قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر کا تقررنہ ہونے پر جی ڈی اے کا واک آؤٹ 

قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر کا تقررنہ ہونے پر جی ڈی اے کا واک آؤٹ 

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی اجلاس کے دوران گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے اپوزیشن لیڈر کے تقرر نہ ہونے پر ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ آپ کو اپوزیشن کو زیادہ سے زیادہ سننا پڑے گا، اپوزیشن کو نہیں سنیں گے تو پھر آپ کے اندر سے اپوزیشن جو نکلے گی وہ برداشت نہیں کرسکیں گے، حکومت جیسے تیسے بھی بن گئی وزارتوں کی بندر بانٹ بھی کرلی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جس کا ایک ماہ بعد بھی اپوزیشن لیڈر نہیں ہے۔فہمیدہ مرزا کے خطاب کے بعد جی ڈی اے رہنماؤں نے اپوزیشن لیڈر بننے تک ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ جلد ہوجائے گا، جو بھی زیادہ ارکان کی حمایت لے گا اسے اپوزیشن لیڈر بنایا جائے گا۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان نے دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں سے ووٹ کا حق واپس لینے کا بل پیش کر دیا،ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے بل مزید غورخوض کیلئے انتخابی اصلاحات کمیٹی کو بھجوا دیا۔ جی ڈی اے کے غوث بخش مہر نے بل کی مخالفت جبکہ تمام حکومتی اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے بل کی حمایت کی۔نور عالم خان نے کہا کہ ایسے پاکستانی جنہوں نے امریکہ،برطانیہ،جرمنی،کینیڈاو دیگریورپی ممالک کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہوا ہے اور وہ دہری شہریت  رکھتے ہیں ان سے ووٹ کا حق واپس لیا جائے،ایسے افراد کو کسی پارٹی سربراہ کو چندہ دینے کے لئے ووٹ کا حق دیا گیا تھا،سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر  ممالک جہاں پاکستانی ورکرز کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ان ممالک کی شہریت حاصل نہیں کی انہیں ووٹ کا حق ضرور دینا چاہیے۔معذور افراد کیلئے مخصوص نشستیں  مقرر کرنے اورتحفظ ماحولیات پاکستان (ترمیمی) بل2022 بھی پیش کر دئیے گئے۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر اکرم خان درانی کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان نے انتخابات ایکٹ 2018 میں مزید ترمیم کرنے کا بل (انتخابات ترمیمی بل 2022) پیش کیا بل سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے  نور عالم خان نے کہا کہ ایسے پاکستانی جنہوں نے دوسرے ممالک کے  تحفظ کا حلف اٹھایا ہوا ہے ان کو پاکستان سے محبت ضرور ہو گی مگر جب وہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے نیشنل بن گئے ہیں۔ ان کو پاکستان میں ووٹ کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے افراد کو کسی پارٹی سربراہ کو چندہ دینے کے لئے ووٹ کا حق دیا گیا تھا۔ جرمنی، امریکہ اور تاج برطانیہ کا پاسپورٹ رکھنے والوں کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کرتا ہوں جب کہ سعودی عرب، یو اے ای اور دیگر ایسے ممالک جہاں پاکستانی ورکرز کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ان ممالک کی شہریت حاصل نہیں کی انہیں ووٹ کا حق ضرور دینا چاہیے۔ نور عالم خان نے کہا کہ دوہری شہریت والوں کو ووٹ کا حق اس لئے دیا گیا کیونکہ وہ کسی پارٹی اور یا پارٹی سربراہ کو چندہ دیں گے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل سے متعلق کہا کہ اوور سیز پاکستانیز ہمیں عزیز ہیں مگر بل میں جو بات کی گئی ہے اس پر بحث کی ضرورت ہے۔ ان کی یہ بات درست ہے کہ جو لوگ پارلمینٹ کا رکن منتخب نہیں ہو سکتے وہ پارلیمنٹ کے بنانے میں اپنا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل کسی قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کے بجائے انتخابی اصلاحات کیلئے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوایا جائے جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہے۔ وہاں اس بل پر تفصیلی بات ہو جائے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے بل پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی۔اس موقع پر ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے مسلم لیگ ن کے محسن شاہ نواز رانجھا کو نقطہ اعتراض پربات کرنے کے لئے مائیک دیا تو جی ڈی اے کے غوث بخش مہر نے کورم کی نشاندہی کر دی اور کہا کہ ایوان میں اتنی اہم قانون سازی کی جا رہی ہے مگر کورم پورا نہیں۔ ڈپٹی سپیکر نے کورم کی نشاندہی پر گنتی کا حکم دیا کورم پورا نہ ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج بدھ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کی رکن اسمبلی کشور زہرا نے پارلیمنٹ میں معذور افراد کے لئے نشستیں مختص کرنے سے متعلق بل ”دستور(ترمیمی)بل2022“(آرٹیکل51اور59میں ترمیم)پیش کیا۔بل کے تحت چاروں صوبوں سے ایک،ایک معذور افراد کی مخصوص نشست مقرر کی جائے۔ اسپیکر نے بل  متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا، پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شاہدہ رحمانی نے”تحفظ ماحولیات پاکستان (ترمیمی) بل2022 پیش کیا، شیری رحمان نے بل کی حمایت کی، رائے شماری کے بعد بل کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -