غلطیوں پر سوال نہ کرنا غلامی کی نشانی

غلطیوں پر سوال نہ کرنا غلامی کی نشانی
غلطیوں پر سوال نہ کرنا غلامی کی نشانی

  

آزادی کی تعریف یا معنی ہر شخص کے نزدیک مختلف ہو سکتے ہیں لیکن عام فہم تعریف یہی ہے کہ آزادی کا مطلب ہے کہ انسان اپنی اقدار، معیار، عقل و فہم اور مرضی کے مطابق کام کر سکے۔ پراپیگنڈہ ماسٹرز انہی ایریاز میں کام کرتے ہیں اور عمومی طور پر کسی معاشرے میں رائج اقدار کو اپنی مطلوبہ اقدار سے بدل دیتے ہیں۔ میری عمر کے لوگوں کو یاد ہو گا کہ بھارتی اور انگریزی فلمیں بچپن میں ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن آج ہم خود ہی اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر وہ فلمیں دیکھتے ہیں کیونکہ وہ تمام عناصر جو کبھی معیوب تھے اب معمول کی بات ہو چکے ہیں، کچھ والدین کا اولاد پالنے کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ ننانوے فیصد افراد کو تو یہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اور کیسے یہ اقدار بدل گئیں۔ اس میں تو کوئی شک شبہ نہیں کہ یہ سب میڈیا اور انٹرنیٹ کی یلغار کا ہی نتیجہ ہے، اب تو تمام بیڈ روم تک رسائی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، کوئی چاہتے ہوئے بھی اس یلغار سے بچ نہیں سکتا۔ بلکہ ہمارے ہاں تو ہر قسم کے معاملات سوشل میڈیا پر حل کئے جا رہے ہیں، جنگیں بھی وہیں لڑی جا رہی ہیں اور پیار محبت کا اظہار بھی انہی پلیٹ فارمز پر ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ٹوئٹر صارفین آج کل بے چینی سے سابق وزیر اعظم کی ان ویڈیوز کا انتظار کر رہے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو یقین ہے کہ وہ اخلاقیات سے عاری ہوں گی۔ان متوقع ویڈیوز کے بارے بحث صرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں بلکہ گھر گھر میں جاری ہے، کوئی حق میں ہے یا خلاف بس سراپا انتظار ہے۔

اقدار کا بدلنا تو طے ہے، ازل سے بدل رہی ہیں اور ابد تک بدلتی رہیں گی اور ایک طرح سے یہ وقت کا تقاضا بھی ہے، اس تبدیلی کے اچھا یا برا ہونیکی بحث کو ایک طرف رکھ کر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے اس قدر تیز تبدیلی جنریشنز کے درمیان رائج فاصلے کو تیزی سے ختم کر دیتی ہے جس کی وجہ سے بیش بہا مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور  یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اور خصوصاً سوشل میڈیا پر انتشار انتہائی نمایاں ہے، کوئی دوسری کی رائے کو اہمیت دینے کو تیار نہیں، کوئی کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔ اقدار کی یہ تبدیلی نئے ”معیار“ کو جنم دے رہی ہے اور پھر ہر کسی کا ”معیار“ اور اس کو پرکھنے کا آلہ بھی مختلف ہوتا جا رہا ہے۔ 

اب پاکستان میں جاری آئینی بحث کو ہی دیکھ لیں، کسی کے نزدیک سابق سپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے آئین شکنی کی تو کسی کے نزدیک وہ ہیرو ہیں، کوئی آئین کو توڑنے کے درپے ہیں تو کسی نے آئین کی بالا دستی کا جھنڈا تھام رکھا ہے، کوئی اسے ایک کاغذ کا ٹکڑا سمجھ رہا ہے تو کسی کے نزدیک یہ انتہائی مقدم ہے۔ بحث چاہے جو بھی ہو ایک بات تو طے ہے کہ معاشرے میں رائج متفقہ نظام اور معیار کو چیلنج کرنے سے انتشار تو پیدا ہو سکتا ہے لیکن بہتری کسی طور نہیں آ سکتی۔ عدالت کے فیصلوں سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے فیصلوں کی نفی کر کے ایک نیا بیانیہ پروان چڑھانے اور اپنے خوابوں کی اپنی مرضی کی تکمیل کی خواہش کیسے کی جاسکتی ہے؟حقیقت کے برعکس غیر حقیقی بیانیے بنا کر عوام کو دھوکہ دینے کے لئے زیادہ تر چیک اینڈ بیلنس سے ماورا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کے مجموعی صارفین کی تعداد پاکستان کی کل آبادی کا32فیصد ہے لیکن عموماً ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی رائے کو حتمی تصور کیا جائے۔ یہ بات البتہ تسلیم کرنی پڑے گی کہ سوشل ہی سہی لیکن عوام تک براہ راست رسائی کے باعث اس پر جاری بحث کے اثرات گھروں تک بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ سب لوگ اس سے اتفاق بھی کرتے ہوں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی، سچی ترجیحات نوجوان نسل کے کچے زہنوں کو بہت جلد متاثر کرتی ہیں، اسی لئے پراپیگنڈہ ماسٹرز کے لئے سب سے اہم ہتھیار سوشل میڈیا ہی ہے جہاں وہ با آسانی کچے ذہن پر حملہ آور ہو کر ذہن سازی کرتے ہیں۔ قوم کے مستقبل کو ٹارگٹ کرنے کا سب سے اہم مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ فوری طور پر نہ بھی سہی لیکن آنے والے وقت میں مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اور پراپیگنڈہ کے نتائج بھی بہت حد تک”پراپیگنڈہ  ماسٹرز“ کے حق میں ہی آتے ہیں۔ امریکی انسٹی آف پیس نے 2011ء میں اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ نوجوانوں نے ”عرب سپرنگز“ کے دوران مرکزی کردار ادا کیا۔ مصنفہ لکھتی ہیں کہ نوجوان ہمیشہ کم ملازمتیں اور کمزور گورننس جیسے معاملات کو لے کر آسانی سے حکومت مخالف تحریکوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مڈل ایسٹ نے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تبدیلی کے لئے تشدد پسند تحریکوں کا حصہ بننے کے بجائے غیر تشدد پسند جدوجہد کے خواہشمند تھے۔ مصنفہ لکھتی ہیں کہ یہ نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ ملکر بڑی تعداد میں دوسرے نوجوانوں کو تبدیلی پر آمادہ کرتے ہیں۔مصر اور تیونس نے نوجوانوں کی راہ میں صرف ایک رکاوٹ تھی اور وہ تھی متبادل سیاسی نظام دنیا جو ان کی ناتجربہ کاری اور پہلے سے موجود سیاسی نظام میں ان کا عمل دخل نہ ہونے کے باعث ممکن نہیں تھا۔ عرب سپرنگز میں نوجوانوں کے کردار کو سامنے رکھ کر یہ نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ نوجوان نسل یہ طاقت رکھتی ہے کہ وہ تبدیلی کے لئے حالات پیدا کر دے جسے بعد میں سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر لیں۔

ترقی پذیر ممالک خصوصاً مسلم ممالک میں بھی نوجوان نسل کو معاشرتی آزادی دیکر معاشی مسائل کے حل کے نعرے کے ساتھ سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے لئے با آسانی استعمال کر سکتی ہیں۔ کسی اور کے مقصد کے لئے جانے، انجانے بطور ہتھیار استعمال ہونا دراصل آزادی نہیں بلکہ غلامی ہے۔ حقیقی آزادی سوچ سمجھ کر بلکہ پرکھ کر کسی کے حق میں یا مخالف ہونے کا نام ہے۔ غلطیوں اور کوتاہیوں پر سوال نہ کرنا غلامی کی نشانی تو ہو سکتا ہے، آزادی کی نہیں۔ زندہ قومیں خصوصاً نوجوان نسل اقتدار کے مزے لوٹنے کا حساب سوال اٹھا کر کرتی ہیں کیونکہ حکمرانوں سے سوال کرنا قومی ذمہ داری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -