کمسن بچی کا اغوا،قتل،کیس کی سماعت 17مئی تک ملتوی کرنیکا حکم

کمسن بچی کا اغوا،قتل،کیس کی سماعت 17مئی تک ملتوی کرنیکا حکم

  

ملتان(خصوصی رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ نے کمسن بچی عروج فاطمہ کو اغوا اور بداخلاقی کے بعد قتل کرنے کے مقدمہ (بقیہ نمبر3صفحہ6پر)

میں گرفتار مرکزی ملزم حارث کی درخواست ضمانت پر سماعت وکلا دلائل کے لیے 17 مئی تک ملتوی کرنے کا حکم دیا ہے۔پوسٹمارٹم میں بچی کے ساتھ بداخلاقی اور غیر فطری عمل کی بھی تصدیق ہوچکی  ہے۔ جبکہ پولیس نے اپنی تفتیش میں تمام ملزمان کو گناہ گار قرار دیتے ہوئے عدالت میں مقدمہ کا مکمل چالان بھی جمع کرادیا ہے پولیس نے اس مقدمہ میں ایک دفعہ 120 بی ت پ کا بھی ایزاد کیا ہے جس میں ملزمان کی جرم کی سازش رچانے کی نشاہدہی کی گئی ہے۔ مدعیوں کی جانب سے خاتون کونسل ثمرہ بلوچ کیس کی پیروی کررہی ہیں۔ دوسری جانب ملزمان دانیال خلجی، حسن، حسین، عائشہ اور حمنا ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کرچکے ہیں۔ یاد رہے کہ پولیس تھانہ شاہ شمس نے اس مقدمہ میں مہر النسا اور حارث کو مرکزی کرداروں میں شامل کیا جو ماں اور بیٹا ہیں اسی طرح معاونت کرنے میں ملزمہ مہر النسا کے دیگر دو بیٹوں حسین اور حسن، داماد دانیال خلجی، بیٹی عائشہ اور بہو ہمنہ کو نامزد کیا تھا۔ ملزمان کے  خلاف درج مقدمہ نمبر 767/21 میں الزام ہے کہ انہیں نوکرانی کی ضرورت تھی جنہوں نے بچی عروج فاطمہ کو اغوا کیا، اغوا کا مقدمہ درج ہونے پر ملزمان نے بچی کو نشہ آور ادویات کھلائیں اور گلہ دبا کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ بچی سے بداخلاقی اور قتل کر کے نعش تھانہ سیتل ماڑی کے علاقہ میں موجود کھیتوں میں پھینک دی گئی تھی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -