروں کی تنخواہ کم ہو گئی ۔

مذکورہ بالا عوامل، جن کی وجہ سے افواج پاکستان کے اہلکاروں کی مالی حالت اور معیار زندگی بہت متاثر ہوا ہے، کو مدنظر رکھتے ہوئے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی جانب سے منظوری کے بعد جوائنٹ سٹاف ہیڈ کواٹرز نے تنخواہ میں اضافے کیلئے متعلقہ وزارت کو لکھا کہ اس معاملے کو وزارت خزانہ کے سامنے اٹھایا جائے کہ 2017 کی بنیادی تنخواہ میں ایڈہاک ریلیف الاؤنسز (2016,2017,2018اور 2019)کو مدغم کرتے ہوئے افسران و اہلکاروں کی تنخواہوں پر نظرثانی کی جائے۔اس کے بعد مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں نظرثانی شدہ پے سکیلز کے تحت تنخواہوں میں 20 فیصد اضافے کی اجازت دی جائے۔اس سے تقریبا 63 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -