’صحت مند رہنا چاہتے ہو تو اس سواری پر نہ بیٹھنا‘ برطانوی وزیر اعظم نے لاک ڈاﺅن جزوی طور پر ختم کرنے کے ساتھ ہی اپنی عوام کو خبردار کردیا

’صحت مند رہنا چاہتے ہو تو اس سواری پر نہ بیٹھنا‘ برطانوی وزیر اعظم نے لاک ...
’صحت مند رہنا چاہتے ہو تو اس سواری پر نہ بیٹھنا‘ برطانوی وزیر اعظم نے لاک ڈاﺅن جزوی طور پر ختم کرنے کے ساتھ ہی اپنی عوام کو خبردار کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی حکومت نے کچھ نرمی لاتے ہوئے لاک ڈاﺅن میں یکم جون تک توسیع کا اعلان کر دیا۔ میل آن لائن کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ لاک ڈاﺅن ختم کرنے کا وقت نہیں ہے تاہم اس میں کچھ نرمی لائی جا رہی ہے اور یکم جون سے پرائمری سکول اور دکانیں دوبارہ کھل سکیں گی۔ ہم لاک ڈاﺅن ختم نہیں کر رہے لیکن جو لوگ گھر سے کام نہیں کر رہے، آج(بروز پیر)سے ہم ان کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ کام کے لیے جائیں تاہم کام پر جاتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ سے حتی الامکان گریز کریں۔ پیدل یا سائیکل پر کام پر جائیں اور اگر ایسا ممکن نہیں تو اپنی گاڑی میں جائیں۔

وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ہم نے پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی کمی کر دی ہے اور اب یہ کورونا وائرس سے پہلے کے مقابلے میں 10گنا کم چل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز سے لوگوں کو سماجی میل جول میں احتیاط کی پابندی کے ساتھ گھر سے باہر ورزش کرنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ لوگ اپنے علاقے کے پارک میں دھوپ میں بیٹھ سکیں گے اور دوسری جگہوں پر جا سکیں گے، حتیٰ کہ کھیلوں میں بھی حصہ لے سکیں گے لیکن صرف اپنے گھر کے افراد کے ساتھ۔رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم جانسن کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیبرپارٹی کے عہدیدار ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ ”وزیراعظم نے یہ تو کہہ دیا کہ لوگ پیدل، سائیکل پر یا اپنی گاڑی پر کام کے لیے جائیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جس شخص کی کام کی جگہ دور ہو اور وہ پیدل یا سائیکل پر نہ جا سکتا ہو اور اس کے پاس اپنی گاڑی بھی نہ ہو تو وہ کیا کرے؟دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کم کر دی گئی ہے اور جو چل رہی ہے اس میں بھی سماجی میل جول میں فاصلے کی پابندی کی وجہ سے مسافروں کی گنجائش 90فیصد کم ہو گی۔ ایسے میں لوگوں کی اکثریت پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کے قابل بھی نہیں ہو گی۔“

مزید :

برطانیہ -