مسائل سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات ضروری،اطہر محبوب

مسائل سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات ضروری،اطہر محبوب

  

بہاولپور(بیورورپورٹ،ڈسٹرکٹ بیورو) اسلامیہ یو نیورسٹی بہاولپور موسمیاتی تبدیلیوں، ماحول کے تحفظ اور بقاء کے لیے قومی اور عالمی اداروں سے مل کر مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ ان منصوبوں میں قومی اور عالمی جامعات پر مشتمل انٹر یونیورسٹی کنسورشیم بھی شامل ہے جس کا مقصد ملکی اور غیر ملکی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ماحول کو درپیش چیلنجز کا سامنا (بقیہ نمبر8صفحہ6پر)

کرنے اور ان کے حل کے لیے ٹھوس تجاویز اور عملی اقدامات کرنا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے ان خیالات کا اظہار لاہور میں سابق چیئرمین ٹاسک فورس وزارت جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی گیری حکومت پاکستان بدر منیر کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے کہا کہ کنسورشیم برائے تبدیل ماحول، ماحولیات اور تحفظ ماحول کی سرگرمیوں کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ تشکیل دی جائے اور اسے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی ویب سائٹ سے منسلک کر دیا جائے تاکہ اکیڈمیا، طلباء وطالبات اور عام لوگ ماحولیات کو درپیش خطرات سے آگاہ ہو سکیں۔ پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پاشاوائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور بھی اجلاس میں شریک تھے اور انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے ماحولیات کے حوالے سے کنسورشیم کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ کنسورشیم کا آئندہ اجلاس یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں منعقد کیا جائے تاکہ صوبائی سطح کے ماہرین اس اجلاس میں شریک ہو سکیں۔ اس موقع پر کنسورشیم کے مرکزی ارکان پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم، ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی اور پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا نے کنسورشیم کی سرگرمیوں میں سرکاری اور نجی اداروں کے تعاون اور اشتراک سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ کنشورشیم کی سائنسی سرگرمیوں کے فوکل پرسن عاشق احمد خان نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق کنسورشیم کے لیے گورننگ باڈی تشکیل دی جائے۔ اجلاس میں غضنفر علی لنگاہ سابق ڈائریکٹر جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی گیری حکومت پنجاب، ڈاکٹر سلیم سرور پرنسپل انجینئر، مبارک علی سرور سربراہ آگاہی پاکستان، ڈاکٹر آصف سعید نیشنل یونیورسٹی آف کیمپوٹراینڈ انجینئرنگ سائنس لاہور نے بھی شرکت کی۔ دریں اثنا ء پروفیسر ڈاکٹر شازیہ انجم نے پروفیسر ڈاکٹر سلیم مظہر وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا اور پرو وائس چانسلر یونیورسٹی آف لاہور سے ملاقات کی اور انہیں انٹرکنسورشیم کی سرگرمیوں سے متعلق آگاہ کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر آصف نوید رانجھا اور ڈاکٹر واجد نسیم جتوئی بھی موجود تھے۔دریں اثناء کو ایس ڈی جیز اکیڈمی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے باہمی اشتراک سے پنجاب کی پہلی نیشنل SDGsکانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس موقع پر SDGS (ترقیاتی اہداف)حاصل کرنے کے ماہرین اس پر بریفنگ دیں گے۔کیونکہ ان اہداف کو مکمل کئے بغیر نہ تو ہمارا ملک ترقی کرسکتا ہے نہ ہی عوام کو سہولیات میسر ہوسکتی ہیں اسکے علاوہ دیرپا ترقی کے17 ایسے اہداف حاصل کرنے تک ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل نہیں ہوسکتے جن میں ہرطرح کی غربت کا خاتمہ،بچوں سے لے کر ہر عمر کے افراد کے لئے بہترین غذا کا اہتمام،زراعت کو فروغ اور جدید کاشت کاری طریقہ کار اختیار کرنا جن سے کم وقت میں زیادہ پیداوار اور ہر موسم اور علاقے کی فصل کی کاشت، صحت مندانہ معاشرے کو فروغ دینا،میعاری تعلیم اور عمر بھر سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا،صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا،صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا، علاقے کی صاف ستھرائی اور تعفن سے پاک کرنا،جدید توانائی تک ہر فرد کی رسائی ممکن بنانا اور فروغ دیناہے۔معاشی پیداواری صلاحیتوں کو فروغ دینا،بچوں پر مشقت اور چائلڈ لیبر کے خاتمہ کو یقینی بنانا،قدرتی آفات کے مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنا،جدید ٹیکنالوجی سے صنعتوں کو فروغ دینا، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر عدم مساوات میں کمی لانا،انسانی آبادیوں کو مقامی شراکت سے اور ممکنہ آفات سے محفوظ بنانا، پیداواری طریقوں کو بہتر بنانا، پیداواری ضیاع کو روکنا، عمدہ ماحول سے پانی مٹی اور ہوا کو کثافتوں سے پاک رکھنا،موسمیاتی تبدیلی اور اسکے اثرات سے بچنے کے اقدامات کرنا، آبی وسائل کو محفوظ بنانا، پانی کے ضیاع کو روکنا اور آلودگی سے پاک رکھنا، سمندروں کے ماحول کو صحت مند اور فائدہ مند بنانا اور انکو صاف ستھرا رکھنا،ممالک کو زمینی ماحولیاتی تبدیلیوں سے محفوظ بنانا،جنگلات کی کٹائی کو روکنا اور اس سے بڑھتے ہوئے صحراں کو روکنا اور جنگلات میں اضافہ کرنا، جنگلی حیات کا تحفظ، پہاڑوں کے قدرتی حسن کی حفاظت کو یقینی بنانا، پرامن معاشرے کا قیام،انصاف کی رسائی ہر شخص تک ممکن بنانا،قانون کی حکمرانی کو فروغ دینا،کرپشن اور رشوت کا خاتمہ،شفاف  اداروں کی ترویج، دیرپا ترقی کے لئے عالمی اشتراک کے عمل کو مستحکم و یقینی بنانا ہوگا مندرجہ بالا اقدامات کرکے ہم اپنے ملک کو باوقار پاکستان بناکر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -