وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری حدیبہ پیپر ملز کیس کی تفصیلات سامنے لے آئے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری حدیبہ پیپر ملز کیس کی تفصیلات سامنے ...
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری حدیبہ پیپر ملز کیس کی تفصیلات سامنے لے آئے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) حدیبیہ پیپر ملز کیس کیا ہے اور اس کی ابتداءکیسے ہوئی؟وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری مسلم لیگ(ن) کے خلاف کیس کی تفصیلات سامنے لے آئے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فواد چوہدر ی نے اپنے پیغامات میں حدییبیہ پیپرملز کیس کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھتے ہوئے بتا یا کہ حدیبیہ پیپرملز کیس تقریباً 1242 ملین روپے کے فراڈ کی کہانی ہے جو بلحاظ حجم پانامہ پیپرز کیس سے بڑی ہے اور جس کی ابتداءسال 2000 میں اس وقت ہوئی جب نیب حکام نے حدیبیہ پیپرز کیخلاف ایک ریفرنس دائر کیا۔

فواد چوہدری نے کہاکہ تحقیقات سے پتہ چلاکہ ملز انتظامیہ جو میاں محمد شریف، شمیم اختر، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مریم صفدر، صبیحہ عباس، حسین نواز اور حمزہ شہباز پر مشتمل ہے کی تجوریوں میں بھاری بھرکم غیرقانونی سرمایہ موجود ہے اور وہ اس دولت کے ذرائع بتانے سے قاصر ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق نیب نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مذکورہ واردات کے ذریعے شریف خاندان کے ان نامزد افراد نے منی لانڈننگ اور اثاثے چھپانے جیسے گناہ ہی نہیں کئے بلکہ یہ بہت سے ریاستی و حکومتی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتا یا کہ مشرف دور میں جب یہ معاملہ احتساب عدالت کے روبرو آیا کیس کے دوران ہی شریف فیملی نے مشرف حکومت کے ساتھ ڈیل کی اور سعودی عرب چلے گئے،9/2008 میں معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا لیکن پیپلز پارٹی او رن لیگ کے مک مکا نے کیس ہی رکوا دیا۔کہا گیا کیس نہیں چل سکتا چیئرمین نیب کے دستخط نہیں ہیں۔

فواد چوہدری کے مطابق ان لوگوں نے منی لانڈرنگ کیلئے 1992 کے دی پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ کی مختلف شقوں کا سہارا لے کردھوکے سے بیرونی کرنسی کے مختلف جعلی کھاتے کھولے اور بہت سی دولت ان کھاتوں میں جمع کروائی۔

انکا کہنا تھا کہ جب یہ جعلی اکاو¿نٹس کا بھانڈا پھوٹ گیا تو انہوں نے یہ پیسہ حدیبیہ پیپر ملز کے اکاو¿نٹس میں اس طرح براہِ راست ڈالنے کا فیصلہ کیا،اس مقصد کیلئے انہوں نے اس مل کے اکاو¿نٹس کیلئے اس بیرونی کرنسی کی مالیت کے برابر مختلف ڈالر ٹیلی گرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز) کا بندوبست کیا۔

انہوں نے مزید بتا یا کہ بالکل اسی طرح جیسے ابھی شہباز شریف اور مریم نواز کی رقوم پاکستان سے باہر بھیجی گئیں، 1242.732 ملین روپے اچانک شریف فیملی کے اثاثوں میں آگئے یہ رقم پانامہ سکینڈل سے بھی بڑی تھی۔

فواد چوہدر ی نے کہ کہ شریف خاندان نے کارروائی کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلینج کیا تو 2 رکنی ڈویژن بنچ نے 1،1 سے منقسم فیصلہ سنایا یوں معاملہ ریفری جج کے پاس چلا گیا جس نے مقدمے کی بندش کا فیصلہ کرنے والے ڈویژن بنچ کے جج کی رائے کی حمایت کا فیصلہ دیا، اور مقدمہ 2014 میں بند کردیا گیا۔

انہوں نے کہا دلچسپ بات یہ تھی کہ اتنی تفصیلی تفتیش کے بعد اس کیس کا ایک دن بھی عدالتی ٹرائل نہیں ہوا، جس جج نے کیس بند کرنے کا فیصلہ دیا پانامہ اسکینڈل میں انکشاف ہوا کہ ان جج صاحب کے اپنے اثاثے بھی بیرون ملک تھے، بدقسمتی سے ان جج صاحب کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

اپنے آخری پیغام وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں اب کچھ نئے حقائق بھی سامنے آئے ہیں جن پر نئی تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے امید ہے عدلیہ ان ججوں پر بھی کاروائی کرے گی جنہوں نے شریف فیملی کی معاونت کی، انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے اپنا کردار ادا کریں، پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے وابستہ ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -