اسلامی ثقافت کی عمدہ عکاسی

اسلامی ثقافت کی عمدہ عکاسی
اسلامی ثقافت کی عمدہ عکاسی

  

چین کے شہر شی آن کا شمار سیاسی ،معاشی ،ثقافتی اور سیاحتی اعتبار سے ملک کے اہم ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔یہاں مختلف اقلیتوں کے لوگ بھی امن و محبت سے زندگی بسر کررہے ہیں اور کہا جا سکتا ہے کہ زندہ دلی اور مہمان نوازی یہاں کے لوگوں کا شیوہ ہے۔اسی باعث یہاں گاہے بگاہے مختلف قومی اور عالمی نوعیت کی اہم تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

شی آن میں مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد رہائش پزیر ہے ۔ایک اندازے کے مطابق یہاں مختلف حصوں میں ساٹھ سے ستر ہزار مسلمان بستے ہیں۔لہذا اسلامی تہذیب کے عمدہ نمونے یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ شی آن میں قیام کے دوران یہاں کی سب سے بڑی  شی آن عظیم مسجد جانے کی بھی سعادت ملی۔یہ مسجد فن تعمیر کاایک عمدہ شاہکار ہے۔تاریخی حقائق کے مطابق شی آن عظیم مسجد  742عیسوی میں تعمیر کی گئی۔تیرہ سو سالہ قدیم اس مسجد کی  تعمیر میں عرب اور چینی فن تعمیر دونوں کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ چین میں تھانگ ،چھنگ ،یون ،منگ دور بادشاہت میں مسجد  کی تعمیر کو مزید توسیع حاصل ہوتی رہی ۔آج اس مسجد کا مجموعی رقبہ تیرہ ہزار مربع میٹر ہے جبکہ فرشی رقبہ چھ ہزار مربع میٹر سے زائد ہے۔مسجد کی تعمیر میں انتہائی نفاست سے لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ قدیم وقتوں میں آزان کے لیے تعمیر کیے جانے والے مینار آج بھی محفوظ ہیں۔ مسجد کی چھت بھی انتہائی خوبصورت ہے اور دور سے باآسانی دیکھی جا سکتی ہے۔

مسجدکے اندرونی ہال میں آویزاں لکڑی کے تختوں پر پورا قرآن پاک لکھا گیا ہے جبکہ قرآنی آیات بھی جگہ جگہ کندہ کی گئی ہیں۔اسی طرح نمازیوں کی سہولت کے لیے نرم و ملائم خوبصورت قالین بچھائے گئے ہیں۔ شی آن عظیم مسجد کے امام حاجی اسحاق صاحب سے ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ نماز عیدین کے موقع پر شہر کے مختلف حصوں سے مسلمان یہاں کا رخ کرتے ہیں اور ایک وقت میں ہزاروں مسلمان باآسانی یہاں نماز ادا کر سکتے ہیں۔اس مرتبہ یہاں عید الفطر کی نماز صبح نو بجے ادا کی جائے گی جس کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں ۔خواتین کے لیے نماز کی ادائیگی کا الگ انتظام کیا گیا ہے ۔

اس مسجد کو چینی حکومت کی جانب سے قومی تاریخی مقام کا درجہ حاصل ہے جس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔تاریخی اعتبار سے صوبہ شان شی کی مقامی حکومت نے 1956میں اس مسجد کو ایک اہم تاریخی اور ثقافتی مقام کا درجہ دیا تھا۔ بعد میں سن1988میں اس درجے کو مزید بڑھاتے ہوئے اسے چین کے اہم ترین مقامات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔یہ بات قابل زکر ہے کہ اس تاریخی مسجد کودیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں اور  مرتب شدہ ریکارڈ کے مطابق 1978کے بعد سے یہاں دنیا کے ایک سو ممالک اور خطوں سے ایک کروڑ سے زائد افراد نے مسجد کا دورہ کیا ہے۔ چین میں اندرونی طور پر بھی تعطیلات کے دوران سیاحوں کی کوشش ہوتی ہے کہ شی آن کی سیاحت کے دوران اس تاریخی عظیم مسجد کا ضرور دورہ کیا جائے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ شی آن کی یہ عظیم مسجد اسلامی تعلیمات کے فروغ کا ایک مقام ہے جہاں امن و سلامتی ،اتحاد واتفاق ،محبت و اخوت کے جذبات یکجا دیکھے جا سکتے ہیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -