وزیر اعظم کے عوام کے براہ راست سوالات کے جوابات ، قوم کو عید کی مبارکباد اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی تلقین

وزیر اعظم کے عوام کے براہ راست سوالات کے جوابات ، قوم کو عید کی مبارکباد اور ...
وزیر اعظم کے عوام کے براہ راست سوالات کے جوابات ، قوم کو عید کی مبارکباد اور ایس او پیز پر عمل کرنے کی تلقین

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے آپ کا وزیر اعظم آپ کیساتھ پروگرام کے سلسلے کی تیسری نشست میں عوام سے براہ راست گفتگو  کی، وزیر اعظم نے  پروگرام کی ابتداءمیں وزیر اعظم نے کہا کہ عید کی چھٹیوں میں اپنا، اپنے بزرگوں اور بچوں کا خیال رکھیں ،جو کیسز تیزی سے بڑھ رہے تھے وہ رک گئے ہیں ، سب سے درخواست کرتا ہوں کہ فیس ماسک سمیت دیگر ایس او پیز پر عملدرآمد کریں ۔

مہنگائی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ خطے میں سب سے سستا پٹرول پاکستان میں ہے ، ایسا صرف اس لئے کیا تا کہ عوام پر بوجھ نہ پڑے ، دنیا میں بجلی ، گیس کی قیمتوں میں 30فیصد اضافہ ہوا، کھانے پینے کی اشیا میں 29فیصد ، سریا وغیرہ میں 41فیصد ، فوڈ آئل 84فیصد ، پام آئل 54.8فیصد، سویابین آئل 36فیصد مہنگا ہوگیا ہے ، یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے ، کورونا کے باعث ساری دنیا ایسے ہی معاملات سے دو چار ہے ، ہم پر اس کا فرق پڑتا ہے ، بجلی مہنگی ہونے پر ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے ، بجلی کے جو کنٹریکٹ ہمارے آنے سے پہلے کے ہیں ، آئی پی پیزکے کنٹریکٹ تیس تیس سال پہلے کے ہیں ، قطر سے گیس کا کنٹریکٹ بھی ہمارے آنے سے پہلے کا ہے ۔کنٹریکٹ میں کیپسٹی پیمنٹ کا لفظ استعمال ہوا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ جتنی بھی بجلی پیدا ہو گی ہم چاہے اسے خریدیں یا نہ خریدیں ہمیں اس کی ادائیگی کرنی ہو گی ، ن لیگ کی حکومت میں کیپسٹی پیمنٹ 180 ارب روپے تھے، 2018میں یہ ہماری حکومت میں 484ارب روپے میں پہنچ گئے تھے جبکہ آج وہ پیمنٹ 900 ارب روپے پر پہنچ گئی ، 2023 میں یہ 1455ارب روپے پر پہنچ جائے گی، یہ ماضی کے کنٹریکٹ کا بوجھ ہے جو ہم پر پڑا ہوا ہے ۔ اب انہوں نے اتنی بجلی پیدا کر دی ہے کہ ہم وہ استعمال ہی نہیں کر پاتے لیکن ہمیں اس کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے ۔ گرمیوں اور سردیوں میں پاکستان میں بجلی کے استعمال میں تین گنا کا فرق پڑتا ہے ، اگر گرمیوں میں 24ہزار میگاواٹ استعمال ہو تو سردیوں میں نو ہزار میگاواٹ ہوتی ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کنٹریکٹ سائن ہونے کے بعد اس معاہدے پر بات نہیں ہو سکتی لیکن مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے کہ انہوں نے آئی پی پیزسے معاہدوں پر دوبارہ بات کی اور کنٹریکٹ میں 134ارب روپے کم کروائے ، 20سالوں میں 770ارب روپے کی کمی کرائی ، قطر کیساتھ ایل این جی معاہدے کو 13.37فیصد رینٹ پر کیا تھا ، ہم نے قطر کیساتھ کنٹریکٹ 10.2فیصد پر کیاہے ا س سے 300ملین ڈالرز کا فائدہ ہوا ہے ۔ ہماری حکومت بجلی کے پرانے کنٹریکٹس پر پھنسی ہوئی ہے ۔

ایک  سوال کہ بھارت میں ہونے والے مظالم پر  مغرب سمیت عالمی برادری عملی طور پر کچھ کیوں نہیں کرتے کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ مغرب چین سے ڈرا ہوا ہے ،انہیں خوف ہے کہ چین معاشی ترقی سمیت ان سے آگے نکل جائے گا، اس لئے وہ چین کے مقابل بھارت کو کھڑا  کر رہا ہے ، اس لئے وہ بھارت کے اعمال کو نظر انداز کر رہے ہیں،بھارت کبھی چین کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہو سکتا ، اگر وہ ایسا کرتا ہے تو تباہ ہو جائے گا۔  ہم نے کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑا ، اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھایا  لیکن بد قسمتی سے مغرب نے اتنے اقدامات نہیں کئے، لیکن میں واضح کر دوں کہ جب تک بھارت  کشمیر کی پانچ اگست سے پہلے والی حیثیت بحال نہیں کرے گا کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب کہ پاکستان میں قانون امیروں اور غریبوں کیلئے یکساں نہیں کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے 25 سال پہلے اپنی جماعت کا نام تحریک انصاف اسی لئے رکھا تھا ، میں برطانیہ سے پڑھا ہوں ،میں نے وہاں کا نظام دیکھا ہے ، میری ڈگری سیاسیات میں ہے ، دنیا کی تاریخ میں جو قوم اوپر گئی ہے انہوں نے قانون کی بالا دستی قائم کی ، جب میں مدینہ کی ریاست کا کہتا ہوں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد دودھ کی نہریں بہنے لگیں گیں، ریاست مدینہ میں قانون کی بالا دستی تھی۔ حکمران منی لانڈرنگ کر کے پیسے باہر پھینکتے ہیں تو ملک تباہ ہوتے ہیں ، پیسہ باہر جانے سے ڈالر  اوپر جاتا ہے ، یہ صرف ہمارا ہی نہیں ہر غریب ملک کا مسئلہ ہے ، ہر سال غریب ملکوں میں ایک ارب ڈلرز چوری ہو کر باہر جا رہے ہیں۔ یہاں مارشل لاء کے ساتھ جمہوریت پسند عناصر بھی طاقت کا استعمال کرتے ہیں ، نواز شریف نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا،  جسٹس نے بھاگ کر اپنی جان بچائی ، مجھے اس کیساتھ کھڑا ہونے پر جیل میں ڈالا گیا ، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا جہاد ہے ، تیس سال ملک کو لوٹنے والے کبھی نہیں چاہیں گے کہ قانون کی بالا دستی ہو ، یہ ہر طرح کے حربے استعمال کریں گے کہ ایسا نہ ہو ، شوگر مافیا بھی نہیں چاہے گا کہ ایسا  کچھ ہو۔ ہم تب تک عظیم قوم نہیں بن سکیں گے جب تک ہم انصاف قائم نہیں  کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے مشن میں مافیاز سے لڑ رہے ہیں اور کامیاب ہو رہے ہیں ، میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کھڑے ہوں مجھے صرف ا?پ کی سپورٹ کی ضرورت ہے ، میں آپ کو جیت کر دکھاؤں گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ شہباز شریف باہر بھاگنے کی کوشش کر رہاہے ، اس پر 700سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا صرف ایک کیس ہے ،ان کے کیسز کی پوری پوری کتابیں ہیں ، ان کے گھر اہلخانہ نے جب کوئی پراپرٹی لینی ہو تو ہی رقم ٹی ٹی سے ملک میں واپس آتی ہے ، نواز شریف کے بیٹے اربوں روپے کے گھروں میں رہ رہے ہیں ، انہوں نے وہ پیسہ یہاں سے چوری کیا ہے ، سارے پاکستان کی جیلوں سے چوری کے مقدمات میں ملوث افراد کا ڈیٹا اکٹھاکر لیں تو بھی 700 ارب روپے نہیں بنیں گے ۔

ایک کالر کی جانب سے وزیر اعظم کو شکایت کی گئی کہ ان کی اراضی پر قبضہ کیا گی ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ قبضہ گروپوں کے خلاف جنگ شروع کی ہوئی ہے ، کئی سابق وزراءقبضوں میں ملوث ہیں ،ہم نے جن سے بھی قبضے چھڑوائے ہیں وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انتقامی کارروائی ہوئی ، ہم نے اراضی کے ریکارڈ کے مطابق کارروائی کی ، ایک ایم این اے سے قبضہ واگزار کرایا تو وہ مریم نواز کے ساتھ جا کر کھڑ اہو گیا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ،اب پاکستان میں عدالتیں آزاد ہیں ، عدالت کیوں نہیں جاتے ؟۔کسی کی بھی زمین پر قبضہ ہوا ہو تو وہ پورٹل پر شکایت کرے ، سول کیسز بھی عدالتوں میں 40 سال تک چلتے رہتے ہیں ، جن پر مقدمات ہوں ان کی اگلی نسل بھی عدالتوں میں پیش ہوتی ہے ، کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے مقدمات کے ایک سال میں فیصلے ہوں ۔

بلوچستان میں بارڈر پر باڑ سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں سمگلنگ کی روک تھام کیلئے بارڈر پر باڑ لگائی گئی جس کے باعث ہماری تباہ ہوتی انڈسٹری اٹھنے لگی ہے ، ہم وہاں بارڈر مارکیٹ بنانے جا رہے ہیں ، ہم پاک افغان اور پاک ایران بارڈر پر مارکیٹ بنائیں گے ، اس طرح وہاں کے لوگ سمگلنگ کی بجائے تجارت کرنے لگیں گے ۔ ایران کا سمگل ہونے والا پٹرول 180ارب روپے کا نقصان کرتا ہے ، یہی اگر ہم ڈیوٹی عائد کر دیں گے تو ہمیں 180ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔

کراچی کے مسائل سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد 57فیصد پیسہ سیدھا صوبوں کو دیا جاتا ہے ، ان کے پاس سارے اختیارات چلے گئے ہیں ، جیسے فوڈ سکیورٹی تو ہمارے پاس ہیں ، لیکن گندم کب جاری کرنے ہے اور ریٹ کیا ہوگا یہ اختیار صوبوں کے پاس ہے ، پنجاب اور سندھ کی گندم کے فرق میں 400 روپے کا فرق ہے ۔ سندھ اور پنجاب کے پاس اضافی گندم ہے جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا اس معاملے میں خود کفیل نہیں ہے، پنجاب نے 800روپے سندھ نے1200 کے مطابق گندم جاری کی ۔

جرمنی سے ایک کالر ذوالفقار نے فرینکفرٹ سفارتخانے کے ایک عہدیدار کیخلاف شکایت کی، وزیر اعظم نے کہا کہ میں سارے سفیروں کو برا نہیں کہتا ، انہوں نے کشمیر کی ا?واز ہر فورم پر اٹھائی ، اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات کیلئے نیا سسٹم متعارف کرا رہے ہیں ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نیچے ایک سپیشل ا?فیسر ہوگا ، جو شکایات  سفارتخانے حل نہیں کر رہے ، انہیں وہ ا?فیسر سنے گا، میرا سٹیزن پورٹل بھی شکایات سنے گا۔ 

اسلام آباد سے ہارون نامی کالر نے پانی کا مسئلہ اٹھایا ، وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی اور اسلام آباد میں پانی کا مسئلہ ہے  اگر راوی سٹی نہیں بناتے تو لاہور میں بھی پانی کا مسئلہ ہوگا۔ شہر بغیر کسی پلاننگ کے پھیلتے جا رہے ہیں ، ہم شہروں کے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں ، شہروں کو ہائی رائز کی اجازت دے رہے ہیں ، شہر اوپر چلا جائے تو مسائل پیدا نہیں ہوتے ، شہر پھیل جائیں تو مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔اسلام آباد میں پانی اوپر لانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔  ہاو¿سنگ سوسائٹی کےبارے میں بتا دوں کہ پاکستان میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ بھی اپنا گھر بنا رہا ہے۔ہم ایک بینکنگ سسٹم بنا رہے ہیں جس کا کام ہی لوگوں کو قرضے دینا ہے ،حکومت لوگوں کو تین فیصد پر قرضے دے رہی ہے جبکہ گھروں پر تین لاکھ روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے ،  ا?نے والے وقت میں لوگوں کو مزید سہولیات دیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں کسی بھی چیز کی پلاننگ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے گندم کا بحران آیا ، ہم لانگ ٹرم پلاننگ کر رہے ہیں ، اب سے دس سال کے بعد کی آبادی کا سوچ کر پلان بنا رہے ہیں ، نہ صرف گندم بلکہ ہم دودھ کی پیداوار بھی بڑھارہے ہیں ، چین اور یورپ میں دودھ کی پیداوار پاکستان کی نسبت چھ چھ فیصد زیادہ ہے ،ہم باہر سے سپرم امپورٹ کریں گے جس سے گائے بھینسوں کی پیداوار بھی بڑھے گی اور خالص دودھ بھی میسر آئے گا۔

مزید :

اہم خبریں -