عید پر پاکستانی فلموں کیلئے سینماسکرینز مختص نہ کرنے پر فلم ساز، شوبز شخصیات پھٹ پڑیں 

عید پر پاکستانی فلموں کیلئے سینماسکرینز مختص نہ کرنے پر فلم ساز، شوبز ...

  

  

لاہور(فلم رپورٹر)ہالی ووڈ فلم ’ڈاکٹر سٹرینج: اینڈ دی ملٹی ورس آف میڈنیس‘ کو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت سمیت دنیا بھر میں شوق سے دیکھا جا رہا ہے اور فلم نے محض تین دن میں 18 کروڑ ڈالر سے زائد یعنی پاکستانی 25 ارب روپے کے قریب کی کمائی کی ہے۔فلم سازوں کے بعد اب متعدد شوبز شخصیات نے بھی سنیما مالکان کے رویئے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نصف سکرینز پاکستانی فلموں کیلئے مختص کریں۔اداکار اور عید پر ریلیز ہونے والی فلم ”دم مستم‘‘کے پروڈیوسر عدنان صدیقی نے بھی سنیماؤں میں پاکستانی فلموں کو کم دکھانے پر شکوہ کیا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’ڈاکٹر سٹرینج“کی ریلیز مزید کچھ دن تک روکی جا سکتی تھی، کیوں کہ ملک میں دو سال کے بعد سنیماکھلے تھے مگر مذکورہ فلم کی وجہ سے مقامی فلموں کو دکھانے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔عدنان صدیقی کی پروڈیوس کردہ فلم ”دم مستم“کی اداکارہ و لکھاری امر خان نے بھی اپنی ویڈیو میں سنیمامالکان کے رویئے کی شکایت کی اور کہا کہ ملک میں شائقین تو بھارتی فلمیں بھی دیکھنا چاہتے ہیں مگر حب الوطنی کے جذبے کے تحت ان پر تو پابندی لگادی گئی ہے مگر ہالی ووڈ فلموں کو ملکی فلموں کی خاطر کچھ تک روکا نہیں جا رہا۔عید پر ریلیز ہونے والی فلم ’پردے میں رہنے دو‘ کے پروڈیوسر رؤف وجاہت نے اپنی فلم کے ہیرو علی رحمن کی مختصر ویڈیو بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر شیئر کی،جس میں انہوں نے سنیما مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی فلموں کو زیادہ دکھائیں۔پاکستانی فلم پروڈیوسرز سے کے بعد متعدد پاکستانی شوبز شخصیات نے بھی سنیما مالکان کی جانب سے عید الفطر کے موقع پر مقامی فلموں کے بجائے غیر ملکی ہالی ووڈ فلم کو زیادہ اہمیت اور سکرینز دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی فلموں کو زیادہ دکھایا جائے۔دو دن قبل پاکستانی فلم سازوں نے پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ سینما مالکان نے عید الفطر کے موقع پر ریلیز ہونے والی فلموں ”چکر، گھبرانا نہیں ہے“،”دم مستم“،”پردے میں رہنے دو“اور ”تیرے باجرے دی راکھی“کے بجائے ہالی ووڈ فلم ”ڈاکٹر سٹرینج اینڈ دی ملٹی ورس آف میڈنیس‘‘کو سکرینز پر دکھانے کا سلسلہ شروع کردیا، جس کے باعث مقامی فلموں کی کمائی محدود ہوگئی۔

پاکستانی فلمیں 

مزید :

صفحہ آخر -