ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ہزاروں ملازمین کا حکومت کے خلاف مظاہرہ

ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ہزاروں ملازمین کا حکومت کے خلاف مظاہرہ

  

پشاور سے نعیم مصطفےٰ

جب سے سیاسی محاذ آرائی میں تیزی آئی ہے ہمارے بعض سیاسی قائدین جہاں متشدد اور تند و تیز جملوں کا استعمال کررہے ہیں وہاں سوشل میڈیا پر بھی بے سروپا الزامات کی بھرمار ہے۔ ایک طرف فیک پیغامات جاری ہو رہے ہیں تو دوسری جانب ٹویٹر پر بے جا استعمال کے ذریعے من گھڑت پیغام رسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ بسا اوقات تو اہم شخصیات کے نام اور اکاؤنٹ استعمال کرکے ایک حشر بپا کیا جا رہا ہے جو کسی طور بھی مناسب نہیں۔ مہذب اقوام میں اسے اہانت آمیز اور بداخلاقی کی انتہا تصور کیا جاتا ہے۔ اس قسم کا سلسلہ اگرچہ گزشتہ 5، 7سال سے جاری ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس میں جو برق رفتار اضافہ ہوا ہے اسے معاشرتی انحطاط کی بدترین شکل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ابھی گزشتہ روز ایف آئی اے نے مسلم لیگ ن کی سینئر رہنما مریم نواز کے جعلی ٹوئٹ اور نامناسب اور بے بنیاد تصویریں جاری کرنے پر پشاور سے ایک نوجوان کو گرفتار کیا جس کا تعلق ایک بڑی قومی سیاسی جماعت ہے۔اس معاملے کی تحقیقات کے بعد ہی اصل صورت حال سامنے آئے گی تاہم اس قسم کی حرکت کو کسی طور بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ پر لیکن اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا قابل نفرین عمل ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنان کے لئے ایسی تربیت سازی کا اہتمام کرنا چاہیے جس سے وہ بے ہودگی کی دلدل سے دور رہیں۔ 

دوسری اہم خبر خیبر پختونخوا میں سیاسی گہما گہمی سے متعلق ہے جس میں وفاقی حکومت کی تبدیلی کے بعد خیبرپختونخوا کو وفاق کی طرف سے فنڈز کی عدم دستیابی یا کمی کے شکوے سننے میں آ رہے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی طرف سے وفاق کے ساتھ عدم تعاون اور صوبائی اثاثے یا اختیارات کے سیاسی استعمال کی شکایتیں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ ابھی دو روز قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان کا سرکاری ہیلی کاپٹر سیاسی جلسے میں آمد و رفت کے لئے استعمال کئے جانے کی خبر منظرعام پر آئی اس پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ چاہیے تو یہ کہ ہم سیاسی اور حکومتی امور کو یکجا نہ کریں اور سرکاری اختیارات یا سہولیات کے سیاسی استعمال سے بھی گریز کیا جانا چاہیے۔  تیسری خبر سرکاری ملازمین کے حوالے سے ہے  جس میں  ورکر ویلفئیر بورڈ کے ہزاروں ملازمین کچھ عرصہ سے سراپا احتجاج ہیں ان ملازمین کا کہنا ہے کہ طے شدہ قواعد و ضوابط اور معاہدے کے تحت ان کی ترقیاں روکی گئی ہیں اور انہیں مستقل بھی نہیں کیا جا رہا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ بھی واضح احکامات بھی دے چکی ہے لیکن بورڈ انتظامیہ انہیں تسلیم نہ کرکے توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ گزشتہ روز پریس کلب کے باہر احتجاج، احتجاج میں مظاہرین نے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور جی ٹی روڈ بلاک کر دی۔ جس سے منگل کی شام تک شہر کے اندر اور بیرون شہر ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی جہاں بڑی تعداد میں بورڈ ملازمین طلبا اور دیگر شعبوں سے متعلق شہریوں نے احتجاج کیا، مظاہرین کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت ورکر ویلفئیر ملازمین کو ایک سازش کے تحت بے روز گار کرنے میں لگی ہوئی ہے، مظاہرین نے ورکرز ویلفئیر بورڈ ملازمین کو سروس رولز کو جلد سے جلد نوٹیفائیذ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا  تین ہزار سے زائد مرد اور خواتین اساتذہ کو ریکوگر کیا جائے۔ یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ مطالبات کی تسلیم نہ ہونے کی صورت میں صوبے بھر میں مزید احتجاج کیا جائے گا۔

صوبائی دارالحکومت سمیت خیبر کے بیشتر علاقے آج کل قیامت خیز گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور جڑواں شہر اسلام آباد راولپنڈی میں موسم کی خوشگوار تبدیلی کے اثرات یہاں تک نہیں پہنچ رہے اس سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں دوسری جانب آٹا،چینی،چاول سمیت اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں خودساختہ اضافے نے بھی شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی بھی جاری ہے۔ جبکہ آٹے کے بحران کی افواہوں نے بھی دن کا سکون اور رات چین چھینا ہوا ہے۔ اس حوالے سے شہری سماجی و سیاسی حلقوں نے معاملات کی فوری درستگی کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر مریم نواز کے جعلی اکاؤنٹ سے مواد اپ لوڈ کرنے پر پشاور سے نوجوان گرفتار!

خیبرپختونخوا حکومت کا وفاقی فنڈز نہ ملنے کا شکوہ، عمران خان نے صوبے کا سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا 

مزید :

ایڈیشن 1 -