عمران خان بیانیہ بحران کا سبب بن گیا

 عمران خان بیانیہ بحران کا سبب بن گیا

  

اسلام آباد سے سہیل چودھری 

سیاسی محاذ آرائی کے گہرے بادل وفاقی دارالحکومت پر چھائے ہوئے ہیں۔ سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے سابق وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھونے کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونے کی حقیقت تسلیم کرنے سے گریزاں نظر آ رہے ہیں۔ وہ نوزائیدہ حکومت کو تو نشانہ بنا ہی رہے ہیں اور اقتدار سے بے دخلی کے ڈانڈے امریکی انتظامیہ سے جوڑتے ہوئے ایک سازش کے اپنے بیانیہ کے غبارے میں خوب ہوا بھر رہے ہیں تو ساتھ ساتھ قومی اداروں کو اس مبینہ سازشی تھیوری کا حصہ بنانے پر تلے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس ضمن میں وہ وقتاً فوقتاً سیاسی خودکش حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، ایبٹ آباد کے جلسہ میں الزامات سے بھرپور پوری ایک ایسی ہی تقریر میں انہوں نے ملکی سلامتی کے اہم ترین ادارے کے سربراہ پر بھی بالواسطہ طور پر ایک غیر مناسب تاریخی تشبیہ سے الزام لگایا جو کہ ان کے سابق وزیراعظم کی حیثیت کے تقاضوں کے بھی برعکس تھا۔ اس پر نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ایک تلاطم برپا ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کھیل کے میدان کی سپورٹس مین سپرٹ کو سیاست کے میدان میں بروئے کار لانے سے قاصر ہیں۔ کھیل کے میدان میں کھلاڑی جیتنے کے ساتھ ساتھ ہارنا بھی سیکھتا ہے۔ سیاست کے میدان میں بھی ہار جیت معمول کا عمل ہے۔ درحقیقت اقتدار کے کھیل میں جمہوریت کو اسی لئے منفرد مقام حاصل ہے کہ اس میں پُرامن انتقال اقتدار جمہوری قوانین کے مطابق عمل میں آتا ہے، تاہم کپتان عمران خان نے سراج الدولہ اور میر جعفر کی جلسہ میں کی جانے والی تقریر کے بعد تشبیہ سے آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک سخت تنبیہی بیان جاری کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مسلح افواج کو سیاست میں نہ گھسٹیں، جبکہ وہ پہلے ہی ایک پریس بریفنگ میں واضح کر چکے ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے عمل کا کسی بھی سازش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کپتان بارہا اپنی سیاسی زندگی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ صرف طاقت کے حصول کے لئے سیاست نہیں کر رہے لیکن وفاقی دارالحکومت میں بعض اہم حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں۔ بالخصوص خارجہ امور سے تعلق رکھنے والے حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان سفارتی کیبل کو سازش سے منسلک کرکے جھوت کے تاج محل پر اقتدار کے حصول کے لئے سیاست کر رہے ہیں، تاہم قومی اسمبلی میں عمران خان کے اس بیان پر قرارداد مذمت منظور کی گئی جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ایبٹ آباد کے جلسہ میں تقریر کے خلاف ایک بھرپور ردعمل دیا اور ان کے خوب لتے لئے۔ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے بھی سابق وزیراعظم پر خوب تنقید کے ڈونگرے برسائے، تاہم ملک بھر میں پیدا ہونے والے اس ردعمل پر کپتان عمران خان نے ایبٹ آباد کے جلسہ میں اپنی تشبیہات کو اپنے سیاسی حریفوں وزیراعظم شہبازشریف اور سابق وزیراعظم نوازشریف پر جڑ دیا۔ ان کے سیاسی ناقد اسے ان کا ایک اور یوٹرن قرار دے رہے ہیں۔

ایک طرف کپتان عمران خان نے ایک سیاسی طوفان بپا کیا ہے تو دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ملک میں ایک آئینی بحران کے موجب نظر آ رہے ہیں۔ درحقیقت پاکستان تحریک انصاف کی یہی حکمت عملی نظر آ رہی ہے کہ ایک طرف سے سیاسی اور دوسری جانب سے آئینی بحران پیدا کیا جائے کہ ملک میں فوری الیکشن کروانے کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہ آئے اس بنا پر ایک بے یقینی کی فضا بن رہی ہے جس کے نتیجہ میں پہلے سے کمزور معیشت مزید خطرات میں گہری ہوتی نظر آ رہی ہے اگرچہ وزیراعظم شہبازشریف نے برسراقتدار آتے ہی بعض قلیل المدتی اقدامات کے ذریعے ڈوبتی ہوئی معیشت کی ناؤ کو سنبھالا دینے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں ڈالر کی قیمت میں کمی واقع ہوئی اور سٹاک مارکیٹس کی کارکردگی بہتر ہوئی، لیکن پی ٹی آئی کے سیاسی حملوں کے بعد نہ صرف سٹاک مارکیٹس  میں مندی ہو رہی ہے بلکہ ڈالر نے پھر سے اڑان بھرنی شروع کر دی ہے۔ تاہم حکمران اتحاد ملک میں جاری سیاسی و آئینی بحران کو ختم کرنے کی غرض سے ایک لائحہ عمل ترتیب دے رہا ہے تاکہ بے یقینی کی فضا ختم ہو سکے اور معیشت کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔

 گزشتہ روز وفاقی کابینہ میں اس حوالے سے غور  کیا گیا اور ایک ٹھوس حکمت عملی اپنانے پر اتفاق ہوا، اب دیکھنا ہے کہ حکومت کیا اقدامات بروئے کار لاتی ہے کہ کپتان جو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور ممکنہ دھرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اپنے کارکنوں کو اس مقصد کی لئے گرما رہے ہیں ان کے مقابل کسی تصادم سے گریز کیا جا سکے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے کپتان کے الزامات پر ردعمل کے بعد ملک کے سب سے اعلیٰ ترین ادارے کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آئین کا تحفظ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فرض ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 12ججوں کی مشاورت سے انہوں نے از خود نوٹس لیا تھا جبکہ چیف جسٹس آف اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے بھی ایک دوسرے کیس میں واضح کیا کہ عدالتوں کو کوئی خوف نہیں کہ کون کیا بیانیہ بنا رہا ہے۔ قوانین کے مطابق عدالتیں 24گھنٹے کھلی رہ سکتی ہیں۔ مسجد نبویؐ میں ہونے والے واقعہ کی بازگشت بھی وفاقی دارالحکومت میں جاری ہے جبکہ اس حوالے سے ایک اہم ترین کردار شیخ رشید احمد کے بھتیجے راشد شفیق کی اس مقدمہ میں ضمانت منظور ہو گئی ہے تاہم حکمران اتحاد کی اہم ترین جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اس ایشو کو زیادہ اٹھانے کے حق میں نہیں۔ تاہم وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اس ایشو پر اور شیخ رشید کی جانب سے ایک تشدد آمیز بیان پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں اور وہ اس پر قانون کے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہتے ہیں۔ اگر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت اس تناظر میں کریک ڈاؤن بھی کر سکتی ہے،تاہم اس سے بھی سیاسی بے یقینی بڑھ سکتی ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ مسلح افواج اور اعلیٰ عدلیہ آئینی اور جمہوریت کی مضبوط اور تسلسل کے لئے چوکس ہے۔

وفاقی حکومت سیاسی محاذ آرائی کے گہرے بادلوں کی زد میں،

آئی ایس پی آر کا دوٹوک جواب، فوج کو سیاست سے الگ رکھیں!

وفاقی کابینہ نے مشکل معاشی حالات سے عہدہ برآ ہونے کا فیصلہ کیا 

مزید :

ایڈیشن 1 -