گورنر پنجاب سبکدوش 

  گورنر پنجاب سبکدوش 

  

کابینہ ڈویژن نے پنجاب کے گورنر عمر سرفراز چیمہ کو ڈی نوٹیفائی کر کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور اُن کی جگہ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کو قائم مقام گورنر مقرر کر دیا گیا ہے جو نئے گورنر کی تعیناتی تک فرائض سرانجام دیں گے۔اس سے پہلے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کی وزیراعظم آفس سے بھیجی گئی سمری دوسری بار مسترد کر دی تھی اور کہا تھا کہ اُن پر ایسا کوئی الزام نہیں جس کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹایا جائے جبکہ وزیراعظم کی طرف سے بھیجی گئی دوسری سمری کا کل آخری دن تھا جس کے بعد آئین کے مطابق گورنر کو عہدے سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا۔گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹانے کے بعد عمر سرفراز چیمہ سے اُن کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی،اُن کی گورنر ہاؤس واپسی کی ممانعت کر دی گئی ہے اور پولیس ذرائع نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔ پنجاب کے گورنر کا معاملہ پچھلے کئی ہفتوں سے بحران کا باعث بنا ہوا تھا۔اس سے پہلے گورنر عمر سرفراز چیمہ نے نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف نہیں لیا تھا جس پر لاہور ہائی کورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی کو حلف لینے کی ذمہ داری سونپی۔اب گورنر پنجاب کابینہ سے حلف نہ لینے کا اعلان کر چکے تھے جس کی وجہ سے پنجاب میں حکومت سازی کا عمل رکا ہوا تھا،وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے صدرِ مملکت عارف علوی کو دو بار گورنر کی برطرفی بارے سمری بھیجی گئی۔پہلی سمری انہوں نے مسترد کر دی تو رولز کے مطابق انہیں دوسری سمری بھیجی گئی جس پر دس روز تک فیصلہ نہیں کیا گیا،آخری دن انہوں نے سمری یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ انہیں آئین پاکستان کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ گورنر کو اپنی رضا مندی کے ساتھ عہدے پر برقرار رکھ سکیں،اس لیے وہ وزیراعظم کی سمری مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ موجودہ گورنر پر کسی بدانتظامی کا کوئی الزام ہے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت کی طرف سے سزا ہوئی ہے۔انہوں نے آئین کے خلاف کوئی کام بھی نہیں کیا،اس لیے انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا۔

گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات، وفا داریوں کی تبدیلی اور وزیراعلیٰ کے استعفے کی بابت ایک جامع رپورٹ صدرِ مملکت کو ارسال کی تھی جس کی بنیاد پر صدر عارف علوی نے کہاکہ اس رپورٹ کی موجودگی میں اُنہیں یقین ہے گورنر پنجاب کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو گا۔ضروری ہے کہ موجودہ گورنر ایک صاف و شفاف اور صحت مند جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی اور فروغ کے لیے اپنے عہدے پر قائم رہیں۔آئین کا آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے،اس مشکل وقت میں دستورِ پاکستان کے اصولوں پر کاربند رہنے کا پابند ہوں اس لیے گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم پاکستان کی ایڈوائس مسترد کرتا ہوں۔ صدرِ مملکت نے اگرچہ اپنی طرف سے ایک مدلل بیانیہ اختیار  کر کے وزیراعظم کی ایڈوائس کو مسترد کرنے کا راستہ اختیار کیاتاہم یہ آئین کی بنیادی روح ہے کوئی  بھی شخص اُس سے پہلو تہی نہیں کر سکتا کہ وفاقی پارلیمانی نظام میں وزیراعظم کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین میں صدرِ مملکت کو وزیراعظم کی طرف سے بھیجی گئی ایڈوائس پر عملدرآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔اس سلسلے میں یہ امر بھی واضح ہے کہ صدرِ مملکت وزیراعظم کی طرف سے بھیجی گئی سمری کو ایک بار مسترد کر سکتا ہے،دوسری بار اگر وہ دس دن کے اندر اُسے منظور نہیں کرتا تو وہ خودبخود منظور ہو جاتی ہے۔گورنر پنجاب کی طرف سے منتخب وزیراعلیٰ سے حلف نہ لینا ایک صریحاً آئینی خلاف ورزی تھی،اگرچہ وفاق میں بھی صدر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف اور کابینہ سے حلف نہ لینے کا فیصلہ کیا تاہم وہاں آئینی بحران اس لیے پیدا نہیں ہوا کہ  چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ان کے قائم مقام کے طور پر حلف لے لیا۔

 پنجاب میں معاملہ دوسرا تھا کیونکہ گورنر عمر سرفراز چیمہ نے یہ کہہ کر حلف لینے سے انکار کیا کہ حمزہ شہباز کا انتخاب ہی غیر آئینی ہے، وہ انہیں وزیراعلیٰ ہی تسلیم نہیں کرتے۔ اس پر لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی۔ ہائی کورٹ نے حلف لینے کا حکم دیا مگر اُسے نظر انداز کر دیا گیا۔ دوسری بار درخواست دی گئی تو عدالت نے صدرِ مملکت کو حلف لینے کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی گذارش کی مگر اُسے بھی سردخانے میں ڈال دیا گیا۔ تیسری درخواست پر عدالت عالیہ نے سپیکر قومی اسمبلی کو حلف لینے کی ذمہ داری سونپی اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کا حلف ممکن ہوا وگرنہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ وزیراعلیٰ کے بغیر چل رہا تھا۔

معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا، سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ نے بعض ایسے کام کئے جو اُن کے آئینی منصب سے لگا نہیں کھاتے۔انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف کو خط لکھا جس میں پنجاب کے غیر آئینی معاملات کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔ یہ خط کس حیثیت میں لکھا گیا اور چیف آف آرمی سٹاف صوبے کے آئینی امور میں کیسے مداخلت کر سکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب گورنر سرفراز چیمہ کے پاس تھا اور نہ پی ٹی آئی کے کسی اور عہدیدار کے پاس۔ ایک طرف صدرِ مملکت کہتے ہیں وہ گورنر کو بغیر کسی وجہ کے برطرف نہیں کر سکتے دوسری طرف انہوں نے سابق گورنر چودھری محمد سرور کو بغیر کسی وجہ کے چند منٹ کے اندر برطرف کر دیا تھا۔ آئینی عہدوں کا ایک اپنا وقار اور احترام ہوتا ہے،انہیں ملک کی یکجہتی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،چہ جائیکہ وہ ایسے غیر آئینی کھیل کا حصہ بن جائیں،جو ملک میں انتشار اور بے چینی کا باعث ہو۔صدر کے اختیارات کو وفاقی حکومت کی ایڈوائس کا پابند بنایا گیا ہے اس کی آئینی منشاء سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وفاق کے سربراہ کی حیثیت سے صدر کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین میں ایسے طریقے رکھ دیئے گئے ہیں کہ جن کی وجہ سے صدر حکومتی امور میں کوئی مستقل رکاوٹ نہ ڈال سکے لیکن آئینی عہدوں اور حکومت کے ایوانوں میں جاری رسہ کشی کے دوران جو کچھ ہوا وہ ہماری آئینی تاریخ پر ایک گہرا داغ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جب کوئی شخصیت صدرِ مملکت یا گورنر کے آئینی عہدوں پر فائز ہو جاتی ہے تو اُس کی وابستگی کسی جماعت سے نہیں بلکہ مملکت اور آئین کے ساتھ ہوتی  ہے،انہیں آئین کے دیئے گئے راستے پر چلنا ہوتا ہے تاکہ مملکت کے امور میں کہیں رخنہ نہ آئے۔ توقع کی جانی چاہیے کے بعد از خرابی ئ بسیار پنجاب کے آئینی بحران میں جو بہتری آئی ہے،اُسے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ صوبے کے معاملات چل سکیں اور عوام کے دیرینہ مسائل جو حکومت کی عدم فعالیت کے باعث گھمبیر شکل اختیار کر چکے تھے انہیں حل کرنے میں مدد ملے۔

مزید :

رائے -اداریہ -