کورونا وائرس پھیلنے کے بعد الزامات کی بوچھاڑ، بالآخر چین نے بھی کھل کر جواب دے دیا

کورونا وائرس پھیلنے کے بعد الزامات کی بوچھاڑ، بالآخر چین نے بھی کھل کر جواب ...
کورونا وائرس پھیلنے کے بعد الزامات کی بوچھاڑ، بالآخر چین نے بھی کھل کر جواب دے دیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) دیگر کئی ممالک کی طرح امریکہ نے بھی کورونا وائرس کو روکنے کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کیے۔ آخر تک صدر ڈونلڈٹرمپ یہی کہتے رہے کہ کورونا وائرس کے معاملے کو میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسے سیاسی مقاصد کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے لیکن جب پانی سر سے گزرا تو امریکی انتظامیہ لٹھ لے کر چین اور عالمی ادارہ صحت پر چڑھ دوڑی کہ انہوں نے حقائق چھپا کر رکھے جس کی وجہ سے امریکی حکومت بروقت اقدامات نہ کر سکی۔ خود صدر ٹرمپ اور ان کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو سمیت کئی امریکی عہدیدار تسلسل کے ساتھ چین کو کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا موردالزام ٹھہراتے آ رہے ہیں۔ اب پہلی بار چین کی طرف سے اس کا سختی سے جواب دے دیا گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی طرف سے 30صفحات اور 11ہزار الفاظ پر مشتمل ایک آرٹیکل جاری کیا گیا ہے جس میں امریکی حکومت کے ایک اک الزام کا جواب دیا گیا ہے۔

چینی حکام نے اس آرٹیکل میں امریکی حکومت پر طنز کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کے اس مشہور زمانہ قول کا بھی حوالہ دیا ہے کہ ”آپ ہمیشہ کے لیے کچھ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں اور تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن آپ تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔“آرٹیکل میں چینی حکام نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ، مائیک پومپیوکی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ چین نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر حقائق دنیا سے چھپائے۔ یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ سے ٹیلی فونک گفتگو کی اور اس میں دنیا کو دھوکہ دینے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ یہ تمام بے سروپا الزامات ہیں۔ شی جن پنگ کی عالمی ادارہ صحت کے سربراہ سے کبھی ٹیلی فون پر بات ہی نہیں ہوئی اور نہ ہی چینی حکومت نے دنیا سے کورونا وائرس کے متعلق کچھ چھپایا۔ اس کے متعلق جیسے جیسے معلومات آتی گئیں، چین دنیا کو ان سے آگاہ کرتا گیا۔ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے طریقوں کو سمجھنے میں وقت لگا۔ ابتداءمیں ماہرین نے بتایا کہ یہ انسانوں سے انسانوں کو لاحق نہیں لیکن بعد ازاں ماہرین کو اگلی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ انسانوں سے انسانوں کو منتقل ہو سکتا ہے۔ اس میں چینی حکومت اور عالمی ادارہ صحت کا کوئی کردار نہیں۔ وائرس کے متعلق روزانہ کی بنیاد پر معلومات اپ ڈیٹ ہوتی رہیں اور اس کے متعلق پہلے حاصل ہونے والی کچھ معلومات بعد ازاں غلط بھی ثابت ہوئیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ چین یا عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو بے وقوف بنایا۔

آرٹیکل میں کہا گیا کہ امریکہ کی طرف سے چین پر ایک الزام یہ بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس خود چین نے تیار کرکے پھیلایا اور پھر کہا گیا کہ یہ وائرس ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی سے جان بوجھ کر لیک کیا گیا۔ حالانکہ کئی تحقیقات میں سائنسدان اس الزام کو رد کر چکے ہیں۔ وہ بتا چکے ہیں کہ یہ وائرس لیبارٹری میں تیار ہی نہیں کیا گیا اور ایسا کہنے والے سائنسدانوں میں امریکی و یورپی سائنسدان بھی شامل ہیں۔بہت سے ممالک ایسے ہیں جنہوں نے بروقت اقدامات کیے اور وہ وائرس سے بہت حد تک محفوظ رہے۔ جن لوگوں نے اقدامات میں تاخیر کی وہاں زیادہ تباہی آئی اور اب وہ اپنی کوتاہی کا ملبہ چین پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -