کورونا وائرس سب سے پہلے چینی لیبارٹری میں کام کرنے والی کس خاتون کو ہوا؟ چینی امور کے آسٹریلین ماہر نے انتہائی خطرناک دعویٰ کردیا

کورونا وائرس سب سے پہلے چینی لیبارٹری میں کام کرنے والی کس خاتون کو ہوا؟ چینی ...
کورونا وائرس سب سے پہلے چینی لیبارٹری میں کام کرنے والی کس خاتون کو ہوا؟ چینی امور کے آسٹریلین ماہر نے انتہائی خطرناک دعویٰ کردیا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے چین پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ یہ وائرس کسی طرح ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی نامی لیبارٹری سے لیک ہو کر ووہان شہر میں پھیلا۔ اب اس حوالے سے چینی امور کے آسٹریلوی ماہر پروفیسر کلیو ہیملٹن نے بھی تشویشناک دعویٰ کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق پروفیسر ہیملٹن نے کہا ہے کہ ”ووہان کی گوشت مارکیٹ سے کورونا وائرس پھیلنے کا دعویٰ درست نہیں ہے۔ کئی تحقیقات میں اسے مسترد کیا جا چکا ہے اور یہ کہا جا چکا ہے کہ یہ وائرس کسی طرح ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی سے لیک ہوا۔ سب سے پہلے یہ بات خود چینی سائنسدانوں نے کہی جو اب انٹرنیٹ سے ہٹائی جا چکی ہے۔ “

پروفیسر ہیملٹن نے سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”چین میں اس خاتون کی تلاش کی جا رہی ہے جسے سب سے پہلے یہ وائرس لاحق ہوا اور یہ خاتون ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی میں کام کرتی ہے۔ چین میں انٹرنیٹ پر بھی اس خاتون کی تلاش مسلسل جاری ہے لیکن ایسا لگتا ہے جیسے وہ خاتون روئے زمین سے غائب ہو گئی ہے۔دو چینی سائنسدان اپنی تحقیق کے نتائج میں لکھ چکے ہیں کہ کورونا وائرس کسی طرح ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی سے لیک ہو کر باہر آیا۔یہ سائنسدان ووہان کی دو یونیورسٹیوں سے وابتہ بوتاﺅ ژیاﺅ اور لی ژیاﺅ تھے۔انہی کی اس تحقیق سے یہ مفروضہ قائم ہوا کہ ممکنہ طور پر یہ وائرس لیبارٹری میں کام کرنے والے کسی شخص کو لاحق ہوا اور اس کے ذریعے ووہان شہر میں پھیلا۔ میرے خیال میں وہ ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی میں کام کرنے والی ایک خاتون ہے جو اب منظرعام سے غائب ہو چکی ہے۔“واضح رہے کہ پروفیسر ہیملٹن نے اس خاتون کی حتمی شناخت کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -