بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت

 بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت
 بڑھتا ہوا سیاسی درجہ حرارت

  

 عمران خان اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت ماحول کو گرما رہے ہیں معاملہ اب اس حد تک آ گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے اندر اُن کے خلاف ایک قرارداد منظور کر لی گئی،جس میں اداروں کے خلاف اُن کی بیان بازی کی مذمت کی گئی ہے۔عمران خان کا سیاسی فائدہ اسی میں ہے کہ وہ سیاسی حدت میں اضافہ کریں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر انتخابات کی تاریخ لی جا سکے۔انہوں نے20مئی کے بعد اسلام آباد کی طرف کال دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے اور اپنے ہر جلسے میں شرکاء سے  اس بات کا عہد لیتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچیں گے۔کل ایک ہی دن شہباز شریف،آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کے خلاف بیانات دیئے۔زرداری صاحب نے تو انہیں فتنہ قرار دیا جو اقتدار سے نکل کر پاگل ہو گیا ہے۔عمران خان آج کل جس طرح و کٹ کے چاروں طرف کھیل رہے ہیں ایسا کھیلنے والا کھلاڑی کسی وقت بھی آؤٹ ہو سکتا ہے۔انہوں نے عدلیہ کو چھوڑا ہے اور نہ فوج، سیاست دانوں سے کوئی رعایت کی ہے اور نہ جمہوری نظام سے، وہ اِس وقت صحیح معنوں میں اینگری ینگ مین بنے ہوئے ہیں اور اسی کو  وہ اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے اور اُسے ایسے مخاطب کرتے ہیں جیسے اپنے کسی پرانے لنگوٹیے کو یاد کر رہے ہوں۔اِس وقت سیاسی پارہ جس قدر ہائی ہو چکا ہے، ہر طرف خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔پرانے وقتوں میں جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی تھی تو تیسری قوت آنے کے خدشات بڑھ جاتے تھے، اب فوج نے ایسا سیاست سے کنارہ کیا ہے کہ بڑے سے بڑا واقعہ بھی یہ خدشہ نہیں ابھارتا کہ ملک میں مارشل لاء لگ جائے گا شاید اسی لئے عمران خان کھل کر کھیل رہے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اُن کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم بڑھ رہی ہے،سیاسی اختلافات کی خلیج گہری ہوتی چلی جا رہی ہے اور جلتی پر پانی نہ ڈالا گیا تو حالات قابو سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔

کپتان کے کچھ ساتھیوں نے بے تدبیری کی حد کی ہوئی ہے، وہ نجانے پیغام کیسے دے رہے ہیں تاہم اُن کا پیغام آگ لگانے والا ہے،مثلاً  یہ شیخ رشید احمد بار بار لانگ مارچ کو خونی لانگ مارچ کا نام کیوں دے رہے ہیں یہ خونی لانگ مارچ کیسے ہو سکتا ہے یہ کہہ کر کسے ڈرایا جا رہا ہے۔لانگ مارچ تو اس ملک میں پہلے بھی ہوتے رہے ہیں،خود تحریک انصاف کی حکومت میں تقریباً ہر بڑی جماعت نے لانگ مارچ کیا ہے، راستے میں کچھ بھی نہیں ہوا اور اسلام آباد جا کے سب ختم ہو گئے۔ یہ کوئی انوکھا لانگ مارچ ہونے جا رہا ہے جس میں خون کی رنگت بھی شامل ہو جائے گی۔یہ صرف ایک بے احتیاطی سے اختیار کیا گیا بیانیہ ہے۔حیرت ہے کہ عمران خان نے ابھی تک شیخ رشید احمد سے اس پر باز پرس نہیں کی۔اُدھر رانا ثناء اللہ بھی بے تدبیری کی حد کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے شیخ رشید سے کہا ہے یہ بیان واپس لو وگرنہ تمہیں گھر سے نہیں نکلنے دوں گا۔ارے بھائی یہ جوش دلانے کی کیا ضرورت ہے جب کوئی باہر نکلے گا، قانون کو اُس کا ر استہ روکنا ہو گا تو روک لے گا۔عوام اب اتنے پاگل نہیں کہ خون کی ندیاں بہانے نکل کھڑے ہوں گے، وہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور ابھی تک ہونے والے بڑے بڑے جلسوں میں انہوں نے جس ڈسپلن اور صبر وتمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔ایسے عوام کو ڈرانا کہ اسلام آباد کی طرف مارچ خونی ہو گا،ایک طرح سے پرلے درجے کی حماقت اور غیر سیاسی سوچ ہے۔اس کی بجائے کہنا یہ چاہیے کہ عوام پرامن طور پر اپنے احتجاج کے لئے اسلام آباد کی طرف نکلیں گے اور کسی ایک گملے کا بھی نقصان نہیں ہو گا۔

اس وقت ضرورت اس امرکی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے کارکنوں کی تربیت کریں،اس بات کو عام کریں کہ جمہوریت میں احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے،بشرطیکہ وہ امن و امان کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔عمران خان کہتے ہیں کہ عوام کا سمندر اسلام آباد کی طرف جائے گا تو اُس سمندر کو جانے دیا جائے،یہ پاکستانی عوام کا ہی سمندر ہے ناں، جب تک یہ لوگ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے،دوسروں کی آزادی میں مخل نہیں ہوتے اور عوام کے جان ومال کے لئے خطرہ نہیں بنتے جہاں جانا چاہتے ہیں انہیں جانے دیا جائے،تیس لاکھ لوگوں کو اسلام آباد بلانا آسان ہے،ان کے لئے دو وقت کی روٹی اور حاجاتِ ضروریہ کا بندوبست کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔پی ٹی آئی انہیں اسلام آباد بلائے گی تو اِن کی ذمہ داری بھی لے گی۔شاید انہیں آٹھ سال پہلے والا124دن کا دھرنا یاد ہے۔اس دھرنے کے لئے تمام تر حفاظتی لوازمات فراہم کئے گئے تھے،رات کو چند درجن افراد کی بھی پوری پوری حفاظت کی جاتی تھی، حالانکہ انہیں ایک پولیس ایکشن کے ذریعے اٹھایا جا سکتا تھا،لاکھوں لوگ اگر واقعی اسلام آباد میں آ گئے تو کسی اور کی نہیں خود تحریک انصاف  ذمہ دار ہو گی۔اگر انہیں اسلام آباد میں کئی دن بٹھانے کا پروگرام ہے تو پھر اس کے لیے کھانے پینے کا ایک بڑا نظام بھی ترتیب دینا پڑے گا،کیا یہ ممکن ہو گا۔

اِس وقت دونوں طرف سے اعصاب کی جنگ جاری ہے۔ عمران خان اس جنگ میں حاوی نظر آتے ہیں کیونکہ وہ جلسے پر جلسہ کر رہے ہیں۔اپنے کارکنوں کا لہو گرما رہے ہیں، حالات کو اس نہج پر لے گئے ہیں کہ وزیراعظم کو یہ کہنا پڑا ہے،عمران خان ایک بڑی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں، حالات ایسے ہیں کہ دونوں طرف اَنا کی خلیج حائل ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ جمہوری معاشروں کی طرح کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے۔سیاسی مذاکرات کی کوئی سبیل نکلے اور دونوں طرف کے مطالبات اُس میں رکھے جائیں،مگر عمران خان موجودہ حکومت کو چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کا ٹولہ قرار دیتے ہیں،وہ اِن سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر وہ انہیں کچھ نہیں سمجھتے تو پھر یہ مطالبہ کس سے کر رہے ہیں کہ نئے انتخابات کرائے جائیں۔ دوسری طرف وہ عدلیہ،الیکشن کمیشن اور خود فوج کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے۔آخر کسی نکتے پر تو ٹھہرنا پڑے گا۔کہیں تو اپنے خیالات کو بریک لگانی پڑے گی۔بالفرض عمران خان لاکھوں لوگ لے کر اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں،کیا یہ لاکھوں افراد وہاں بیٹھ کر فیصلے کریں گے، فیصلے تو کسی آئینی ادارے سے ہی ہوں گے پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ سارے معاملات اُسی طرح طے ہوں گے جس طرح عمران خان چاہتے ہیں۔ ملک میں انتشار بڑھے گا تو بجلیاں سب پرگریں گی، کپتان اِس وقت اپنی لہر میں ہیں اور کسی کی سننے کو تیار نہیں۔یہ ایسی صورت حال ہے جو حالات کو کسی خطرناک انجام سے دو چار کر سکتی ہے اب بھی وقت ہے کہ سیاسی قوتیں ہوشمندی کا مظاہرہ کریں۔ معاملات کو عوام کے ہاتھوں میں نہ دیں بلکہ اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ خان صاحب اِس وقت اپنی مقبولیت کے زعم میں مبتلا ہیں مگر انہیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ ایسی مقبولیت کسی ایک غلط فیصلے کے بعد قصہ ئ پارینہ بھی بن جاتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -