کورونا وائرس سے پریشان انگلش بورڈ کو پاکستانی سہارے کی ضرورت پڑ گئی، قومی ٹیم کیخلاف سیریز میں کس چیز کے اضافے پر غور کیا جانے لگا؟ پاکستانیوں کیلئے زبردست خوشخبری آ گئی

کورونا وائرس سے پریشان انگلش بورڈ کو پاکستانی سہارے کی ضرورت پڑ گئی، قومی ...
کورونا وائرس سے پریشان انگلش بورڈ کو پاکستانی سہارے کی ضرورت پڑ گئی، قومی ٹیم کیخلاف سیریز میں کس چیز کے اضافے پر غور کیا جانے لگا؟ پاکستانیوں کیلئے زبردست خوشخبری آ گئی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی موذی وباءکورونا وائرس سے پریشان انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو قدموں پر کھڑا ہونے کیلئے پاکستانی سہارے کی ضرورت پڑ گئی ہے جسے ویسٹ انڈیز کا دورہ غیر یقینی نظر آنے لگا ہے اور مالی مشکلات سے نکلنے کیلئے گرین شرٹس کیخلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ایک یا دو میچوں کا اضافہ کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انگلینڈ کو رواں سیزن میں ویسٹ انڈیز، پاکستان، آسٹریلیا اور آئرلینڈ کی میزبانی کرنا ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے کرکٹ کی سرگرمیاں معطل ہیں اور اگر رواں سال کوئی سیریز ممکن نہ ہوئی تو انگلش بورڈ کو 380ملین پاﺅنڈ کا نقصان ہو گا، اگرچہ انگلینڈ میں تاحال وائرس کا پھیلاﺅ جاری ہے لیکن صورتحال میں قدرے بہتری آ رہی ہے، ای سی بی کی کوشش ہے کہ 8جولائی سے بند دروازوں کے پیچھے کرکٹ ایکشن شروع کردیا جائے اور اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مانچسٹر کے ایمریٹس اولڈٹریفورڈ اور ساﺅتھمپٹن ایجز باﺅل سٹیڈیمز میں بائیو سیکیور انتظامات کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز اور پاکستان کیخلاف 6ٹیسٹ میچز 3، 3 دن کے وقفے سے کرانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے، دونوں وینیوز کے ساتھ ہوٹل موجود ہیں، ٹریننگ اور ٹیسٹنگ کی سہولیات کیلئے جگہ بھی ہے۔

ای سی بی سب سے پہلے ویسٹ انڈیز کو بلانے کیلئے بات چیت کر رہا ہے لیکن اب تک کی پیش رفت حوصلہ افزاءنہیں ہے، بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو جونی گریو نے برملا کہا تھا کہ کیربینز کے دورے کا حتمی فیصلہ کرنے سے قبل کئی مراحل طے کرنا باقی ہیں،ہم کوئی خطرہ مول لیں گے نہ ہی کسی کرکٹر کو سیریز کھیلنے پر مجبور کیا جائے گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ویسٹ انڈین ٹیم میں کئی کیریبین جزائر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی شامل ہوتے ہیں، ہر حکومت کی اپنی پالیسی اور کرکٹ بورڈ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی کورونا وائرس کے باوجود ٹیم بھجوانے یا نہ بھجوانے کا فیصلہ کرسکتا ہے کیونکہ تمام جزائر کے حکام کو اعتماد میں لینا آسان کام نہیں ہو گا۔

جمعے کو آن لائن میٹنگ میں بھی صرف بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا،ان حالات میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین سیریز کیلئے تمام معاملات بروقت طے پانا مشکل نظر آ رہا ہے اور اس غیر یقینی صورتحال میں انگلش بورڈ کو پاکستان کی مدد درکار ہو گی اس لئے اگست میں شروع ہونے والی باہمی سیریز ری شیڈول کرنے کے ساتھ طویل بھی کی جا سکتی ہے، ایک برطانوی اخبارکے مطابق 3ٹیسٹ کی سیریز میں ایک یا 2میچز کے اضافے پر پی سی بی نے مثبت اشارہ دیا ہے،ایک اضافی ٹیسٹ کی میزبانی کیلئے ایجبسٹن مضبوط امیدوار ہے، پہلا میچ 5اگست سے شروع کرنے کی تجویز پہلے ہی پیش ہو چکی ہے، برطانوی حکومت کی جانب سے غیر ملکیوں کو آمد کے بعد 14 روز کا قرنطینہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان ٹیم کو سیریز شروع ہونے سے کم ازکم 3ہفتے قبل انگلینڈ پہنچنا ہوگا،چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق ٹور کیلئے 25 رکنی سکواڈ تیار کرنا چاہتے ہیں،سیریز سے قبل کھلاڑی آپس میں وارم اپ میچز بھی کھیلیں گے،دوسری جانب پاکستان کے 4سے 9جولائی تک نیدر لینڈز میں شیڈول 3ون ڈے میچز ملتوی ہو چکے ہیں۔ گرین شرٹس کو آئرلینڈ میں میزبان ٹیم کے ساتھ 12 اور 14 جولائی کو دو ٹی 20 کھیلنا ہیں، اس مختصر سیریز پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے،ذرائع کے مطابق ای سی بی اور پی سی بی کے میڈیکل آفیسرز ہفتہ وار میٹنگز میں بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، 18مئی کو بھی چیف ایگزیکٹیوز ٹام ہیریسن اور وسیم خان سمیت اعلیٰ عہدیدار سیریز کے امکانات پر مزید گفتگو کریں گے، دوسری جانب انگلش بورڈ بڑی بے تابی سے اپنی حکومت کی جانب سے کھیلوں کی بحالی کے حوالے سے کوئی مثبت فیصلہ سننے کا منتظر ہے۔

مزید :

کھیل -