سود کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ 

سود کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ 
سود کے خاتمے کا تاریخی فیصلہ 

  

پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی حکومت کو پانچ سال کے عرصے میں ملک میں سود کے مکمل خاتمے اور سود سے پاک بینکاری نظام نافذ کرنے کا تاریخی حکم جاری کر دیا ہے۔شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اپنا متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے ملک میں رائج سودی نظام خلاف شرع قرار دیتے ہوئے حکومت کو معاشی نظام شریعت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قوانین میں فوری ترامیم کی ہدایت کی اور  بینکوں یا مالیاتی اداروں کی جانب سے ہر قسم کا سود لینا غیر شرعی قرار دیا اور کہا کہ قرض پر رقم لینا اور معاہدے میں تبدیلی بھی ربا میں شامل ہے، سی پیک میں اسلامی قوانین کے مطابق معاہدے کرناچاہئیں۔عدالت نے فیصلے میں مزید کہا کہ چین، ورلڈ بینک سمت تمام بینکوں سے شرعی قوانین کے مطابق معاہدے کیے جائیں اور ایسے تما م قوانین جن میں لفظ انٹرسٹ آتا ہے تبدیل کیے جائیں۔  وفاقی شرعی عدالت کا فیصلے میں کہنا ہے کہ سود سے پاک نظامِ بینکاری کا اطلاق ممکن ہے، اسلامک بینکنگ اور سود سے پاک بینکاری نظام دو مختلف چیزیں ہیں، ربا کا خاتمہ اسلامی نظام کی بنیاد ہے، کسی بھی طرح کی ٹرانزیکشن جس میں ربا شامل ہو وہ غلط ہے، ربا کا خاتمہ اور اس سے بچاؤ اسلام کے عین مطابق ہے۔سودی نظام کے خاتمے کے متعلق یہ درخواستیں سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمدمرحوم سمیت درجنوں درخواست گزاروں نے 19برس قبل دائر کی تھیں۔

اس سے قبل 1992ء میں وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں سودی نظام کے خاتمے کا حکم دیا تھا جسے بعد میں سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھااور پھر1999ء میں سپریم کورٹ نے بھی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تو حکومت نے نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی کہ سود سے پاک نظام قائم کرنے کے لئے مہلت دی جائے اور پھر2002ء عدالت کے فیصلے پر ہی نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی جس پر عدالت نے کے پانچ رکنی بینچ نے شرعی عدالت کا فیصلہ معطل قرار دیتے ہوئے اسے واپس شرعی کورٹ میں بھیج دیا اور دوبارہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی۔1992ء میں نوازشریف حکومت اگر شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل کر لیتی تو اتنے برس ضائع نہ ہوتے لیکن اب خوش آئند بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت جس کے سربراہ نوازشریف کے بھائی وزیراعظم شہباز شریف ہیں ان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ملک میں رائج سودی نظام کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سود سے پاک بینکاری کا نظام کامیاب نہیں ہو سکتا تو جس دوران یہ فیصلہ آیا اسی دوران پاکستان میں اخوت نامی ادارہ چلانے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کو نوبل انعام کے لئے نامز د کر دیا گیا ہے اور ان کا یہ ادارہ لوگوں کو بغیر سود کے قرضہ فراہم کرتا ہے۔

اخوات نامی یہ تنظیم سالانہ اربوں روپے بلا سود لوگوں کو قرضہ فراہم کرتی ہے اور ڈاکٹر امجد ثاقب نے حال ہی میں ایک انٹر ویو میں بتایا کہ ان کے ادارے کو قرض واپس کرنے کی شرح بھی تقریبا سو فیصد ہے، یعنی نقصان نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب ڈاکٹر امجد ثاقب ایک رفاعی ادارے سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی بلا سود قرض کے ذریعے مدد کر سکتے ہیں اور بغیر سود کے لوگوں کو قرض فراہم کر سکتے ہیں تو میرے خیال میں ہماری حکومتوں کو بھی اس کے متعلق سنجیدگی سے سوچنا چاہئے اور اب تو شرعی عدالت کا فیصلہ بھی آ چکا ہے۔ ہماری حکومتیں آئے روز اس بات کا رونا روتی ہیں کہ گردشی قرضے میں اضافہ ہو گیا ہے تو بنیادی طور پر یہ سود ہی ہے جو ہم ادا کر کر کے تھک چکے ہیں لیکن قرض ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ صورت حال یہ ہو  چکی ہے کہ پاکستانی حکومتیں کبھی آئی ایم ایف کے ترلے منتیں کرتی ہیں تو کبھی کسی بیرونی حکومت کے پاؤں پڑتی ہیں اورحالت یہ ہے کہ پاکستان کو قرضوں پر سود ادا کرنے کیلئے مزید قرض لینا پڑتا ہے اس طرح قرض در قرض کے چکر میں سود کا ایسا گھن چکر ہے جس نے پاکستان کی معیشت کی چولیں تک ہلاکر رکھ دی ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ حکومت کے لئے ایک پیغام ہے کہ وہ سود سے پاک نظام قائم کر کے سودی قرضوں سے جان چھڑا کر پاکستان کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کے بتائے ہوئے راستے پر لے کر چلے۔

کیوں کہ ہمارا قران بھی یہی کہتا ہے کہ سود اللہ اور اس کے رسول ؐ کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے۔ سورہئ البقرہ میں اللہ تعالیٰ جہاں سود لینے کی ممانعت کرتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے قرض داروں سے نرمی برتنے کا بھی کہا ہے جو اسلام کے نظام معیشت کی ایک عمدہ ترین شکل ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں، کیا حکومتیں اور کیا نجی ادارے اور کیا عام لوگ کوئی کسی کو بلا سود قرض دینے کے لئے تیار نہیں ہے گلی محلوں میں سود کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں مجبور اور لاچار لوگ اپنی قیمتی اشیا تک رکھوا کر اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے سود لینے پر مجبور ہیں۔ مائیکرو فنانس کے نام پر لوگوں کو سود کے غلیظ گڑھے میں دھکیلا جاتا ہے اور پھر جب کوئی قرض دار قسط ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتا تو غنڈے موالی بھیج کر ان کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کسی کے پاس دادرسی کے لئے بھی نہیں جا سکتے کیوں کہ حکومت تو خود سودی نظام پر اپنی معیشت چلا رہی ہے وہ سود کا کروبار کرنے والوں کو کیسے قابو کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وفاقی شرعی عدالت کے ذریعے حکومت کو ایک نادر موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بتدریج ملک سے سود کا خاتمہ بھی کرے اور سود سے پاک نظام بینکاری نظام قائم کرے تا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ جنگ کی بجائے اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے راستے پر چل کر ایک فلاحی مملکت کا قیام کا خواب یقینی بنایا جا سکے اور حقیقی معنوں میں ریاست مدینہ قائم ہو سکے۔

مزید :

رائے -کالم -