مردم شماری کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا انعقاد

  مردم شماری کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا انعقاد

  

راوالپنڈی (پ ر)مشترکہ مفادات  کونسل (سی سی آئی) کے 49ویں اجلاس منعقدہ 13 جنوری 2022 میں فیصلے کے مطابق مردم شماری کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے ایک تیز، شفاف اور قابل اعتماد آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے مردم شماری کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا پہلا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا۔ڈاکٹر جہانزیب خان، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن (DCPC) کی صدارت میں قومی مردم شماریرابطہ مراکز میں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کرانے کے لیے چیلنجنگ ٹائم لائنز کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہا ہے۔ میٹنگ کا بنیادی مقصد آبادی اور ہاؤسنگ مردم شماری 2022 پر کام کی پیشرفت کا جائزہ لینا اور مردم شماری کو مکمل کرنے کی ٹائم لائن کو آسانی سے پورا کرنے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اجلاس میں تمام صوبوں اور  علاقوں کے چیف سیکرٹریز، متعلقہ سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ڈی جی ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ، چیئرمین نادرا، ایم ڈی این ٹی سی اور تعلیم، صحت، خزانہ اور پی بی ایس کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ڈاکٹر جہانزیب خان، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ مردم شماری چیلنجنگ ٹائم لائنز کے ساتھ ایک اہم  اور مشکل مشق ہے، اس لیے اس عمل میں شفافیت اور اعتماد کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر نعیم الظفر، چیف شماریات (پی بی ایس) نے پہلی بار ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے پی بی ایس کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا پس منظر بتایا اور کہاکہ اس بڑے کام کو پورا کرنے کے لیے شراکت داروں کے تعاون اور مدد کی ضرورت ہے۔ جناب محمد سرور گوندل، ممبر (سپورٹ سروسز) نے مردم شماری کے عمل سے متعلقپی بی ایس کی پیش رفت اور مسائل پیش کرکے متعلقہ محکموں کو آگاہ کیا۔ ان مسائل میں ماسٹر ٹرینرز اور تربیتی مقامات کا انتخاب، ٹرینرز اور شمار کنندگان کی تربیت، حدود کو منجمد کرنا، فریموں /نقشوں کی تصدیق کی پیشرفت، مردم شماری کے معاون مراکز کی ضروریات، فیلڈ اسٹاف کی تعیناتی اور فیلڈ اسٹاف کی سیکیورٹی وغیرہ شامل ہیں۔دیگر محکموں اور صوبوں کے شرکاء کو بھی اپنا نقطہ نظر بتانے کے لیے مدعو کیا گیا اور صوبوں کی طرف سے اٹھائے گئے تمام سوالات کو حل کیا گیا۔ 

شرکاء نے شفافیت اور رازداری لانے کے لیے پی بی ایس کی کوششوں کو سراہا اور مردم شماری کے عمل کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے ورکنگ کمیٹیاں بنانے کی تجویز دی۔ تمام چیف سیکریٹریز نے اس قومی کام کو پورا کرنے کے لیے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔یہاجلاس پی بی ایس کی ایک کوشش تھی کہ مردم شماری کی منصوبہ بندی سے لے کر نتائج کو حتمی شکل دینے تک تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے اور آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ٹائم لائنز کو پورا کیا جائے۔ صوبوں اور محکموں کے متعلقہ افراد کی موجودگی کی وجہ سے مردم شماری کے عمل سے متعلق تمام محکموں کے مسائل اور سوالات کو حل کرنے اورپی بی ایسکی پیشرفت اور ابہام کو وقت سے پہلے ہی حل کرنے کے لیے اجلاس ایک بہترین فورم ثابت ہوا۔  اجلاس  میں تربیت اور گنتی کے لیے ماہرعملہ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مردم شماری کے عمل کی موثر مانیٹرنگ کے لیے مردم شماری مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس 15 دن بعد منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

مزید :

کامرس -