پاکستانی فوجی آفیسرز امریکہ کیوں بھیجے جاتے ہیں (2)

 پاکستانی فوجی آفیسرز امریکہ کیوں بھیجے جاتے ہیں (2)
 پاکستانی فوجی آفیسرز امریکہ کیوں بھیجے جاتے ہیں (2)

  

 ششم یہ کہنا یا سمجھنا درست نہیں کہ پاکستانی فوجی افسروں کو صرف امریکہ ہی (کورسوں پر) بھیجا جاتا ہے۔ اُن کو امریکہ کے علاوہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، ترکی، انڈونیشیا اور چین وغیرہ بھی بھیجا جاتا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کی افواجِ ثلاثہ کسی نہ کسی فیلڈ میں امتیاز رکھتی ہیں اور پاکستان ہی نہیں بلکہ انڈیا بھی اپنے فوجیوں کو ان کورسوں پر بھیجتا ہے۔1990ء تک کہ جب دونوں سپرپاورز (امریکہ اور سوویٹ یونین) کے درمیان سرد جنگ کا زمانہ تھا انڈیا کے بیشتر بھاری ہتھیار رشین میڈ تھے اس لئے انڈیا اپنے فوجیوں کو روس بھیجتا رہا۔ وہ تو جب 1991ء میں سوویت یونین تحلیل ہو گیا تو انڈیا کو امریکہ اور مغربی یورپی ممالک کا رخ کرنا پڑا۔ لیکن انڈین افواجِ ثلاثہ کے جو بھاری اسلحہ جات سوویٹ یونین سے حاصل کئے گئے تھے(اور ان کا اسلحہ و بارود بھی) ہر سال یا تو سوویت یونین سے خریدا جاتا تھا یا انڈیا اپنے ہاں پروڈیوس کرتا تھا۔ اب بھی یہ صورتِ حال زیادہ نہیں بدلی۔

اس سلسلے میں ایک اور بات بھی زیرِ نظر رکھنی چاہیے کہ پاکستان ہو یا انڈیا، جن فوجیوں کو فارن کورسز پر بھیجا جاتا ہے ان کی زبان ان کو پہلے سکھلائی اور پڑھائی جاتی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی افواج کی زبان چونکہ انگریزی ہے اس لئے جن پاکستانی آفیسرز کو برطانیہ بھیجا جاتا ہے تو وہاں کے تدریسی اداروں کی نصابی SOP بھی امریکہ سے مختلف نہیں ہوتی۔ برطانوی اداروں میں بھیجے گئے افسروں کی ”کورس رپورٹ“ بھی انہی خطوط پر مرتب اور تیار کی جاتی ہے جو امریکی اداروں میں مروج ہے۔

باقی یورپی یا ایشیائی ممالک کی عسکری زبان ان کی قومی زبان سے مختلف نہیں ہوتی۔ اس لئے پاکستان جن افسروں کو فرانس، جرمنی، انڈونیشیا یا چین بھیجتا ہے، ان کو پہلے ان ممالک کا لسانی کورس (Language Course) کروایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جن ممالک میں پاکستان کے دفاعی اتاشی بھیجے جاتے ہیں انہوں نے بھی ممالکِ مذکور کے لسانی کورس کر رکھے ہوتے ہیں۔ جب سے چین نے پاکستان کی دفاعی مدد میں دستِ تعاون دراز کیا ہے، پاکستانیوں کے لئے چینی زبان کی تحصیل ایک پروفیشنل ضرورت بن گئی ہے۔ دوسرے ممالک کی طرح چین کی افواج اور اس کے دوسرے سول شعبوں میں ان کی قومی زبان کے علاوہ (ایک حد تک) انگریزی زبان سے شناسائی بھی شرطِ اول ہے۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے اور چین سے ہمارے دفاعی اور دوسرے سول شعبوں کے تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے،دونوں ممالک ایک دوسرے کی زبان سے خاطر خواہ آگہی حاصل کر رہے ہیں۔

ہفتم اور آخری وجہ یہ ہے کہ سینئر آفیسرز کے کورسز کا دورانیہ 6ماہ سے لے کر ایک سال تک کا ہوتا ہے۔ ان کورسوں پر تعینات کئے گئے (Detailed)آفیسرز کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال بھی ہمراہ لے جا سکتے ہیں۔ ان کی رہائش اور خورد و نوش وغیرہ کا بندوبست بھی وہاں کیا ہوتا ہے۔پاکستانی افسروں میں سے بہت سے آفیسرز اپنے اُن بیوی بچوں کو امریکہ ’دکھانے‘ کا شوق رکھتے ہیں جنہوں نے پہلے امریکہ نہیں دیکھا ہوتا۔ ان آفیسرز میں بہت سے افسروں کی بیویوں نے  پہلے بھی امریکہ یاترا کی ہوتی ہے۔ ان کے والد بھی پاک فوج میں سینئر عہدوں سے ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور اپنی سروس کے دوران انہوں نے بھی اپنے بچے اپنے ہمراہ رکھے ہوتے ہیں۔

آپ بخوبی تصور کر سکتے ہیں کہ اگر کسی سینئر آفیسر کو یہ آپشن میسر ہو کہ وہ دورانِ کورس اپنے اہل و عیال بھی ساتھ رکھ سکتا ہے تو اس سے فائدہ نہ اٹھانا بہت خال خال حالات میں ہو سکتا ہے۔ جب یہ خاندان امریکہ جاتا ہے تو سوشل انٹرایکشن نہ صرف یہ کہ ایک پروفیشنل ضرورت ہوتی ہے بلکہ بچوں کو ایک نئی دنیا دکھانے کا سنہری موقع بھی ہاتھ آجاتا ہے۔ بعض بچے اور بچیاں مقامی سکولوں / کالجوں میں داخل کرا دی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان افسروں کے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں داخل کرانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان پاکستانی تدریسی اداروں کا نصاب بھی امریکی تدریسی اداروں سے ملتا جلتا ہے۔ ان بچوں کو جو ماحول امریکی سکولوں / کالجوں میں دیکھنے کو ملتا ہے وہ اسلامی روایات سے اگر یکسر متصادم نہیں ہوتا تو مختلف ضرور ہوتا ہے۔

پھر کورس کے دوران جو تعطیلاتی وقفے ہوتے ہیں ان میں ان بیوی بچوں کو امریکہ کی سیر کروائی جاتی ہے۔ امریکہ بلاشبہ ہر لحاظ سے ایک نئی دنیا ہے۔ یہاں سینکڑوں مقامات قابلِ دید ہیں۔ سیر گاہوں اور سواحلِ سمندر (Beaches) کا تو کچھ شمار ہی نہیں لیکن امریکہ کا ایک اپنا کلچر اور ثقافتی اقدار ہیں۔ ہمارے پاکستانی آفیسرز کے بچے جب ان امریکی روایات و اقدار کو دیکھتے اور ان کا موازنہ اپنے کلچر کی اقدار سے کرتے ہیں تو حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ حیران کرنے والے یہ مقامات اور ان میں زیادہ حیران کرنے والے مناظر ہمارے پاکستان کے مناظر سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں جواں سال نسل کے لئے ان مناظر میں جو کشش اور جاذبیت پائی جاتی ہے، اس سے صرفِ نظر کرنا از بس محال ہوتا ہے۔

ہمارے پاکستانی سینئر افسروں کے بچوں کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں بے روزگاری کا کوئی تصور نہیں۔ وہاں مزدوری / اجرت کا حساب کتاب گھنٹوں میں کیا جاتا ہے یعنی 8 ڈالر فی گھنٹہ اور 10ڈالر فی گھنٹہ وغیرہ تو پاکستان میں مروج ماہانہ مشاہروں / تنخواہوں کا رواج ان بچوں / بچیوں کے دل میں کھٹکنے لگتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ جب یہ بچے واپس پاکستان آتے ہیں تو ان کو امریکہ کی یادیں رہ رہ کر ستانے لگتی ہیں۔ وہاں کی سوشل اور بے لگام آزادیاں، صحت اور تعلیم وغیرہ کی سہولتیں، گھر بار خریدنے کی آسانیاں، بے روزگاری کا فقدان اور دوسرے کئی ناقابلِ بیان سوشل فائدے ان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

لہٰذا ان بچوں کی تعلیم جب پاکستان میں مکمل ہو جاتی ہے تو ان کے والد ان کو امریکہ بھیجنے میں کوئی عار خیال نہیں کرتے۔ پاکستان کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ سینئر آفیسرز کا انٹرویو کرکے اگر ان سے یہ پوچھا جائے کہ ان کی اولادیں کہاں ہیں اور کیا کر رہی ہیں تو ان کی اکثریت کا جواب یہ ہوگا کہ ان کے بچے اور بچیاں امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور دوسرے کئی یورپی ممالک میں ہیں اور انہوں نے وہاں کا طرزِ زندگی اپنا لیا ہے۔ دیکھا جائے تو اس سوشل کنٹریکٹ میں کوئی برائی بھی نہیں۔ لیکن جب آپ اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کو ان ملکوں میں بھیجتے ہیں اور وہ وہاں جا کر پاکستانی لڑکیوں / لڑکوں سے شادی کر لیتی ہیں تو ان کا رشتہ پاک سرزمین سے برائے نام رہ جاتا ہے۔ ایک دو سال بعد وہ پاکستان کا چکر لگاتے ضرور ہیں لیکن یہ ناسٹلجیا بھی صرف ایک نسل تک ہی برقرار رہتا ہے۔ آپ کی اولاد کی دوسری یا تیسری نسل پاکستان کی دھرتی سے ناتہ توڑ کر دیارِ غیر کی خاک سے جنم لیتی اور وہیں دفن ہو جاتی ہے!

میں نے اس موضوع پر کئی سینئر فوجی افسروں سے بات بلکہ بحث و مباحثہ کیا ہے۔ ان کا استدلال ہوتا ہے کہ ہم اگر پاکستان کو امریکہ یا یورپ نہیں بنا سکے تو یہ ہماری نااہلی اور دوں ہمتی ہے۔ امریکی اور یورپین اقوام کے افراد ہمارے پاکستان میں آکر کیوں بس نہیں جاتے؟……وہ اگر آتے بھی ہیں تو پاکستان میں بسنے کے لئے نہیں، یہاں حکومت کرنے کے لئے آتے ہیں …… ایک انگریزی مقولہ بہت مشہور ہے:

ایک انگریز…… مفکر

دو انگریز…… کلب

تین انگریز…… سلطنتِ برطانیہ (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -