انڈسٹریل ریلیشن کمیشنملتان بینچ  ایک ہزار سے زائد درخواستوں پر فیصلے 

 انڈسٹریل ریلیشن کمیشنملتان بینچ  ایک ہزار سے زائد درخواستوں پر فیصلے 

  

ملتان(خصوصی رپورٹر)صنعت کاروں اور مزدوروں کی طرف سے غیر منصفانہ مشقیں،یونینز کی رجسٹریشن، فیڈریشن اور اجتماعی سودے بازی کرنے والے ایجنٹوں کے عزم سے متعلق معاملات،صنعتی امن کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے تجارتی اداروں میں اعلی(بقیہ نمبر19صفحہ6پر)

 پیداور کے لئے ضروری نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن ملتان بینچ نے مختلف سرکاری و غیر سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے نوکری پیشہ ملازمین اور صنعتکاروں کے  لئے بڑے بڑے فیصلے کیے۔ اس ضمن میں نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن ملتان بینچ نے رواں سال ایک ہزار 460 مختلف درخواستوں پر فیصلے کیے۔ ان درخواستوں میں وفاقی محکموں، بین الصوبائی ادارے، پرائیویٹ اور ملٹی نیشنل کمپنیز کے ملازمین نے اپنے اپنے اداروں اور افسران کی انتقامی کارروائیوں جبکہ صنعت کاروں نے ملازمین کے خلاف درخواستیں دائر کی تھیں جن میں موقف اختیار کیا گیا کیا کہ انہیں بلا نوٹس اور جبری طور پر نوکری سے فارغ کردیا گیا انہیں خدشہ ہے کہ ان کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، دوسرے اسٹیشن پر منتقل کر دیا جائے گا، یونین سے وابستگی کی وجہ سے نکالے جانے کا امکان بھی ہے۔ کام میں غفلت برتنے اور اسی طرح کی دیگر نوعیت کی درخواستیں بھی این آئی آر سی میں دائر ہوئی۔ جن کی تعداد 1814 تھی تاہم ممبر این آئی آر سی ملتان بنچ نے ان درخواستوں میں سے ایک ہزار 460 کا فیصلہ کیا جبکہ تقریبآ نو سو درخواستیں ابھی بھی زیر سماعت ہیں ان کے التوا کا شکار ہونے کی بڑی وجہ محکموں کا دیر سے جواب دینا،وکلا کی عدم حاضری سمیت دیگر روایتی حرب شامل ہیں۔ تاہم وکلا کا کہنا ہے کہ یہ بنچ اہم اور بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں سرکاری و غیر سرکاری ملازمین اور صنعتکار اپنے حقوق کی جنگ بہتر طریقے سے لڑ سکتے ہیں ملازمین کو تمام واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ بحال کرانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے اداروں کی من مانیوں اور اجارہ داری کی وجہ سے ہزاروں ملازمین این آئی آر سی سے رجوع نہیں کرتے تاکہ وہ اعلی عہدیداروں کی انتقامی کارروائیوں سے بچ سکیں لیکن اس سب کے باوجود انہیں جبری طور پر عہدوں سے ہٹانے اور ٹرانسفر کرنا معمول بن چکا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -