آئی پی ایل کے عدم انعقاد سے 3800 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ، بی سی سی آئی نے اسے محدود کرنے کیلئے کس فارمولے پر غور شروع کر دیا؟ حیران کن خبر آ گئی

آئی پی ایل کے عدم انعقاد سے 3800 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ، بی سی سی آئی نے ...
آئی پی ایل کے عدم انعقاد سے 3800 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ، بی سی سی آئی نے اسے محدود کرنے کیلئے کس فارمولے پر غور شروع کر دیا؟ حیران کن خبر آ گئی

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے کم وقت میں زیادہ دولت کمانے کیلئے منفرد فارمولا تیار کر لیا ہے جس کے تحت ایک ہی وقت میں ٹیسٹ اور محدود اوورز کی الگ الگ ٹیموں کومیدان میں اتارا جاسکتا ہے کیونکہ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے عدم انعقاد سے بورڈ کو 3800 کروڑ روپے کا نقصان ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے کورونا وائرس کی وجہ سے ضائع ہونے والے وقت اور ریونیو کی تلافی کیلئے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے جس میں ایک ہی وقت میں 2الگ الگ ٹیمیں میدان میں اتارنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مذکورہ تجویز پر عملدرآمد کی صورت میں ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ کیلئے الگ ٹیمیں تیار کی جا سکتی ہیں جوایک ہی وقت میں 2  الگ ممالک سے سیریز کھیلیں گی، اس کا مقصد کرکٹ سرگرمیاں بحال ہونے پر کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہے۔

کورونا وائرس کے باعث رواں سال آئی پی ایل کا انعقاد بھی خطرے میں ہے اور اگر ایسا ہوا تو انشورنس نہ ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر بھارتی کرکٹ بورڈ کو 3800 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا جبکہ حالیہ صورتحال میں بی سی سی آئی آفیشلز ٹی 20 ٹورنامنٹ کے حوالے سے کوئی بھی ڈیڈلائن دینے سے قاصر ہیں، اسی طرح میزبان براڈ کاسٹر کو بھی مجموعی طور پر 3269 کروڑ روپے نقصان کا اندیشہ ہے جس نے 2018ءمیں بھارتی کرکٹ کے حقوق 6138 کروڑ روپے میں حاصل کئے تھے، اگرچہ ایک ہی وقت میں 2 الگ الیگ ٹیمیں میدان میں لاجسٹک طور پر کسی ڈراﺅنے خواب سے کم نہیں مگر اس سے بورڈ کو اپنا نقصان محدود کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مارچ میں کورونا وائرس کی وجہ سے جنوبی افریقی ٹیم بھارت سے ون ڈے سیریز کھیلے بغیر ہی واپس چلی گئی تھی جبکہ اسی سال ستمبر، اکتوبر میں انگلینڈ کی ٹیم کا محدود اوورز کی سیریز کیلئے دورہ بھی خطرے میں دکھائی دے رہا ہے جس سے بی سی سی آئی کا نقصان مزید بڑھ جائے گا اور ایک آفیشل نے کہاکہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ انٹرنیشنل کرکٹ سرگرمیاں کب بحال ہوں گی البتہ اگر ہمیں اپنے تمام سٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تو پھر ایک ہی وقت میں 2الگ الگ سکواڈز منتخب کرکے ٹیسٹ اور ٹی 20 سیریز کھیل سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ فروری 2017ءمیں آسٹریلیا نے بھی یہ تجربہ کیا تھا جس دوران ایڈیلیڈ میں 22 فروری کو ٹیم نے سری لنکا کا ٹی 20 میچ میں سامنا کیا اور اگلے روزپونا میں بھارت کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کا آغاز بھی کیا تھا۔

مزید :

کھیل -