صدر نے وزیراعظم کی سفارش مسترد اور کابینہ ڈویژن نے گورنر برطرف کر دیا!

صدر نے وزیراعظم کی سفارش مسترد اور کابینہ ڈویژن نے گورنر برطرف کر دیا!

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

ملک اور خصوصاً پنجاب میں ”آئینی اور قانونی بحران“ ختم نہیں ہو پا رہا کہ ایک متاثرہ فریق نے اس مقصد کے لئے متعلقہ فورم (عدلیہ) سے رجوع کرنے کے لئے بھی تخصیصی رویہ اپنایا ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رکاوٹوں کے باوجود حمزہ شہباز شریف کی حلف برداری ہو گئی اور یہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر ہوئی۔ اس کے خلاف پی ٹی آئی کی طرف سے انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی، جس کے لئے ایک پانچ رکنی بڑا بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے لیکن دوسری طرف صدر مملکت عارف علوی اور گورنر (سابق) پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے مروجہ آئینی شق اور اختیارات سے مبینہ طور پر تجاوز کیا اور عدلیہ سے رجوع کرنے کی بجائے اصرار کیا کہ وفاقی حکومت گورنر کو برطرف کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ صدر مملکت کا حق ہے۔ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ 1973ء کے آئین کے تحت ملک میں پارلیمانی نظام ہے، جس میں چیف ایگزیکٹو کے تمام تر اختیارات وزیراعظم کے پاس ہیں اور صدر وزیراعظم کی سفارشات قبول کرنے کے پابند ہیں۔ صوبائی گورنروں کی تعیناتی اور برطرفی کی بھی مثالیں موجود ہیں کہ گورنر صوبوں میں وفاق کے نمائندہ ہوتے ہیں اور ان کی تعیناتی  اور برطرفی وزیراعظم کی سفارش کی روشنی میں ہوتی ہے۔جب سابق وزیراعظم عمران خان برسراقتدار تھے تو کوئی مسئلہ نہ ہوا۔ شاہ فرمان اور عمران اسماعیل کی تقرری سہولت کے ساتھ ہو گئی اور بلوچستان کا بحران بھی وزیراعظم ہی کی ”ایڈوائس“ پر ختم ہوا تھا، تاہم اب جب وفاق میں عدم اعتماد سے تبدیلی مان لی گئی تو پنجاب میں حالات زیادہ بحرانی کیفیت اختیار کر گئے۔ اس حوالے سے سابقہ متحدہ اپوزیشن نے تحمل کا مظاہرہ کیا  اور عدالت عالیہ ہی سے رجوع کیا گیا اور عدلیہ ہی کی ہدائت اور حکم کی روشنی میں بالآخر حمزہ شہباز شریف حلف اٹھا کر وزیراعلیٰ بنے کہ محترم عمر سرفراز چیمہ نے ایسا کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ انتخاب کو منظور نہیں کرتے۔ اس حوالے سے سب حضرات جانتے ہیں کہ تحریک انصاف کی طرف سے وزارت اعلیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی تھے جو اس وقت بھی سپیکر پنجاب اسمبلی تھے اور آج بھی ہیں، ان کے خلاف اگرچہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی گئی ہوئی ہے تاہم ابھی ایوان میں پیش نہیں کی گئی (وجہ اب تک نامعلوم) یوں وہ وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل کے بعد سپیکر کی حیثیت سے تو موجود ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے آئینی طریق کار کے مطابق گورنر کی علیحدگی اور حال ہی میں نئے گورنر کی نامزدگی کے لئے سفارشات بھیج دیں۔ صدر  نے ابتدا میں پہلی بار ”ایڈوائس“ اعتراض کے ساتھ واپس بھیج دی جو دوبارہ بھیجی گئی تو انہوں نے خاموشی اختیار کر لی، تاہم عمر سرفراز چیمہ آئین پڑھنے کی سفارش کرتے رہے اور انہوں نے وزیراعظم کی ایڈوائس کے عمل کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا۔ بالآخر صدر محترم نے ”ایڈوائس“ کی از خود تکمیل کے آخری روز وزیراعظم کی ”ایڈوائس“ مسترد کرکے عمر سرفراز چیمہ کو گورنر برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا، تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے گزشتہ شب معیاد ختم ہونے پر گورنر کی برطرفی کے احکام جاری کر دیئے اور صدر سے کہا کہ نئے گورنر کی تعیناتی والی ایڈوائس جلد منظور کی جائے۔

یہ جو کچھ ہوا، سامنے ہے، اب سرفراز چیمہ نے پھر سے آئینی ماہرین سے مشورہ شروع کیا، ان کے اور صدر محترم کے موقف کے مطابق ان کو برطرف کیا ہی نہیں جا سکتا تو اب جو عمل ہوا، اس کی دادرسی کے لئے تو ان کو بہرحال اسی عدلیہ سے رجوع کرنا ہوگا کہ آئینی تشریح کا حق تو عدلیہ ہی کا ہے اور سابق گورنر موصوف نے تو ان فاضل جج صاحب کے خلاف سپریم کونسل کو ریفرنس بھیجنے کا اعلان کر دیا تھا جنہوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو وزیراعلیٰ سے حلف لینے کے لئے ہدایت کی اور اس پر عمل ہوا تھا۔

یہ تو وہ حالات ہیں جن کو آئینی بحران کہاجا رہا ہے، تاہم ان کا حتمی فیصلہ اب بھی عدلیہ ہی نے کرنا ہے، مسلم لیگ (ن) کو اعتراض نہیں ہے کہ آئینی طور پر گورنر کی عدم موجودگی اور ڈپٹی سپیکر قائم مقام سپیکر ہوتے ہیں یوں چودھری پرویز الٰہی قائم مقام گورنر تو دوست محمد مزاری اب سپیکر پنجاب اسمبلی ہوں گے۔ کیسی عجب کہانی ہے۔ 

اس سیاسی اور مبینہ آئینی بحران کو ایک طرف رکھیں۔ حقیقی مشکل معاشی ہے جو ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں ہو گی اور یہ معاشی بحران جاری ہے۔ ہمارے ملک کے ”منافع خور“ تہواروں کو ہی اپنی کمائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ پہلے معاشی ناہمواری کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی رہی اور جب رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آیا تو ان حضرات نے دانت اور تیز کر لئے اور مزید مہنگائی کر دی۔ اتفاق ہے کہ تحریک عدم اعتماد اور حمزہ شہباز کا انتخاب بھی انہی دنوں ہوا، چنانچہ بڑھتی گرانی ان کے کھاتے میں ہے۔ عیدالفطر کے حوالے سے جب پانچ چھٹیاں کی گئیں اور دو مزید جوڑ کر سات ہو گئیں تو رسد و کھپت کا تضاد پیدا ہو گیا۔ چھٹیوں کے باعث رسد رکی تو منافع خوروں نے لوٹ مچا دی۔ مرغی کا گوشت 6سو روپے فی کلو تک کر دیا، بکرے کا گوشت 18سو روپے فی کلو بیچا، یوں شہری چلا اٹھے اور میڈیا نے بھی شور مچا دیا، اصل بات کوئی نہیں بتاتا تھا۔ سابقہ حکمرانوں نے مہنگائی کے طعنے موجودہ حضرات کو دینا شروع کر دیئے۔ اب گزشتہ دو روز (یعنی پیر) سے جب بتدریج رسد بحال ہونا شروع ہوئی تو نرخ واپس آنا شروع ہو گئے۔ آج ٹماٹر 80روپے فی کلو اور پیاز 90سے ایک سو روپے فی کلو ہو گیا۔ مرغی کا گوشت بھی چار سو روپے سے 460روپے تک آ گیا۔ علاقوں کا فرق ہے، یہ مصنوعی مہنگائی تو ایک ہفتے میں واپس ہوگی۔ تاہم چیلنج تو رہے گا کہ سابقہ مہنگائی کیسے ختم ہو۔

 کیا پنجاب میں آئینی بحران ختم ہو گیا؟ محترم سرفراز چیمہ آئینی ماہرین سے پھر مشاورت کر رہے ہیں، کیا عدلیہ سے رجوع کریں گے؟

عید کی چھٹیاں اور مصنوعی مہنگائی، نرخ واپس پہلی مہنگائی کے مطابق آنا شروع 

مزید :

ایڈیشن 1 -