مت رو فلسطینی بچے ۔۔۔۔!!!

مت رو فلسطینی بچے ۔۔۔۔!!!
مت رو فلسطینی بچے ۔۔۔۔!!!

  

عید کا چاند نظر آنے کو ہے مگر کیسی عید،کہاں کی عید؟؟؟فلسطینی ماؤں ،بہنوں،بیٹیوں کی آہوں اور بچوں کی سسکیوں سے دل سوگوار اور آنکھیں اشکبار ہیں۔۔۔۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں یہودی فوج نے مسجد اقصیٰ  میں بارود کی بارش کے بعد غزہ کو خون میں نہلا دیا۔۔۔کتنے ہی شہدا میں 9بچے بھی شامل ہیں. ۔۔۔ گھر گھر زخمی پڑے ہیں۔۔۔نہتے فلسطینیوں کی عید ماتم میں بدل گئی ہے۔۔۔شرق تا غرب ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں۔۔۔پچاس سے زائد اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ہے اور سب سے بڑھ کر اسلامی عسکری اتحاد ہے مگر زخموں سے چور چور فلسطینیوں کا عملی طور پر کوئی پرسان حال نہیں۔۔۔بس ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر مذمتیں ہیں اور مطالبات ہیں۔۔۔ترلے ہیں اور منتیں ہیں۔۔۔

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے اسلامی بھائی چارے کی یاد دلاتے ہوئے کہا تھا:

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں

تو ہندوستان کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے

لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کابل کے بجائے پورا افغانستان بموں سے اڑادیا گیا۔۔۔عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔۔۔شام کو ملبے کا ڈھیر بنا دیاگیا۔۔۔کشمیر میں برس ہا برس سے لاشے گر رہے اور عصمتیں لٹ رہی ہیں۔۔۔ فلسطین کب سے جل رہا ہے اور نا جانے کب تک جلتا رہے گا مگر عرب سے عجم اخوت کا کوئی عملی مظاہرہ دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔۔ہرکہیں نفسا نفسی ہے، آپا دھاپی ہے.....!!!

 اب تو کوئی فیض احمد فیض بھی نہیں کہ جو فلسطینی بچے کو لوری سنائے اور فلسطینی مجاہد کے لیے ترانہ ہی لکھے۔۔۔اس بڑے شاعر نے بیروت میں بیٹھ کر کئی سال پہلے فلسطین کے "خونیں منظرنامے" کو اپنے آنسوئوں سے سینچا۔۔۔ان کے قلم سے رلا دینے والی لوری آج بھی رلا رہی ہے:

مت  رو  بچے

رو رو کے ابھی

تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت  رو بچے

کچھ ہی پہلے

تیرے ابا نے

اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت  رو بچے

تیرا بھائی

اپنے خواب کی تتلی کے پیچھے

دور کہیں پردیس گیا ہے

مت رو بچے

تیری باجی کا 

ڈولا پرائے دیس گیا ہے

مت رو بچے

تیرے آنگن میں 

مردہ سورج نہلائے گئے ہیں

چندرما دفنا کے گئے ہیں

مت رو بچے

امی ابا باجی بھائی

چاند اور سورج

تو گر روئے گا تو یہ سب

اور بھی تجھے رلائیں گے 

تو مسکائے گا تو شاید 

سارےاک دن بھیس بدل کر

تجھ سے کھیلنے لوٹ آئینگے

فیض نے فلسطینی مجاہد کے لیے بھی کیا ہی ایمان افروز نغمہ لکھا:

ہم جیتیں گے

حقا ہم اک دن جیتیں گے

بالآخر اک دن جیتیں گے

کیا خوف ز یلغار اعدا

ہے سینہ سپر ہر غازی کا

کیا خوف ز یورش جیش قضا

صف بستہ ہیں ارواح الشہدا

ڈر کاہے کا !

ہم جیتیں گے 

حقا ہم اک دن جیتیں گے

قد جا الحق و زہق الباطل

فرمودہ رب اکبر

ہے جنت اپنے پائوں تلے 

اور سایہ رحمت سر پر ہے

پھر کیا ڈر ہے!

حقا ہم اک دن جیتیں گے

بالآخر اک دن  جیتیں گے

آج جناب الطاف حسین حالی ہوتے تو پھر جھولی پھیلاتے:

اے خاصا ئے خاصانِ رُسلﷺ وقتِ دعا ہے 

اُمت پہ تیری آ کے عَجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے 

پردیس میں آج وہ تنہا غریب الغُربا ہے 

جناب احمد ندیم قاسمی ہوتے تو پھر صدا دیتے:

اک بار اور بھی بطحا سے فلسطین میں آ

راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -