نیب کیسز کی تحقیقات کو صرف میرٹ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے: جسٹس (ر) جاوید اقبال 

نیب کیسز کی تحقیقات کو صرف میرٹ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے: جسٹس (ر) جاوید ...

  

لاہور(نامہ نگار) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کیسز کی تحقیقات کو کسی بھی دباؤ یا اثر سے مبرا ہو کر صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے،نیب ایک قومی ادارہ ہے جسکی وابستگی پاکستان اور پاکستان کے عوام اور انکے مفادات ہیں،نیب کا کام بدعنوانی کیخلاف ہر حالات میں متحرک رہنا ہے اور نیب اپنے لائحہ عمل پر عملی طور پر عمل پیرا ہے۔ ان خیالات کااظہارچیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور آفس کے دورہ  کے دوران کیا۔چیئرمین نیب کو نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل نے کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیموں کے ہمراہ میگا کرپشن مقدمات پر جامع بریفنگ دی۔چیئر مین نیب ایک روز بعد متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے برآمد کئے گئے  1 ارب سے زائد مالیت کے چیک دورانِ تقریب متاثرین کے حوالے کرینگے۔بریفنگ کے دوران نیب آفیسران سے مخاطب ہوتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیب کیسز کی تحقیقات کو کسی بھی دبا یا اثر سے مبرا ہو کر صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے جسکی  وابستگی پاکستان اور پاکستان کے عوام اور انکے مفادات ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ نیب کا کام بدعنوانی کیخلاف ہر حالات میں متحرک رہنا ہے اور نیب اپنے لائحہ عمل پر عملی طور پر عمل پیرا ہے۔ نیب ریفرنسز کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ  5 سالوں کے دوران نیب نے 1405 ملزمان کو معزز عدالتوں سے سزائیں دلوائی ہیں جو نیب کے آپریشنل و پراسیکیوشن ونگ کی کامیابی کا عملی مظاہرہ ہے۔ ڈی جی نیب لاہور کی سربراہی میں نیب لاہور بیورو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ سالوں کے دوران نیب لاہور کے اقدامات و ریکوریوں نے نیب کی مجموعی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب انسداد بدعنوانی کا  اعلی ترین قومی ادارہ ہے جسکے تمام اقدامات ہمیشہ آئین و قانون کے تابع رہتے ہوئے سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ نیب کی کارکردگی کو متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نہ صرف سراہا ہے بلکہ نیب کو اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

چیئرمین نیب

مزید :

صفحہ آخر -